جعلی بینک اکاؤنٹس کیس ، پانامہ کیس جیسی جے آئی ٹی بنا دیتے ہیں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا : چیف جسٹس

جعلی بینک اکاؤنٹس کیس ، پانامہ کیس جیسی جے آئی ٹی بنا دیتے ہیں دودھ کا دودھ ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ،مانیٹرنگ دیسک ، نیوز ایجنسیاں ) سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں آئی جی سندھ کو 2روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی، چیف جسٹس نے کہا کہ جن کے نام سے جعلی اکاؤنٹس بنائے گئے انہیں ہراساں نہ کیا جائے ، یہ چوری کا پیسہ ہے، پاکستان میں ناپاک کام نہیں ہونے چاہئیں، اگلی سماعت پر فریقین کو سن کر جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ کریں گے، وہی جے آئی ٹی بنا دیتے ہیں جو نواز شریف کے کیس میں بنائی تھی۔ جس سے دودھ کا دودھ اور پانی کاپانی ہو جائے گا۔ایف آئی اے کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اس کیس میں پوچھ گچھ کے لیے آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ کو ہفتے کے روز طلب کیا تھا لیکن بار بار طلب کرنے پر عدم پیشی کے باعث ایف آئی اے نے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن اور سابق صدر آصف زرداری، فریال تالپور کے وکیل فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر فاروق ایچ نائیک نے استدعا کی کہ عدالت مقدمے کی پبلسٹی روکے، اس پر چیف جسٹس نے مکالمہ کیا کہ اتنی پبلسٹی تو ملے گی جتنی ہم دیں گے۔فاروق نائیک نے کہاکہ ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ کا شور ڈالا ہوا ہے، پہلے دیکھا جائے کیا سرزد ہوا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ تحقیقات ہوں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ایف آئی اے کو معاملے کی انکوائری کااختیار نہیں؟جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ ان اکاؤنٹس میں جو پیسہ ہے وہ بلیک منی کا ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آسان الفاظ میں یہ پیسہ چوری کا ہے، حرام کا ناپاک پیسہ ہے، ہم اس پیسے کو ہضم کرنے نہیں دیں گے، اگر ثابت ہو گیا تو چھوڑیں گے نہیں۔فاروق نائیک نے سوال کیا کہ اگر ثابت نا ہوا تو پھر کیا ہو گا؟ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ثابت نا ہو سکا تو آپ کے موکل کو دیانت داری کا سرٹیفکیٹ دیں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ جن کے نام کیس میں آئے وہ انکوائری میں شامل ہوکر کلیئر کرائیں، ڈی جی ایف ا?ئی اے نے کسی کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنوایا تو کارروائی کریں گے۔ فاروق نائیک نے مؤقف اپنایا کہ مقدمے میں بہت سے لوگ بدنام کیے جارہے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بشیر میمن اور ان کی ٹیم نے بلاوجہ کسی پر الزام لگایا تو پاکستان میں نہیں رہیں گے، ایف آئی اے کے غلط کام کو سپورٹ نہیں کریں گے۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ہم جے آئی ٹی بنادیتے ہیں دودھ کا دودھ اور پانی کاپانی ہو جائے گا، اعتزاز احسن نے جے آئی ٹی بنانے پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ کیس پہلے ہی ٹرائل کورٹ میں چل رہا ہے، جے آئی ٹی کی کیا ضرورت ہے؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اربوں روپے کا معاملہ ہے آپ کہہ رہے ہیں ہم چھوڑ دیں، اس معاملے کو ایسے ہی چھوڑ دیں؟ جے آئی ٹی بنانے سے متعلق آئندہ سماعت پر دیکھیں گے، ایسی جے آئی ٹی بنائیں گے جیسی نواز شریف کے خلاف بنائی تھی۔عدالت نے اومنی گروپ کی اسپانسر مجید فیملی کوذاتی حیثیت میں آئندہ پیر کو طلب کرلیا۔