جج ایک ہی نوعیت کا دوسرا مقدمہ کیسے نہیں سن سکتا ؟ پراسیکیوٹر

جج ایک ہی نوعیت کا دوسرا مقدمہ کیسے نہیں سن سکتا ؟ پراسیکیوٹر

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) العزیزیہ، فلیگ شپ ریفرنس کی دوسری عدالت منتقلی کی درخواست پر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے دلائل میں کہا العزیزیہ ریفرنس میں 27 گواہوں کی فہرست عدالت میں جمع کرائی گئی،18 گواہوں کے بیانات مکمل جبکہ 19ویں پر جرح جاری ہے، فلیگ شپ ریفرنس میں 18 گواہوں کی فہرست عدالت میں جمع کرائی گئی، 16 گواہوں کے بیان قلمبند ہو چکے جبکہ 2کو ترک کر دیا گیا، تینوں ریفرنسز کی درخواست مسترد ہونے پر سپریم کورٹ سے رجوع نہیں کیا۔پیر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں العزیزیہ، فلیگ شپ ریفرنس کی دوسری عدالت منتقلی کی درخواست پر سماعت ہوئی، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی کا مزید کہنا تھا تینوں ریفرنسز ایک ہی نوعیت کے نہیں، جج ایک کیس میں فیصلہ دے چکا اسی نوعیت کا دوسرا کیس کیسے نہیں سن سکتا، اس طرح تو جج پو ری زندگی میں ایک نوعیت کا ہی کیس سنے گا، یہ روایت پروان چڑھ گئی تو ہر کیس کیلئے نیا جج تعینات کرنا پڑے گا، ہمارے ریفرنسز بطور ایڈ منسٹر یٹو جج محمد بشیر کے پاس جاتے ہیں، اسی جج نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کیس دوسرے جج کو بھجوانا ہے، ملزمان ایون فیلڈ ریفرنس میں بری ہو جاتے تو کیا یہ درخواست لائی جاتی؟ جسٹس عامر فاروق نے کہا ملزمان بری ہو جاتے تو استغاثہ کیس ٹرانسفر کرنے کی درخواست لاتا۔ سردار مظفر نے بتایا فرد جرم عائد ہونے سے پہلے ملزمان کی درخواست پر کیس منتقل کیا جا سکتا تھا، فریقین کا جج پر اعتماد آئین،قانون اور شریعت کی بنیادی ضرورت ہے، جسٹس عامر فاروق نے کہا اپیل میں فیصلہ کریں گے بار ثبوت ملزمان پر منتقل ہو گا یا نہیں، شواہد دیکھ کر فیصلہ کریں گے ،نیب کیس ثابت کرنے میں کامیاب ہوا، جسٹس میاں گل حسن نے کہا یہ ایسا کیس ہے جس میں حقائق جڑے ہیں، یہ معمولی نوعیت کا کیس نہیں، یہ ان مقدمات سے نہیں جوڑا جا سکتا جو ہم روزانہ سنتے ہیں۔ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا آپ نے کس بنیاد پر کہا چارج فریم کر کے کیس دوسری عدالت منتقل نہیں کیا جا سکتا؟ نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر کے دلائل جاری ہونے کے باعث سماعت آج منگل تک کیلئے ملتوی کر دی گئی۔

العزیزیہ کیس

مزید : کراچی صفحہ اول