ڈولفن ، پیرو اور محافظ فورس بھی ناکام ، جرائم کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ

ڈولفن ، پیرو اور محافظ فورس بھی ناکام ، جرائم کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ

لاہور(لیاقت کھرل) صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھرمیں رواں سال کے دوران جرائم کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ، پولیس کے شعبہ میں اصلاحات ،ڈولفن فورس، پیرو سکواڈ سمیت محافظ فورس اور کوئیک رسپانس یونٹ جیسے شعبے بنانے کے باوجود گزشتہ 7 ماہ کے دوران امن و امان کی صورتحال انتہائی ناقص رہی ہے ۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق رواں سال کے دوران لاہور سمیت پنجاب بھر میں 2009 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے اور اس میں 50 افراد کو اجرتی قاتلوں کے ہاتھوں قتل کروایا گیا ہے جس میں 509مقدمات کی تفتیش میں پولیس ملزمان تک نہیں پ ہنچ سکی ہے۔ اسی طرح لاہور سمیت صوبے بھر میں رواں سال کے دوران اغوا برائے تاوان اور اغوا کے واقعات میں تیزی رہی ہے جس میں 7901 شہریوں کو اغوا کیا گیا جس میں 301 شہریوں کو کروڑوں روپے تاوان کے لئے اغوا کیا گیا اور پولیس کسی بڑے گروہ کے ارکان تک نہ پہنچ سکی۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق لاہور سمیت پنجاب بھر کے تھانوں میں فرنٹ ڈیسک قائم ہونے کے باوجود شہریوں کی درخواستوں پر مقدمات درج نہیں ہو سکے ہیں اور رواں سال کے دوران لاہور سمیت پنجاب بھر کے تھانوں میں 3 لاکھ 116 شہریوں نے مقدمات کے اندراج کے لئے رجوع کیا اور پولیس نے 2 لاکھ 391 شہریوں کی درخواستوں پر مقدمات درج کئے ہیں جس میں رواں سال کے دوران کم سن بچوں اور بچیوں سمیت خواتین کے ساتھ سب سے زیادہ 1709 بداخلاقی کے واقعات پیش آئے ہیں اور پولیس تمام تر جدید سہولتوں کے باوجود 381 واقعات میں ملزمان تک نہیں پہنچ سکی ہے۔ اسی طرح لاہور سمیت پنجاب بھر میں رواں سال کے دوران ڈاکوؤں اورراہزنوں کی وارداتوں میں تیزی رہی ہے۔ ڈاکوؤں اور راہزنوں نے رواں سال کے دوران 9 ہزار تین سو اکیانوے شہریوں کو کروڑوں روپے کے قیمتی مال، زیورات اور کرپشن سے محروم کیا اور مزاحمت پر 50 افراد کوموت کے گھاٹ جبکہ 311 افراد کو زخمی کیااور پولیس نے 6 ہزار چار سو شہریوں کی درخواستوں پرمقدمات درج کئے جس میں پولیس 3 ہزار 119 واقعات میں ملزمان کا سراغ لگانے میں ناکام رہی ہے اور اس میں سی آئی اے اورتفتیشی ونگ سمیت تھانوں کی پولیس محض ’’ خانہ پُری ‘‘ کے طورپر گینگز کی گرفتاری کا دعویٰ کرتی رہی ہے۔ اسی طرح لاہور سمیت فیصل آباد، راولپنڈی، سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور ساہیوال میں نوسر بازی کے واقعات زیادہ رونما ہوئے ہیں جس میں پولیس نے لاہور سمیت پنجاب بھر میں 9 ہزار 192 شہریوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات میں سے 5ہزار 792 افرادکی درخواستوں پر مقدمات درج کئے۔ اس کے باوجود پولیس درج مقدمات میں صرف 25 فیصد ملزمان کا سراغ لگانے میں کامیاب رہی۔ اسی طرح لاہور سمیت پنجاب بھرمیں موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں چوری اور چھیننے کے واقعات میں بھی گزشتہ سال 2017 کے پہلے سات ماہ کی نسبت رواں سال میں تیزی رہی ہے جس میں 11 ہزار سے زائد شہریوں کو اربوں روپے مالیت کی قیمتی گاڑیوں سے محروم کیا گیا اس میں سب سے زیادہ لاہور میں گاڑیاں چوری اورچھیننے کے واقعات رونما ہوئے جس میں پولیس نے 8 ہزار 301 مقدمات درج کئے اور اس مقصد کے لئے الگ شعبہ اے وی ایل ایس قائم کرنے کے باوجود یہ شعبہ کسی بڑے کار چور تک نہ پہنچ سکا۔ اسی طرح لاہور کے گردونواح اوکاڑہ، قصور، ساہیوال، فیصل آباد اور شیخوپورہ کے ساتھ ساتھ گوجرانوالہ ڈویژن میں مویشی چوری کی وارداتوں میں بھی تیزی رہی جس میں پولیس نے 7 ہزار سے زائد درخواستوں پر کارروائی تک نہ کی جبکہ 2 ہزار 900 درخواستوں پر مقدمات درج کرنے کے باوجود پولیس صوبے کو مویشی چوری سے پاک اور محفوظ بنانے میں ناکام رہی۔ اس حوالے سے پنجاب پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ لاہور سمیت پنجاب بھر میں گزشتہ سال 2017 کی نسبت سال 2018 کے سات ماہ میں واقعات میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا ہے ۔ لاہور میں ڈولفن اور پیرو سکواڈ سے واقعات میں 35 سے 40 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ دیگر اضلاع میں بھی امن و امان سمیت سنگین واقعات کنٹرول میں رہے ہیں۔

مزید : علاقائی