ہندوؤں اور سکھوں کے شر سے نہ بچ سکے : محمد شاہ

ہندوؤں اور سکھوں کے شر سے نہ بچ سکے : محمد شاہ

ملتان (سٹی رپورٹر)قیام پاکستان کے بعد ریاست علور تحصیل تجارا سے ہجرت کر کے پاکستان آنیوالے 90سالہ بزرگ محمد شاہ نے ’’پاکستان‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب پاکستان بنا تو میری عمر تقریباً 18سال تھی جب تحریک پاکستان کا آغاز ہوا تو کسی کو بھی یقین نہیں تھا کہ پاکستان معرض وجود میں آ جائیگا ہندوؤں مسلمانوں کو یقین نہیں تھا کہ جس تحریک کا آغاز قائداعظم محمد علی جناح نے شروع کیا ہے اس کا اختتام ایک آزاد اسلامی ریاست پاکستان کی شکل (بقیہ نمبر31صفحہ12پر )

میں اختتام پذیر ہو گا۔انہوں نے کہا کہ جیسے ہی تحریک شروع ہوئی تو ہندو مسلم فسادات شروع ہو گئے اور مسلمانوں کا گھیرا تنگ کر دیا گیا بالاآخر اعلان ہوا کہ تمام مسلمان ہجرت کریں اور پاکستان روانہ ہوجائیں اعلان ہوتے ہی ہندوؤں اور سکھوں نے مسلمانوں کی بستیوں میں آگ لگا دی اور ہم وہاں سے مزید وقت ضائع کیے بغیر اپنی جان بچاتے ہوئے تمام اہل و عیال کے ساتھ نکل پڑے اور ضلع گلگاواں میں پناہ گزیر ہوئے تقریباً 3مہینے وہاں رہے لیکن وہاں بھی ہندوؤں اور سکھوں کے شر سے نہ بچ سکے اس دوران ہمیں گاڑیاں مہیاکی گئیں اور ہم تمام اہل و عیال اور دیگر مسلمانوں سمیت وہاں سے روانہ ہوئے لیکن دوران سفر بھی ہندوؤں اور سکھوں نے ہماری گاڑیوں حملہ کر دیا اور سب سے پہلی گاڑی میں جتنے بھی ابن آدم تھے سب کو ایک ایک کر کے ذبحہ کرنا شروع کر دیا اس ظلم و بربریت کو دیکھتے ہی ہم وہاں سے بھاگ نکلے اورہمیں تقریباً 3دن لگ گئے پاکستان کا بارڈر پار کرنے میں اس دوران ہمارے پاس کھانے کیلئے صرف چھولے تھے جو دوران ہجرت ہم اپنے گھر سے اٹھا سکے اس کے علاوہ تمام مال مویشی و دیگر سامان وہی چھوڑ آئے ویسے تو ان قیامت خیز مناظر کو دیکھ کر ہمیں بھوک پیاس تو جیسے بھول گئی تھی پھر بھی بچوں اور مستوارات نے ان چھولوں اور پانی سے گزارا کیا اس طرح اپنی جان بچانے میں کامیاب ہو گئے اور پاکستان کا بارڈر پا ر کر کے ہم نے شکرانے کے نوافل ادا کیے اور تقریباً 6ماہ لاہور میں رہے اس کے بعد ہم تمام اہل و عیال کے ساتھ ملتان آئے اور تقریباً 16دن یہاں گزارے تو پھر ہمیں تحصیل شجاع آباد بھیج دیا گیا جس پر ہم نے اسٹیشن شجاع آباد اپنے خیمے نصب کیے اور ہمیں کہا گیا کہ آپ اپنی مستقل رہائش کا انتخاب کریں تو اس پر ہم نے مختلف جگہوں کا معائنہ کیا مگر ہمیں موضع خان پور قاضیاں میں بستی خان پور اچھی لگی اور ہم یہاں مستقبل رپائش پذیر ہوئے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہو ں نے کہاہجرت کے وقت ہمیں جتنا دکھ تھا کہ ہمیں اپنے آباؤ اجداد کے علاقہ کو چھوڑ کر پاکستان جانا پڑ رہا ہے مگر اس سے کہیں زیادہ خوشی یہ تھی کہ پاکستان ایک مسلم ملک بن رہا ہے وہاں ہمیں ہر قسم کی آزادی نصیب ہو گی آخر میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں جتنی بھی حکومتیں گزری ہیں ان سب میں سے ذوالفقار علی بھٹو نے نمایاں کام کئیے اور غریب پرور ٹھہرے۔ آنے والی حکومت بارے یہ میسج دیا کہ خدارا یہ پاکستان ہماری دی گئی قربانیوں کا نتیجہ ہے لہذا اس کی حفاظت کو یقینی بنائے اور عوام سے کئیے گئے وعدوں پر عمل پیرا رہے اگر ایسا حکومت نہ کر سکی تو عوام اس کے ساتھ بھی وہی کرے گی جو نواز شریف کے ساتھ ہوا ہے ۔

آزادی کے چراغ

مزید : ملتان صفحہ آخر