حکومت کیمیکل انڈسٹری کو پہلے100 دنوں کے ترقیاتی منصوبہ کا حصہ بنائے

حکومت کیمیکل انڈسٹری کو پہلے100 دنوں کے ترقیاتی منصوبہ کا حصہ بنائے

لاہور(کامرس رپورٹر)پاکستان کیمیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن ( پی سی ایم اے) نے نو منتخب حکومت کے پالیسی سازوں سے اپیل کی ہے کیمیکل انڈسٹری کو اپنے پہلے سو دنوں کے ترقیاتی منصوبہ کا حصہ بنائیں اور اس ضمن میں بیرونی سرمایہ کاروں کی طرف سے موصول شدہ پیشکشوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ایک ہنگامی ٹاسک فورس تشکیل دی جائے۔ پی سی ایم اے کے سیکرٹری جنرل اقبال قدوائی نے بتا یا کہ اس ضممن میں چین اور یو اے ای کے بڑے سرمایہ کار گروپوں کے بعد اب جنوبی کوریا کی معروف کمپنی ’’ لوٹے کیمیکل‘‘ نے بھی پاکستان میں پیٹر و کیمیکل کمپلیکس کے میگا پراجیکٹ کی تشکیل میں سرمایہ کاری کی پیشکش کر دی ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں سیول میں پاکستانی سفارتخانہ کے کمرشکل قونصلر عدنان اقبال کی کاوش کو سراہا ہے کہ انہوں نے لوٹے کیمیکل کی ٹاپ مینجمنٹ سے ملاقات کر کے انہیں پی سی ایم اے کی طرف سے متذکرہ منصوبے سے متعلق فراہم کر دہ معلومات بہم پہنچائیں تھیں۔ اقبال قدوائی نے کہاکہ پی سی ایم اے اپنے قیام س سے لیکر آج تک اہم سرکاری ، نجی اور عالمی فورموں پر پاکستان میں کروڈ نیفتھا پیٹرو کیمیکل کمپلیکس کی ضرورت کو اجاگر کر تی چلی رہی ہے جس کے نتیجے میں اب چین سمیت دیگر ممالک کی سرمایہ کار کمپنیاں نے مذکورہ منصوبے میں اشتراک عمل کا عندیہ دے دیا ہے۔

اور پی سی ایم اے کے ممبرز بھی بیرونی سرمایہ کاروں کے ساتھ ملکر اس مقصد کیلئے مشترکہ سرمایہ کاری کی تیاری کر رہے ہیں اس صورتحال میں ہم نو منتخب حکومت سے پر امید ہیں کہ وہ اس منصوبے کو اپنی اولیں ترجیحات میں شامل کر کے اقتصادی ترقی کا ایک نیا باب کھولے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں متعلقہ سٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل د ی جانی چاہیے تاکہ پاکستان کی کیمیکل انڈسٹری درآمدات پر انحصار کی بجائے برآمدی منڈیوں میں داخل ہوکر عالمی تجارت کا حصہ بن سکے۔اقبال قدوائی نے بتا یا کہ اس وقت پاکستان ہر سال تقریباََ 14؍ ارب ڈالر کے کیمیکلز دوسرے ملکوں سے درآمد کر رہا ہے جس کی وجہ سے ہمارے درآمد ی بل کا تقریباََ 17فیصدی حصہ صرف کیمیکلز کی دراآمدات سے متعلق ہے، جس میں ہر سال 7فیصدکی شرح سے اضافہ ہو تا چلا جا رہاہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ مقامی کیمیکل انڈسٹری میں چند برسوں سے خاصی ترقی ہوئی ہے اور یہ سوڈا ایش، کاسٹک سوڈا، سلفیورک ایسڈاور کلورین جیسی متعدد غیر نامیاتی کیمیائی مصنوعات تیار کر رہی ہے۔ مگر ہماری کیمیکل انڈسٹری ملک میں پیٹروکیمیکل کمپلیکس کی عدم موجودگی کی وجہ سے پیٹروکیمیکل کی ویلیو ایڈد منصوعات بنانے کی سکت سے محروم ہے۔ انہوں نے بتا یا کہ پیٹروکیمیکل کمپلیکس کی ٹیکنالوجی سے متعدد ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک ، خام کیمیائی مواد سے سینکڑوں ہائی ویلیو کیمیکلز تیار کر کے عالمی منڈیوں سے کثیر زر مبادلہ کما رہے ہیں۔ بھار ت میں پہلا پیٹروکمییکل کریکر کمپلیکس 1992 میں لگایاگیا تھا جبکہ اس وقت وہاں آٹھ پیٹروکمیکل کمپلیکس ہیں۔ایران میں ایسے 7، سنگاپور میں 5، ایران میں سات اور سعودی عرب میں 12 پیٹرو کیمیکل کمپلیکس قائم ہیں جبکہ پاکستان میں ابھی تک ایک بھی کیمیکل کمپلیکس قائم نہیں ہو سکا۔ انہوں نے بتا یا کہ دیگر ممالک میں مذکورہ کمپلیکس کی تعمیر و تنصیب کا عمل حکومتوں کی طرف سے شروع کیا گیا۔ مگر پاکستان میں بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود سابقہ حکومت کی طرف سے اس جانب کوئی عملی قدم نہیں اٹھا یا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ نجی شعبہ اور عالمی سرمایہ کار ملکر پاکستان میں پیٹروکیمیککل کمپلیکس کی تعمیر کا منصوبہ تشکیل دینے پر راضی ہوگئے ہیں۔ نئی قیادت کو چاہیے کہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اپنے پالیسی سازوں کو خصوصی ہدایات جاری فرمائے۔

مزید : کامرس