’میں 5 ماہ کی حاملہ تھی اور ۔ ۔۔ ‘ سکول مالک کی ہوس کا نشانہ بننے والی پانچویں جماعت کی طالبہ نے بالآخر ظلم کیخلاف آواز بلند کردی

’میں 5 ماہ کی حاملہ تھی اور ۔ ۔۔ ‘ سکول مالک کی ہوس کا نشانہ بننے والی پانچویں ...
’میں 5 ماہ کی حاملہ تھی اور ۔ ۔۔ ‘ سکول مالک کی ہوس کا نشانہ بننے والی پانچویں جماعت کی طالبہ نے بالآخر ظلم کیخلاف آواز بلند کردی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سیالکوٹ (ویب ڈیسک) تھانہ سبز پیر کے علاقہ میں پرائیویٹ سکول کے مالک نے پانچویں جماعت کی طالبہ کو بدفعلی کا نشانہ بنا ڈالا،بچی کے حاملہ ہونے پر حمل  ضائع کروادیا جس پر  متاثرہ شہری سراپا احتجاج بن گئے اور  حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔ 

روزنامہ خبریں کے مطابق کے مطابق تھانہ سبز پیر کے سرحدی دیہات منڈیالہ کے رہائشی محنت کش محمد بوٹا کی نواسی (ن) مقامی سکول میں پانچویں جماعت کی طالبہ تھی کہ سکول کے مالک سجاد نے چھ ماہ قبل بچی کو سکول میں صفائی ستھرائی کرنے کے لئے چھٹی کے بعد روک لیا اور بچی کو تنہا دیکھ کر اس سے زبردستی زیادتی کر ڈالی، بچی کے خاموش رہنے پر سکول مالک نے ایک مرتبہ پھر بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا جس سے بچی حاملہ ہوگئی۔

جسمانی طورپر کم عمری میں ہونیوالی تبدیلیوں کی وجہ سے بچی کے پریشان رہنے لگی ، اہل خانہ کے استفسار پر  اس نے بتایا کہ وہ 5ماہ کی حاملہ تھی جبکہ ملزم سجاد اور اس کی بیوی نے دو خواتین کی مدد سے اس کا حمل ضائع کروادیا ہے۔

متاثرہ بچی کے نانا محمد بوٹا کی درخواست پر پولیس تھانہ سبز پیر نے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے تاہم متاثرہ افراد نے نگران وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت دیگر حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

 

مزید : علاقائی /پنجاب /سیالکوٹ /جرم و انصاف