واضح رہے کہ ایف آئی اے بے نامی اکاؤنٹ سے منی لانڈرنگ کیس میں 32 افراد کے خلاف تحقیقات کر رہی ہے جن میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور بھی شامل ہیں ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے اومنی گروپ کے مالک انورمجیدکے وکلا کے خلاف رجسٹرارکوانکوائری کاحکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پولیس کوبلائیں ان وکیلوں کیخلاف مقدمہ درج کریں، سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار ہے کہ وہ لوگوں کی کرپشن پکڑے، عوام کا پیسہ ہضم نہیں کرنے دیں گے، پاکستان میں ناپاک کام نہیں ہونے چاہئیں، جسٹس عمر عطا بندیال نے سندھ حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے کچھ کیا تو نہیں چھوڑیں گے۔ ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے عدالت کو بتایا سٹیٹ بینک نے مشکوک بینک اکا ؤ نٹس کی رپورٹ جاری کی، جس کے مطابق 29 مشکو ک اکانٹ تھے، طار ق سلطان کے 5 اکا ؤنٹس تھے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا طارق سلطان نے انکار کر دیا ہے، اکاونٹ میرے نہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا اگر اومنی گروپ نشاندہی کر رہا ہے تو اکا ؤ نٹس جعلی کیسے ہیں۔ ڈی جی ایف آئی اے نے جواب دیا تمام کے تمام 29 اکانٹس جعلی ہیں، 7 اکا ؤ نٹس میں منی لانڈرنگ کی گئی جبکہ اومنی اکاونٹس کے ذریعے رقم زرداری گروپ کو منتقل کی گئی اور فنانشنل مانیٹرنگ یونٹ نے مشکوک ٹرانزیکشنز کی نشاندہی کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہمارے پاس لسٹ آنی چاہیئے اکا ؤ نٹس کس کس کے ہیں ؟ دیکھنا ہے کہ جعلی اکا ؤ نٹس سے کس کو فائد ہ ہوا ؟ اومنی گروپ نے رقم جمع کرائی تو اکاونٹ جعلی کیسے ہوگئے ؟جس پربشیر میمن نے کہاکہ اکاونٹ ہولڈرز کو اپنے اکاونٹس کاعلم ہی نہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کیا تمام29بینک اکاونٹس جعلی ہیں ،جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آخر جعلی بینک اکاونٹس سے رقم آخر گئی کہاں؟ ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے عدالت کو آگاہ کیاکہ جعلی بینک اکاونٹس نے رقم واپس اپنے اکاونٹس میں منتقل کی گئی ۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ رقم منتقلی کی وجہ کیاہے ؟جسٹس ثاقب نے ریمارکس دیئے کہ جعلی اکاونٹس کھول کر کالا دھن جمع کرایا گیا،واضح کریں آخر رقم گئی کہاں ہے ؟ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ اربوں روپے کے سکینڈل کی تحقیقات ہونی چاہئیں، اس ملک میں ٹیکس کا بوجھ غریب پر پڑتا ہے، جعلی اکاونٹس سے کالادھن سفید ہوا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا یہ پاکستان ہے ، یہاں پر ہر معاملہ پاک ہونا چاہیے ، یہ حرام کے پیسے تھے یہ رقم جن کی بھی ہے ، ناپاک اور حرام ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے سندھ حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے کچھ کیا تو نہیں چھوڑیں گے۔بشیر میمن نے کہا کہ جعلی اکا ؤ نٹس سے ہزراوں ٹرانزکشنز ہو ئیں۔جس پرجسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ 35ارب کی ٹرانزکشنز ہو ئیں۔چیف جسٹس ثاقب نثارنے ریمارکس دیئے کہ ہمارے پاس لسٹ آنی چاہئے کہ اکا ؤ نٹس کس کس کے ہیں، دیکھناہے جعلی اکانٹس سے کس کوفائدہ ہوا۔خالدرانجھانے عدالت میں موقف اپنایاکہ اومنی گروپ کی 15 کمپنیاں ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ اومنی گروپ کے مالک انورمجیداگلے ہفتے پیش ہوں،،وکیل اومنی گروپ رضاکاظم نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انورمجیدبیمارہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ جب بھی بلایاجاتاہے ہسپتال چلے جاتے ہیں،عدالتی حکم کے بعد ہر بندہ ہسپتال ہی جا تا ہے ،ابھی معلوم کر کے بتائیں کب واپس آئیں گے ہم انہیں خود بھی لا سکتے ہیں اورانورمجید کے بیٹے کہاں ہیں؟