وفاقی و علاقائی چیمبر کی اسد عمر کی ولولہ انگیز اقتصادی پالیسی کی تعریف

وفاقی و علاقائی چیمبر کی اسد عمر کی ولولہ انگیز اقتصادی پالیسی کی تعریف

لاہور(کامرس رپورٹر) وفاقی اور تمام علاقائی چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے متوقع نئے وزیر خزانہ اسد عمر کی ولولہ انگیز اقتصادی پالیسی کو سراہا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ وہ اقتصادی بحالی کے قومی ایجنڈے کے لیے پالیسی سازی کے دوران کاروباری برادری کو اعتماد میں لیں گے۔تاجر برادری نے کہا کہ وہ ملک میں اقتصادی ترقی کے فروغ کے لیے ہرسطح پر حکومت کے ساتھ تعاون کرے گی۔سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر اور یونائٹڈ بزنس گروپ کے چیئرمین افتخار علی ملک نے پیر کے روز اسد عمر کی خیریت دریافت کی جو گزشتہ روز انتخابات میں اپنی کامیابی کے سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران گھوڑے سے گر کر زخمی ہوگئے تھے جس میں ان کے پاؤں پر چوٹ آئی تھی۔افتخار علی ملک نے اسد عمر سے کہا کہ وہ تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے کاروبار دوست پالیسیوں کے متمنی ہیں، توقع ہے کہ نئے وزیر خزانہ اقتصادی بحالی کے لیے بھرپورکوشش کریں گے اور تفریط زر کی صورتحال سے چھٹکارا دلائیں گے۔ اسد عمر کے ساتھ علیحدہ ملاقات کے دوران افتخار علی ملک نے انھیں یقین دلایا کہ ملک بھر کی کاروباری برادری اپنے مفادات کا سودا کیے بغیر تحریک انصاف کی حکومت سے تعاون کرے گی۔افتخار علی ملک نے بتایا کہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ کاروبار دوست ماحول کے ذریعے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ترجیحی بنیادوں پر بھرپور کوششیں کی جائیں گی۔اسد عمر نے کہا کہ تحریک انصاف نے ملک کو درپیش اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک جامع منصوبہ بنایا ہے ، حکومت کاروباری برادری سے تجاویز کے حصول کے بعد اقتصادی کونسل اور بزنس ایڈوائزری کونسل کے نام سے دو باڈیز قائم کرے گی تاکہ ملک کو درپیش اقتصادی مسائل کو حل کیا جاسکے ۔انھوں نے اپنی پارٹی کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ قومی سلامتی کے معاملات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ قومی معیشت میں حکومت کا کردار سہولت کار کا ہے جبکہ نجی شعبے کو ملکی معیشت کی بحالی اور اس کے فروغ کے لیے وسیع تر کردار ادا کرنا ہوگا۔اسد عمر نے کہا کہ اس وقت حکومت کے زیر انتظام 200 ایسے ادارے ہیں جو بدانتظامی، اپنی سیاست پر مبنی قیادت اور بیمار ڈھانچہ سازی کے باعث ملکی خزانے پر 650 ارب روپے کا بوجھ ڈالتے ہیں، ان اداروں سے چھٹکارا حاصل کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف ایک ویلتھ فنڈ کے قیام کی منصوبہ بندی کررہی ہے جس کے حوالے ان اداروں کو کیا جاسکے اور جو ان اداروں کی نئی سرے سے ڈھانچہ سازی کے لیے پیشہ ورانہ انتظامیہ کی خدمات حاصل کرسکے۔

مزید : کامرس