حسین نواز آکر کہہ دیں جائیداد میں نے خریدی تو نواز شریف الزام سے بری ہوسکتے ہیں: نیب

حسین نواز آکر کہہ دیں جائیداد میں نے خریدی تو نواز شریف الزام سے بری ہوسکتے ...
حسین نواز آکر کہہ دیں جائیداد میں نے خریدی تو نواز شریف الزام سے بری ہوسکتے ہیں: نیب

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) نیب نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے دائر دو ریفرنسز دوسری احتساب عدالت منتقل کرنے کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ اعتراضات پر جج تبدیل کرنے کی روایت پروان چڑھ گئی توہر کیس کیلئے نیا جج تعینات کرنا پڑیگا، فرد جرم عائد ہوجائے تو ریفرنس منتقل نہیں کیا جا سکتا، نواز شریف کو ٹرائل کے دوران گواہوں پرجرح اور اپنا دفاع پیش کرنے کا مکمل حق دیا گیا ، ملزم نے عدالت میں اپنے دفاع میں کچھ بھی پیش نہیں کیا اور صرف یہی موقف اپنایا کہ وہ معصوم ہے۔جج کی رائے بدلنے کیلئے صرف اعتراض کافی نہیں ، اس کیلئے شواہد لانا پڑتے ہیں۔ اگر حسین نواز آکرکہہ دیں کہ یہ جائیدا د میں نے خریدی ہے تو میاں صاحب بے نامی جائیداد بنانے کے الزام سے بری ہوجائینگے۔

روزنامہ دنیا کے مطابق ، دوران سماعت معزز جج صاحبان نے ریمارکس دیئے کہ ملزمان اب دفاع میں کچھ پیش نہیں کرتے تو یہ اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے، دیکھنا ہوگا بے نامیدار اور زیر کفالت کو ملزم نامزد کیا جاسکتا ہے۔ پیر کواسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل ڈویژن بنچ نے العزیزیہ سٹیل ملز اور فلیگ شپ انوسٹمنٹ ریفرنسز دوسری عدالت منتقل کرنے کی نوازشریف کی درخوا ست کی سماعت کی۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردارمظفر عباسی نے کہا کہ پچھلے دس ماہ سے احتساب عدالت ایون فیلڈ اور دیگر دو ریفرنسز کی سماعت کررہی ہے۔ ملزمان نے تینوں ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواست مسترد کرنے کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کیا۔ اگر جج ایک کیس میں فیصلہ دے چکا ہے تو وہ کس طرح اسی نوعیت کا دوسرا کیس نہیں سن سکتا؟ اس طرح تو ایک جج اپنی پوری زندگی میں ایک نوعیت کا ایک ہی کیس سنے گا،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر10 ماہ سے العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز سن رہے ہیں اور ان کا تجربہ بھی دیگر دستیاب ججز سے زیادہ ہے۔۔ انہوں نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں شواہد سے ثابت کیا کہ گلف سٹیل ملز کی فروخت سے متعلق 1980 کے معاہدے کا وجود نہیں۔ ملزم کو دفاع کا موقع دیا گیا مگر اس نے اپنے دفاع میں کچھ پیش نہیں کیا۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دئیے کہ اگر ملزمان اب دفاع میں کچھ پیش نہیں کرتے تو یہ اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ اگر ملزمان بری ہو جاتے تو کیا پھر استغاثہ کیس منتقلی کی درخواست لے کر آتی۔ چار ج فریم کرنے کے بعد کیس دوسری عدالت کو منتقل نہ کرنے کی بات کس بنیاد پر کی جاسکتی ہے؟ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا بے نامی دار اور زیر کفالت کو ملزم نامزد کیا جاسکتا ہے اور سزا ہوسکتی ہے۔

نیب کے سردار مظفر عباسی نے کہا کہ نوازشریف نے پارلیمنٹ کے فلور پر کہا کہ ان کے بچوں کا نام پاناما پیپرز میں ہے۔ اگر حسین نواز آکر یہ کہہ دیں کہ یہ جائیداد انہوں نے کیسے بنائیں تومیاں صاحب بری ہوسکتے ہیں۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد