وہ محرومی جو انسان نے خود اپنے لئے چُن لی ہے

وہ محرومی جو انسان نے خود اپنے لئے چُن لی ہے
وہ محرومی جو انسان نے خود اپنے لئے چُن لی ہے

  

انسان کو جو صفات عطا کی گئی ہیں، ان میں سے گویائی ایک انتہائی غیر معمولی صفت ہے۔اس صفت نے دو پایوں کے ایک گلے کو ایک ایسے سماج میں بدل دیا جس نے اپنی مشترکہ قوت سے تمام مخلوقات کو شکست دے دی۔یہ بیان وکلام کا وصف ہی ہے جو انسانوں کو جوڑتا، کمزوروں کو حوصلہ دیتا، مایوس ، دکھی اور پریشان حال کی امیدوں کو دوبارہ زندہ کردیتا ہے۔

اس حقیقت کا تجربہ ہم میں سے ہر شخص کو اس وقت ہوتا ہے جب کوئی دوسرا ہمیں مشکل حالات میں مخاطب کرتاہے اور ہماری ڈھارس بندھاتا ہے۔ ہم اس کی باتوں سے ایک حوصلہ پاتے ہیں۔ہمارادل مضبوط ہوجاتا ہے۔مشکلات آسان ہوجاتی ہیں۔ مسائل کا حل نکل آتا ہے۔ منزل کا راستہ مل جاتا ہے۔یہ انسانی کلام کا اثر ہے۔

اس دنیا میں خدا کا کلام بھی پایا جاتا ہے۔ اس نے بھی ہم سے گفتگو کی ہے۔ وہ بھی ہم سے مخاطب ہوا ہے۔ اس نے بھی ہمیں بتایا ہے کہ مشکل میں مجھ ہی پر بھروسہ کرو۔ اس نے بتایا ہے کہ خدا کی یاد دلوں کا سکون ہوتی ہے۔ اس نے یقین دلایا ہے کہ محرومیوں پر صبر کرنے والوں کا اجر بے حساب ہے۔ اس نے کہا ہے کہ خدا کی رحمت سے مایوس ہونا کفر ہے۔

اس نے زندگی کے سفر کی منزل کو جنت کی منزل کی طرف متوجہ کیا ہے۔ اس نے اس راہ میں آنے والی جہنم کی دلدل سے متنبہ کیا ہے۔ اس نے ہر اس راستے کی طرف رہنمائی کی ہے جودنیا و آخرت میں فلاح کا باعث ہے۔ ہر اس پگڈنڈی سے بچایا ہے جو آخرت کے خسارے کی طرف لے جاتی ہے۔مگر عجیب بات ہے کہ انسان خدا کے سوا سب کی سنتا ہے۔ خدا کے سوا سب سے حوصلہ پاتا ہے۔ خدا کے سوا سب سے رہنمائی لیتا ہے۔کیسی عجیب تھی یہ نعمت جو انسان پر کی گئی۔ اور کتنی عجیب ہے یہ محرومی جو انسانوں نے خود اپنے لیے چن لی۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید : بلاگ