تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے تعلقات مستقبل میں کیا رخ اختیار کرینگے ؟

تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے تعلقات مستقبل میں کیا رخ اختیار کرینگے ؟
تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے تعلقات مستقبل میں کیا رخ اختیار کرینگے ؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تجزیہ:۔ قدرت اللہ چودھری

سہولت کی یہ شادی جب تک بھی چلے، چلے گی تو اسی طرح سے جس طرح ایسی پہلی شادیاں چلتی رہی ہیں، کیونکہ یہ کوئی پہلی شادی تو ہے نہیں، ایسی شادیاں پہلے بھی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کے ساتھ ہو چکی ہیں، ان پر اگر ایک نگاہ واپسیں ڈالی جائے تو پوری کہانی سمجھ آ جائیگی ایم کیو ایم جب متحد تھی تو پیپلزپارٹی کی حکومتوں میں بھی شامل رہی اور مسلم لیگ کے ساتھ بھی شریک اقتدار رہی لیکن کسی نہ کسی وجہ سے یہ اتحاد ختم ہوتا رہا، اس کی وجوہ متنوع قسم کی ہو سکتی ہیں، بلکہ بعض اوقات تو کسی وجہ کے بغیر بھی ایم کیو ایم روٹھ کر حکومت سے الگ ہو جاتی رہی، وزارتوں سے استعفے دے دیئے اور پھر جلد یا بدیر مان بھی گئی، پیپلزپارٹی نے اس کار خیر کے لئے اپنے وزیر داخلہ عبدالرحمان ملک کو رکھا ہوا تھا، جب صلح کی مقامی کوششیں کامیاب نہ ہوتیں تو وہ لندن جاتے اور پھر چند دن بعد ایم کیو ایم کو ایڈوائس آ جاتی کہ پرانی تنخواہ پر کام کرتے رہیں اور وہ کسی چوں چرا کے بغیر ایسا کر دیتی ایک بار ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے کہ صوبائی وزیر داخلہ ہوتے تھے قرآن اٹھا کر کچھ کڑوے سچ بول دئے تھے اس سے بھی متحدہ کا تو کچھ نہ بگڑا البتہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی وزارت بھی گئی اور آصف علی زرداری کے ساتھ عشروں کی دوستی بھی ختم ہو گئی، غالب نے بھی ایسی جسارت کی تھی تو انہیں بھی بزم ناز سے نکال دیا گیا تھا، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا بھی اسی طرح دوستی کے کوچے سے باہر نکل گئے البتہ وہ خاطر غزنوی کے الفاظ میں کہہ سکتے ہیں۔

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے

اب ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے راستے بھی الگ ہیں اور ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے بھی، اب کی بار وہ اگرچہ قومی اسمبلی کی نشست سے ہار گئے ہیں تاہم ان کی بیگم ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے پانچویں بار جیت کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔

پرانی ایم کیو ایم اور جدید ایم کیو ایم میں ایک جوہری فرق ہے، جو لوگ اب بھی پرانی ایم کیو ایم کا دم بھرتے ہیں انہوں نے ایم کیو ایم لندن بنا رکھی ہے، جبکہ نئی ایم کیو ایم نے اپنے نام کے ساتھ پاکستان کا لاحقہ لگا لیا ہے، ایم کیو ایم سے نکلنے والا ایک گروہ مصطفےٰ کمال کی قیادت میں پاک سر زمین پارٹی کے نام سے کام کر رہا ہے لیکن اس الیکشن میں یہ پارٹی تو وائٹ واش ہو گئی البتہ ایم کیو ایم پاکستان کے پاس اب بھی چھ نشستیں ہیں ویسے تو یہ زیادہ نہیں لیکن جس صورتحال سے تحریک انصاف دوچار ہے ایسی کیفیت میں یہ چھ نشستیں بھی بڑی فیصلہ کن ہیں، نہ جانے جہانگیر ترین نے کتنی کوششوں سے ایم کیو ایم(پ) کو تحریک انصاف کا ساتھ دینے پر راضی کیا تھا لیکن کراچی ڈویژن کے صدر فردوس شمیم نقوی نے ایسے وقت سچ بول دیا جب دروغِ مصلحت آمیز کی ضرورت تھی، ستم ظریفی یہ ہوئی کہ جب اس پر احتجاج ہوا تو انہوں نے دوبارہ کہہ دیا کچھ غلط نہیں کیا، سچ ہی تو بولا ہے لیکن یہ ایسا سچ ہے کہ اگر ایم کیو ایم ابھی سے بگڑ جائے تو حکومت کی بات بھی بنتے بنتے بگڑ سکتی ہے، اسی لئے قیادت نے فردوس کی جواب طلبی بھی کر لی ہے، دیکھیں وہ قیادت کو سچا جواب دیتے ہیں یا اپنے حق میں کوئی ایسی دلیل گھڑتے ہیں جو بھلے سے سچی نہ ہو لیکن موقع کی مناسبت سے کام آ سکتی ہو، خیر یہ تو تحریک انصاف کے گھر کا معاملہ ہے وہ چاہے تو فردوس نقوی کو ڈاکٹر ذوالفقار مرزا بنا دے اور نہ چاہے تو سارے معاملے پر مٹی ڈال دے، لیکن اتنا تو طے ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان تازہ قائم ہونے والے یہ تعلقات ہمیشہ اونچ نیچ کا شکار رہیں گے اس لئے بہتر یہی ہے کہ جس طرح پیپلزپارٹی نے عبدالرحمٰن ملک کو مستقلاً یہ فرض تفویض کر رکھا تھا کہ جب بھی متحد ناراض ہو وہ اسے منانے کا مشن خود کار طریقے سے سنبھال لیں اور منا کر ہی دم لیں، تحریک انصاف کو بھی کوئی ایسا فل ٹائم بندہ اس کام پر متعین کرنا ہو گا۔جہانگیر ترین یہ کام خوش اسلوبی سے کر سکتے ہیں لیکن ان کے ذمے چونکہ اور بھی بہت سے فرائض ہوں گے اس لئے انہیں شاید روٹھے ہوؤں کو منانے کی زیادہ فرصت نہ ملے ویسے ان کا کام ملک صاحب کی نسبت آسان ہے انہیں تو بھاگم بھاگ لندن جانا پڑتا تھا، تحریک انصاف اپنے جس رہنما کو بھی اس کام کے لئے مختص کرتی ہے اسے تو زیادہ سے زیادہ کراچی تک ہی جانا پڑے گا۔کیونکہ متحدہ پاکستان کی ساری اعلیٰ قیادت یہیں ہے لیکن ہمارا مخلفانہ مشورہ ہے کہ یہ کام شمیم نقوی کے سپرد ہرگز نہ کیا جائے ورنہ وہ بنا بنایا کھیل بگاڑ بھی سکتے ہیں اور اس جج کی طرح کا کردار ادا کر سکتے ہیں جن سے شکایت تھی کہ وہ بات بات پر گالی دیتے ہیں اس شکایت کا نوٹس لیا گیا اور استفسار کیا گیا تو انہوں نے گالی دے کر کہا کہ کون کہتا ہے میں گالیاں دیتا ہوں، شمیم نقوی کے سپرد یہ کام کیا گیا تو وہ صرف یہی کہیں گے کہ انہوں نے جو کچھ کہا اس میں غلط کچھ نہیں، تاہم چونکہ ہمیں اس وقت ایم کیو ایم کی حمایت درکار ہے اس لئے ہم پرانی باتیں نہیں دہرائیں گے۔

تعلقات

مزید : تجزیہ