13ویںآئینی ترمیم عوامی امنگوں کی ترجمان ہے:صدر آزاد کشمیر

13ویںآئینی ترمیم عوامی امنگوں کی ترجمان ہے:صدر آزاد کشمیر

میرپور (نمائندہ پاکستان)صدر آزاد جموں و کشمیر سردار محمد مسعود خان نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے عبوری ایکٹ1974 میں تیرہویں ترمیم آزاد کشمیر کے لوگوں کی اُمنگوں اور خواہشات کی عکاسی کرتی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے میرپور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار بعنوان ’’ آئینی اصلاحات 2018‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے ۔ سیمینار سے مسٹ یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹرحبیب الرحمن ،ایچ ای سی کے سابق چیئرمین پروفیسرڈاکٹرمختاراحمد نے بھی خطاب کیاجبکہ اس موقع پرمحتسب آزاد جموں و کشمیر ظفر حسین مرزا، ایمبسڈر عارف کمال ، رجسٹرارمسٹ یونیورسٹی پروفیسروارث جرال، ڈی آئی جی یاسین قریشی، ڈپٹی کمشنرسردار عدنان خورشید خان، ایس ایس پی سید ریاض حیدربخاری، سابق سیکرٹری محمود خان، ممتاز قانون دان راجہ محمدحنیف ایڈووکیٹ ، ریڈیومیرپورکے سٹیشن ڈائریکٹرمحمدشکیل، پروفیسر ڈاکٹر مقصود احمد ڈین فیکلٹی آف ارٹس ، ڈاکٹر یاسین خان چیئرمین شعبہ قانون ، ارشاد محمودسینئر صحافی و ایگز یکٹو ڈائریکٹر سنٹر فار پیس وڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم ، قانونی ماہرین ، اساتذہ کرام ، سکالرز ، فیکلٹی ممبرز اور کثیر تعداد میں طلباء نے شرکت کی ۔ صدر سردارمحمدمسعود خان نے اپنے خطاب میں مسٹ کے وائس چانسلر ڈاکٹر حبیب الرحمان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے آئینی اصلاحات2018 کے موضوع پر یک روزہ سیمینار منعقد کیا جس میں قانونی و آئینی ماہرین ا س موضوع پر سیر حاصل گفتگو کررہے ہیں ۔ صدرسردارمحمد مسعود خان نے کہا کہ13ویں ترمیم ریاست آزاد جموں و کشمیر کو با اختیار بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے اس سے بالخصوص آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی اور ایگزیکٹو جس کی قیا دت وزیراعظم آزاد کشمیر کر رہے ہیں مزید مضبوط اور مستحکم اور با اختیار ہو گی ۔ صدر نے کہا کہ تیرہویں ترمیم کا لب لبا ب یہ تھا کہ آزاد حکومت اور آزاد جموں و کشمیر کونسل کی شکل میں دو متوازی انتظامی و مالی اتھارٹیز کے مسئلے کو حل کیا جائے ۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتیں جموں کشمیر کونسل کی آئینی اصلاحات پرمہم جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ اس پر کام کر رہی ہیں یہ ساری جماعتیں اس ترمیم کے کئی نکات پر متفق بھی ہیں۔ صدر نے کہا کہ باوجود اس کے کہ اس ترمیم کا آزاد کشمیر پر بڑے پیمانے پر خیر مقدم کیا گیا ہے ۔ لیکن کچھ ناقدین ، قانونی ماہرین اورحزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے موجودہ ترامیم میں مزید بہتری کے لیے سوالات اٹھائے گئے ہیں اور تجاویز بھی دی گئیں ہیں۔ صدر مسعود خان نے بھارتی حکومت کی جانب سے بھارتی آئین کے آرٹیکل 35A کو کالعدم قرار دینے کی کوششوں کو یکسر مسترد کیا ہے جس کے تحت ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے در پے ہے ۔ سابق چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد نے خطاب کرتے ہوئے مسٹ کے اس اقدام کو سراہا جنہوں نے اسے پر مغز سیمینار کا انعقاد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے سیمینارز اور کانفرنسز سے اہم موضوعات پر تعلیمی مباحثوں کا موقع ملتا ہے ۔ ڈاکٹر مختار نے مزید کہا کہ آئینی امور پرریاست اور تعلیمی اداروں میں اشتراک پیدا کرنے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے ۔

صدر آزاد کشمیر

Back to Conve

مزید : پشاورصفحہ آخر