عمران خان وزارت عظمی کے امید وار نازمد ، تبدیلی نہ لاسکے تو ہمارا حشر بھی اے این پی ، ایم ایم اے جیسا ہو گا : چیئر مین تحریک انصاف

عمران خان وزارت عظمی کے امید وار نازمد ، تبدیلی نہ لاسکے تو ہمارا حشر بھی اے ...

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں)تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی نے عمران خان کو وزیراعظم کا باضابطہ امیدوار نامزد کردیا۔عام انتخابات میں واضح اکثریت کے بعد تحریک انصاف وفاق میں حکومت سازی کے لیے مصروف ہے اور اس سلسلے میں اسے آزاد امیدواروں سمیت ایم کیوایم اور (ق) لیگ کی حمایت بھی مل چکی ہے۔اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی زیرصدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس کے آغاز پر پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے پہلے الیکشن میں کامیابی پر پارٹی رہنماؤں کو مبارکباد دی۔شاہ محمود قریشی نے عمران خان کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کرنے کی تحریک پیش کی جسے منظور کرتے ہوئے انہیں وزیراعظم کا امیدوار نامزد کیا گیا۔عمران خان کو وزیراعظم کا امیدوار نامزد ہونے کے بعد پارلیمانی پارٹی کے تمام اراکین نے کھڑے ہوکر تالیاں بجائیں اور پارٹی چیئرمین کو مبارکباد دی۔اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جس جماعت کے مستقبل کے بارے میں لوگ کچھ عرصے پہلے سوالیہ نشان اٹھاتے تھے آج وہ سب سے بڑی جماعت ثابت ہوئی ہے، پی ٹی آئی حقیقتاً ایک وفاقی جماعت بن کر ابھری ہے، یہ واحد جماعت ہے جس کی نمائندگی چاروں صوبوں میں ہے۔انہوں نے کہاکہ آزاد ارکان پی پی اور (ن) لیگ میں جاسکتے تھے لیکن جس نے جہاں بھی تحریک انصاف کو ترجیح دی آج پارٹی ان کا خیرمقدم اور شکریہ ادا کرتی ہے، ان کی موجودگی سے اکثریت میں اضافہ ہواہے، آج عددی لحاظ سے اتنی تعداد حاصل کرچکے کہ مرکز میں حکومت بنانے کے قابل ہوگئے ہیں۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آج عمران خان کو پارلیمانی لیڈر منتخب کیا گیا ہے، وہ ہمارے وزیراعظم کے امیدوار ہیں۔پی ٹی آئی رہنما نے بتایا کہ عمران خان نے کہا کہ آئندہ آنے والے دنوں میں چیلنجز ہیں اس پر عمران خان نے پارٹی کو اعتمادمیں لیا اور قوم کی توقعات بتائیں پی ٹی آئی رہنما کے مطابق عمران خان نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ سوالوں کا جواب دینے کے لیے خود اسمبلی آئیں گے۔شاہ محمود قریشی نے اپنے اسپیکر قومی اسمبلی نامزد ہونے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر بنانے کی اطلاعات غلط ہیں، آج ایساکوئی ذکر نہیں ہوا اور آج اس موضوع پر کوئی بات نہیں ہوئی، جو بھی فیصلہ ہوگا اس پر ہمارا مرکزی میڈیا سیل آگاہ کرے گا۔ان کا کہنا تھاکہ عمران خان کپتان ہیں وہ جہاں ٹیم کو مناسب سمجھیں گے وہیں رکھیں گے اور ان کی پلیسنگ کو سب خوشی سے قبول کریں گے۔شاہ محمود قریشی نے اسپیکر ہاؤس میں اپوزیشن کے اجلاس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایاز صادق پارلیمانی روایات سے آگاہ ہیں لہٰذا اسپیکر ہاؤس کو اپوزیشن کا اکھاڑہ نہ بنائیں، وہاں منصوبہ بندی کی جائے گی تو یہ پارلیمانی روایات کے برعکس ہے۔دوسری جانب ترجمان پی ٹی آئی کے مطابق آزاد ارکان کی شمولیت کے بعد تحریک انصاف کے ارکان کی تعداد 125 ہوگئی ہے جب کہ وزیراعظم کے لیے اتحادیوں، خواتین اور اقلیتوں کے ساتھ تحریک انصاف کا نمبر 174 تک جا پہنچا ہے۔ تحریک انصاف نے حکومت سازی سے متعلق اہم فیصلے کرلیے ہیں جس کے تحت ممکنہ وزیراعظم عمران خان کی وفاقی کابینہ مختصر ہوگی۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حکومت سازی کے بعد پہلے مرحلے میں 15 سے 20 وزراء4 پر مشتمل کابینہ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ عوام نے تبدیلی کیلئے اپنا فیصلہ سنایا اور اگر ہم تبدیلی نہ لاسکے تو حشر ایم ایم اے اور اے این پی سے بھی برا ہوگا۔ تحریک انصاف کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب میں عمران خان نے کہاکہ میرا مقصد وزیراعظم یا ایم این اے بننا نہیں بلکہ قوم سے کیے گئے وعدے پورے کرنے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک مالی طور پر بحران کا شکار ہے اور ملک کو مالی بحران سے نکالنا ہے جب کہ قرضوں کی ادائیگی کے لیے بیرون ملک پاکستانیوں سے رجوع کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ لوگوں نے پارٹی کے لیے بڑی محنت کی اور پارٹی کے ابتدائی کارکنوں کی خدمات قابل تحسین ہیں، آپ کو اپنے مقاصد سے نہیں ہٹنا ہے اور عوام نے جس منشور پر ووٹ دیا اسے آگے لے کر چلنا ہے۔