بحران کے بعد دوسرے شہروں سے سٹیمپ پیپرز لا کر لیہ میں فروخت کرنیکا انکشاف

بحران کے بعد دوسرے شہروں سے سٹیمپ پیپرز لا کر لیہ میں فروخت کرنیکا انکشاف

چوک اعظم (نامہ نگار)سٹیمپ نایاب ہونے شہری مشکلات کا شکار ہوگئے تفصیلات کے مطابق لیہ میں 10 ، 20 ، پچاس اور 100 روپے مالیتی سٹیمپ نایاب ہونے پر سرکاری معاملات میں بحرانی کیفیت کا سامنا ہے ۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق لیہ میں گذشتہ کئی ماہ سے مذکورہ سٹیمپ پیپرز کی نایابی کے باعث امور کی انجام دہی میں سرکاری اداروں کو بھی مشکلات درپیش ہیں ۔ 500 اور ہزار والے سٹیمپ کی دستیابی پر 500 روپے مالیتی سٹیمپ پیپر اکاؤنٹ آفس(بقیہ نمبر47صفحہ12پر )

کے سرکاری خزانہ جبکہ ہزار روپے کے سٹیمپ پیپر پنجاب بنک کے توسط سے جاری کئے جارہے ہیں جبکہ نایاب سٹیمپ پیپرز کو غیر قانونی طور پر بیرون ضلع سے لا کر لیہ کے سٹیمپ فروش زیر استعمال لارہے ہیں اور فروختگی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ سٹیمپ پیپرز نہ صرف رجسٹری برانچ بلکہ تحصیل آفس میں بھی باقاعدہ استعمال کئے جارہے ہیں جن کے سیریل نمبر بیرون ضلع کے جاری کردہ ہیں ، بیرون ضلع کے ان سٹیمپ پیپرز پر زرعی بنکس کی جانب سے بھی زمینیں رہن رکھنے جانے اور لوگوں کو بھاری قرضے دیئے جانیکا بھی معاملہ سامنے آیا ہے ، ایڈووکیٹ عنایت اللہ کاشف ، نیئر عباس کاظمی ، شیخ جاوید اختر ، اخلاق احمد ڈوگر ، نوید احمد گجر ، عبدالستار علوی ودیگر قانونی ماہرین نے بیرون ضلع کے سٹیمپ پیپرز کی لیہ میں فروخت کو غیر قانونی قرار دیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ لیہ میں وہی سٹیمپ فروخت کیا جاسکتا ہے جو کہ لیہ اکاؤنٹ آفس کے سرکاری خزانے سے جاری شدہ ہو اور مذکورہ سیریل لیہ ضلع کے کھاتے میں رجسٹرڈ ہو ، قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ ایسے سٹیمپ جو کہ بیرون ضلع رجسٹرڈ ہیں وہ لیہ کے سرکاری امور میں استعمال نہیں کئے جاسکتے اور ان کا استعمال غیر قانونی ہوگا ۔ رابطے پر ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر داؤد احمد بزدار نے بھی اس قانونی نقطے کی تصدیق کی ، ان کا کہنا تھا کہ سٹیمپ کی نایابی پر ایسی شکایات سامنے آرہی ہیں تاہم ضلعی انتظامیہ اس کی جوابدہ ہے ۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اسٹامپ پیپر کے پرنٹ نہ ہونے پر لیہ میں کمیابی کا سامنا ہے اور اس ضمن میں ڈپٹی کمشنر آفس کے علاوہ حکام بالا کو بھی بار بار چٹھیاں تحریر کی جاچکی ہیں لیکن معاملات درست نہیں ہورہے ۔ انہوں نے بتایا کہ صورتحال پر قابو پانے کیلئے انہوں نے 50 اور 100 روپے مالیت کے دو ہزار اسٹامپ بیرون ضلع سے منگوائے تاہم انہیں لیہ کی سیریل کے تحت رجسٹرڈ کیا گیا اور ان کی فروختگی عمل میں لائی گئی ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے سٹیمپ جو لیہ اکاؤنٹ آفس سے رجسٹرڈ شدہ ہونگے وہ قانونی کہلائیں گے جبکہ بیرون ضلع سے سٹیمپ فروش کی جانب سے از خود منگوائے اور فروخت کئے گئے سٹیمپ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور مذکورہ اسٹامپ پر ہونیوالی سرکاری کارروائی بھی غیر قانونی شمار ہوگی ۔ اکاؤنٹ آفیسر کا کہنا تھا کہ اسٹامپ کی دستیابی ان کے دائرہ اختیار میں نہیں وہ اداروں کو یادداشتی لیٹر ہی تحریر کرسکتے ہیں جو مسلسل کئے جارہے ہیں ۔

سٹیمپ پیپرز

مزید : ملتان صفحہ آخر