نگران حکومت کی پانی کا بحران حل کرنے کیلئے کالا باغ ڈیم کی تعمیر سمیت 10تجاویز پیش

نگران حکومت کی پانی کا بحران حل کرنے کیلئے کالا باغ ڈیم کی تعمیر سمیت 10تجاویز ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ) نگران وفاقی وزیر برائے آبی وسائل علی ظفر نے پانی کے بحران کے حل کیلئے کالا باغ ڈیم کی تعمیر سمیت 10تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم بہت ضروری تھا اس پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا، ہوسکتا ہے کہ کالا باغ ڈیم پر غلط فہمی پیدا کرنے میں غیر ملکی عناصر کا ہاتھ ہو لیکن جہاں ہم کالا باغ ڈیم نہیں بنا سکے وہاں باقی ڈیم کیو ں نہیں بنے؟،آر ٹی ایس کی تحقیقات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا خط ہمیں موصول نہیں ہوا ۔نگران وفاقی وزیر برائے آبی وسائل علی ظفر نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دنیا نے پانی کی قلت والا ملک قرار دیا ہے جبکہ 2ماہ میں ہم نے پانی کے بحران کے حوالے سے بڑا غور فکر کیا ہے کیا وجہ ہے کہ ہم اس حال میں پہنچیں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ڈیموں کے نتائج 25سال بعد میں نظر آتے ہیں جبکہ نئے ڈیم نہ بننا آنے والی حکومت کیلئے بڑا چیلنج ہے کیونکہ ہمارا 90سے 95فیصد پانی زراعت کیلئے استعمال ہوتا ہے جبکہ پانی کو نہروں کے ذریعے پہنچانے کا طریقہ ہے اورنہروں سے 48فیصد پانی ضائع ہوجاتا ہے اگر نہروں کی لائننگ کردیں تو پانی بچا سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم پینے والا پانی سیوریج کیلئے بھی استعمال کرتے ہیں۔ پانی کیلئے ترقیاتی بجٹ سے صرف 3سے 7فیصد مختص کیا جاتا ہے جو ہمیں تبدیل کرنا پڑے گا۔ ایک سوال کے جواب پر انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو واپس کرنا ممکن نہیں ، معاہدے کو چیلنج کرنا ہمارے حق اور فائدے میں نہیں ہے۔۔وزیراعظم کے حلف کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ 15اگست تک ہوئے جائے گا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد پارلیمنٹ کا اجلاس بلا سکتے ہیں۔ اسمبلی کی حلف برداری کیلئے 15اگست سے آگے نہیں جاسکتے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے آرٹی ایس کی تحقیقات کیلئے لکھے گئے خط کے حوالے سے سوال جواب میں علی ظفر نے کہا کہ ہمیں ابھی تک وہ خط موصول نہیں ہوا ابھی تک تو خط کے بارے میں سنا ہے اگر الیکشن کمیشن قانون کے تحت ہدایت دیتا ہیں ہم کمیشن بنا لیں گے۔

تجاویز پیش

مزید : صفحہ اول