چیئرمین پی ٹی اْئی نے کہا کہ آج میرے لیے پروٹوکول لگا دیا، ایسے ملک نہیں چلے گا، اگر تبدیلی نہ لاسکے تو حشر ایم ایم اے اور اے این پی سے بھی برا ہوگا لہٰذا سیاست عبادت سمجھ کر کریں اور پرانی سیاست ختم کرنا ہوگی۔عمران خان نے کہا کہ 1970 میں عوام نے مستحکم سیاسی اشرافیہ کو شکست دی جس کے بعد آج عوام نے دو جماعتی نظام کو شکست دی جب کہ ایسا تاریخ میں شاز و نادرہی ہوتا ہے کہ دوجماعتی نظام میں تیسری جماعت کو موقع ملے لیکن عوام تبدیلی کیلئے نکلے اور اپنا فیصلہ سنایا۔ان کا کہنا تھا کہ پورے ملک میں جہاں امیدوار کا چہرہ تبدیلی سے نہیں ملتا تھا وہاں عوام نے مسترد کردیا اور مجھ پر آج سب سے بڑی ذمہ داری آن پڑی ہے، تحریک انصاف کا اقتدار چیلنجز سے بھرپور ہے، عوام ہم سے روایتی طرز سیاست اور حکومت کی امید نہیں رکھتے، اگر روایتی طرز حکومت اپنایا تو عوام ہمیں بھی غضب کا نشانہ بنائیں گے لہذا عوام آپ کا طرز سیاست اور کردار دیکھیں گے اور اسکے مطابق ردعمل دیں گے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پختونخوا میں آئے تو 70 فیصد صنعتیں بند تھیں، سرمایہ اور ذہانت دونوں ہی پختونخوا سے نکل چکے تھے جب کہ اغواء برائے تاوان پختونخوا میں ایک صنعت بن چکا تھا، پختونخوا کے عوام نے تحریک انصاف کی حکومت کی کوششوں کو سراہا۔عمران خان کا اراکین سے کہنا تھا کہ عوام نے آپ کو پارلیمان میں بھیجا ہے تاکہ آپ نچلے طبقے کو اوپر اٹھائیں، عوام آپ کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ آپ ان کے لیے پالیسیاں بنائیں، آپ عوام کی امیدوں پر پورا اتریں، اللہ آپ کو وہ عزت دیگا جس کا تصور بھی ممکن نہیں، میں خود مثال بنوں گا اور آپ سب کو بھی مثال بننے کی تلقین کروں گا، آپ نے ب ٹیم کی حیثیت سے مکمل اتحاد و اتفاق اپنانا ہے۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ 22 سال کی جدوجہد کا پہلا مرحلہ آج مکمل ہوا ور اس دوسرے مرحلے کے لیے میں نے بائیس برس تیاری کی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ کہ آج اخلاقی طور پر کمزور ترین حزب اختلاف کا سامنا ہے، حزب اختلاف کے پاس مولانا فضل الرحمٰن تو ہیں مگر اخلاقی و روحانی قوت سے محروم ہے، آج اللہ نے آپ کو اخلاقی برتری دی ہے، آپ نے عوام کے پیسے کو اللہ کی امانت سمجھنا ہے اور آپ نے قوم کا پیسہ بچانا ہے تاکہ عوام کی فلاح پر خرچ کیا جاسکے۔چیئرمین پی ٹی ا?ئی نے کہا کہ میں فیصلے میرٹ پر اور قوم کے مفاد کے لیے کروں گا، آپ سے اس کا تقاضا کبھی نہیں کروں گا جس پر میں خود عمل نہ کروں جب کہ برطانیہ کی طرز پر ہر ہفتے بطور وزیراعظم ایک گھنٹہ سوالات کے جواب دوں گا اور وزراء4 کو بھی صحیح معنوں میں جوابدہ بنائیں گے۔پاکستان تحریک انصاف نے بی این پی مینگل کو مطالبات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرادی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں حمایت کے بدلے بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے مطالبات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ 3 اگست کو اسلام آباد میں نعیم الحق کی قیادت میں تحریک انصاف کے وفد نے اختر مینگل سے ملاقات کی تھی جس میں انھیں عمران خان سے ملاقات کی دعوت اور قومی اسمبلی میں حمایت کی دعوت دی تھی، تاہم اختر مینگل نے کہا کہ ہم نے اتحاد میں شمولیت کی دعوت پر پی ٹی آئی کے سامنے بلوچستان کے مسائل رکھے ہیں، لاپتہ افراد کی بازیابی اورسی پیک پر عملدرآمد کا بھی مطالبہ کیا ہے، لہٰذا ہمیں مثبت جواب ملا تو ساتھ دینے کو تیار ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے بھی بی این پی مینگل سے مذاکرات کئے تھے۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں نعیم الحق، یارمحمد رند اور چوہدری سرور نے عمران خان کو مطالبات سے آگاہ کیا تھا جبکہ چوہدری سرور کی ذاتی مداخلت کے بعد اب تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت نے بی این پی (مینگل) کو مطالبات پر عملدر آمد کی یقینی دہانی کرا دی ہے اور کہا ہے کہ بی این پی کی طرف سے جلد مثبت جواب ملے گا۔

عمران خان

مزید : کراچی صفحہ اول