وکیل اومنی گروپ نے کہا کہ انورمجیدکے بیٹے ملک سے باہرہیں۔چیف جسٹس ثاقب نثاربولے سب باہرہیں تووکیل کس طرح ہائرکیے گئے ۔وکیل جمشیدملک نے کہا کہ میں نے وکالت نامے پردبئی میں دستخط کرائے۔چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رضاکاظم !آپ پاکستان کے سب سے سینئروکیل ہیں، آپ کلائنٹ سے ملے نہیں،اس نے آپ کے سامنے دستخط نہیں کیے،ایسی صورتحال میں آپ کیسے نمائندگی کرسکتے ہیں، آپ کوپتہ نہیں سپریم کورٹ میں کیسے پیش ہوتے ہیں۔جس پرچیف جسٹس ثاقب نثارنے رجسٹرارکوانکوائری کاحکم دے دیااس کے ساتھ ساتھ چیف جسٹس نے عدالتی عملے کووکالت نامے چیک کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پولیس کوبلائیں ان وکیلوں کیخلاف مقدمہ درج کریں۔، فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ ایف آئی اے آصف زرداری اور فریال تالپور کو روز کیوں بلاتے ہیں، کوئی جرم ہوا ہے تو ضرور تفتیش کریں، الیکشن لڑ رہا تھا ایف آئی اے نے مجھے بھی اشتہاری قرار دے دیا، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ کے موکل بے گناہ ثابت ہوا تو نیب اور ایف آئی اے کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ ایف آئی اے کا دائرہ اختیار نہیں، سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار ہے کہ وہ لوگوں کی کرپشن پکڑے، ہم اپنی مرضی کی جے آئی ٹی بنائیں گے، یہ عوام کا پیسہ ہے، ہضم نہیں کرنے دیں گے۔ فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ آصف زرداری نے کسی جعلی اکاؤنٹ میں پیسے جمع نہیں کرائے، طارق سلطان کا اکاؤنٹس اومنی گروپ کے ملازمین نے کھولا۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ اس ملک میں ٹیکس کا بوجھ غریبوں پر ڈالا جاتا ہے، امیر لوگ تو ٹیکس سے استثنیٰ لے لیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ چوری کا پیسہ ہے، پاکستان میں ناپاک کام نہیں ہونے چاہئیں، نجی بینک کی خاتون ملازمہ نورین عدالت میں پیش ہوئیں، ملازمہ نجی بینک نے بتایا کہ میرے نام پر جعلی اکاؤنٹس کھولا گیا، سارا دن پولیس میرے گھر بیٹھی رہی، مجھے ہراساں کیا جاتا رہا، چیف جسٹس نے کہا کہ پتہ ہے کونسی پولیس نے کس تھانے میں ہراساں کیا، بینک ملازمہ نے بتایا کہ پولیس نے کہا کہ گرفتار کرنے کا حکم ہے، نرمی برت رہے ہیں، چیف جسٹس ایڈیشنل آئی جی سندھ پر برہم ہو گئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ پولیس کا اقدام درست ہونے کا جواز پیش کر رہے ہیں، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو بلا کر آپ کے خلاف انکوائری کراتے ہیں، (آج) منگل کو پورا تھانہ عدالت میں موجود ہو، بینک ملازمہ نے بتایا کہ میرے گھر تھانہ گلستان جوہر کی پولیس آئی تھی، ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ میرے نوٹس میں کل آیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میرے علم میں دو تین روز سے ہے، آئی جی سندھ اسلام آباد میں ہیں تو پیش ہوں، ملک کو پولیس اسٹیٹ بنا دیا گیا ہے، متاثرہ خاتون نے بتایا کہ نجی بینک میں کوئی اکاؤنٹ نہیں کھولا، ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ ایک ارب 7 کروڑ ان کے اکاؤنٹ سے ٹرانسفر ہوئے۔آئی جی سندھ امجد جاوید عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جن کے نام سے جعلی اکاؤنٹس بنائے گئے انہیں ہراساں نہ کیا جائے، سپریم کورٹ نے آئی جی سندھ کو دو روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا،جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی۔

مزید : صفحہ اول