ایران کیخلاف نئی امریکی پابندیوں کا آغاز ، ٹرمپ انتظامیہ پچھتائے گی : حسن روحانی

ایران کیخلاف نئی امریکی پابندیوں کا آغاز ، ٹرمپ انتظامیہ پچھتائے گی : حسن ...

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں ) امریکا نے ایران پر ایک بار پھر اقتصادی پابندیاں عائد کردیں جن کا اطلاق گزشتہ رات سے ہوگیا، ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران سے نیا جوہری معاہدہ کیا جائے گا جس کے لیے امریکا تیار ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر دوبارہ معاشی پابندیاں عائد کردی ہیں جن کا مقصد ایران کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔ ایران پر پابندیوں کا اطلاق کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی حکومت پر معاشی دباؤ برقرار رکھیں گے جس کا مقصد ایرانی حکومت سے ایک نیا اور موثر جوہری معاہدہ کرنا ہے جس کے ذریعے ایران کی تخریبی کارروائیاں ختم کی جاسکیں جن میں اس کا بیلسٹک میزائل پروگرام اور دہشت گردوں کی سہولت کاری شامل ہیں۔ٹرمپ نے ایران پر دو مرحلوں میں معاشی پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے پہلا مرحلہ منگل سے شروع ہوگیا ہے جب کہ پابندیوں کا دوسرا مرحلہ پانچ نومبر سے شروع ہوگا۔دوسری جانب ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ امریکا کا معاشی پابندیوں کے ساتھ مذاکرات کی دعوت دینا سمجھ سے بالاتر ہے، امریکا ایران کو تقسیم کرکے خانہ جنگی کرانا چاہتا ہے۔معاشی پابندی کے امریکی اعلان کے بعد سرکاری ٹیلی ویڑن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے حسن روحانی نے کہا کہ امریکا ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ چاہتا ہے اور وہ ایران کے لوگوں کو تقسیم کررہا ہے۔ایرانی صدر نے کہا کہ واشنگٹن انتظامیہ پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا امریکا ایران میں انتشار اور افراتفری پیدا کرنا چاہتا ہے، امریکا مذاکرات کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ اسی وقت پابندیاں بھی لگا رہا ہے، مذاکرات کے ساتھ پابندیاں سمجھ سے بالاتر ہیں، امریکا یہ پابندیاں ایرانی بچوں،مریضوں اور ایرانی قوم پر عائد کررہا ہے۔حسن روحانی نے کہا کہ ہم نے بات چیت کے عمل کا ہمیشہ خیر مقدم کیا لیکن امریکا کو پہلے خود کو قابل اعتبار ظاہر کرنا ہوگا۔ ایرانی صدر نے خدشہ ظاہر کیا کہ منگل کی رات سے پابندیاں شروع ہونے پر جان بچانے والی ادویات کی فراہمی متاثر ہوگی صدر حسن روحانی نے کہاہے کہ امریکہ ایران پر پابندیاں لگا کر پچھتائے گا ،ٹرمپ انتظامیہ پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا امریکہ کے ساتھ اب جوہری معاملے پر مذاکرات کا سوال ہی بیدا نہیں ہوتا۔

امریکی پابندیاں

مزید : کامرس