نام نہاد نظریے کی پھکی بھی بیچ دی

نام نہاد نظریے کی پھکی بھی بیچ دی
نام نہاد نظریے کی پھکی بھی بیچ دی

  

الیکشن کا طوفان تھم چکا ہے۔ الیکشن سے پہلے ہر جماعت نے اپنے اپنے منشور اور نظریے کا خوب ڈھنڈورا پیٹا ہے۔ کوئی دوبارہ روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگاتا ہوا نظر آیا اور کوئی یہ کہتا پایا گیا کہ پچھلے دور میں بجلی دی اب ووٹ دیں تو بجلی استعمال کرنا سکھائیں گے۔کوئی کرپٹ حکمرانوں کو گھسیٹنے کے دعوے کرتا نظر آیا ، کوئی جنت بانٹتا نظر آیا تو کوئی دین کو تخت پر لانے کی باتیں کرتا پایا گیا ، کسی نے اسی نظام کے اندر رہ کرتبدیلی لانے کا عزم کیا۔ الغرض ہر کوئی اپنی اپنی پھکی بیچنے کے لیے نعرے لگاتا ہوا نظر آیا۔

25 جولائی کو عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے ، اور ہر کسی سے پھکی کی تھوڑی تھوڑی پوڑیاں لی ہیں ، لیکن کوئی بھی حکیم اتنی پوڑیاں بیچنے کا ٹارگٹ پورا نہیں کر سکا کہ اسے حکیم اعظم کا ٹائیٹل دیا جا سکے۔اب سارے حکیم دوسروں کی پڑیاں ہتھیانے کی کوشش میں لگ گئے ہیں۔

اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو رزلٹ یہ نکلتا ہے کہ عوام نے اعلان کر دیا ہے کہ کوئی بھی حکیم حکیم اعظم بننے کے اہل نہیں ہے ، کوئی زیادہ اچھا حکیم ہے تو کوئی کم اچھا لیکن حکیم اعظم کوئی بھی نہیں ، سب حکماء اپنی اپنی پھکی کے فوائد بھول چکے ہیں ، جو الیکشن سے پہلے ایک دوسرے کو کمتر سمجھتے تھے ، عوام کو لولی پاپ دیا کرتے تھے کہ ہماری پھکی سب سے اچھی ہے دوسری پھکی کے پاس بھی نہ جانا ،

اب الیکشن کے بعد کوئی کہہ رہا ہے کراچی کی پھکی بھی اچھی ہے ،گجرات کی پھکی بھی اچھی ہے ،تو کوئی کہہ رہا ہے لاڑکانہ کی پھکی کے کیا کہنے ،

اب عوام اس ٹینشن میں ہیں کہ ہمارا کیا بنے گا ، ارے بھئی آپ کا جنہوں نے کچھ بنانا تھا ،وہ تو اپنے نظریے اور سوچ کو بیچنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں ،کچھ بیچ بھی چکے ہیں ،عوام کا ہاضمہ ٹھیک کرنے والے سب اپنی باتوں کو ،اپنے نظریات کو کوڑا دان میں پھینک چکے ہیں۔

حکیم اعظم بننے کے لیے اپنے نظریات کی قربانی دی جا رہی ہے ، اس بات سے قطع نظرکہ جن کو ساتھ ملایا جا رہا ہے ،انہی کی خرابیاں عوام کو بتا کر عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا گیا تھا۔ جو ساتھ مل رہے ہیں انکا نظریہ صرف اپنا عیش و آرام ہے۔پارٹی نظریہ یا عوام کا احساس ان ملنے والوں کی نظر میں ہوتا تو وہ کبھی کمپرومائز نہ کرتے ، میں سمجھتا ہوں کرپٹ ہونے کے باوجود داد کے مستحق ہیں وہ ممبرز جو اپنی پارٹی نہیں چھوڑتے۔اور یہ ساری خرابیاں اس کرپٹ انتخابی نظام کی اولاد ہیں۔ جب تک نظام نہیں بدلا جائے گا تب تک یہ چور بازاری جاری رہے گی ، تب تک نظریات کی موت ہوتی رہے گی۔

یہ اس کرپٹ انتخابی نظام کا ہی شاخسانہ ہے کہ ایماندار بھی حکیم اعظم بننے کے لیے دو نمبر پھکیوں کی پڑیاں اکٹھی کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے دو دفعہ عوام پاکستان کو دعوت دی کہ آؤ مل کر یہ نظام بدلیں۔ لیکن ہماری عوام نے ڈاکٹر طاہر القادری کی آواز پر لبیک نہ کہا ۔

عوام پاکستان ایک بات یاد رکھ لیں جو اپنے نظریے اور پارٹی سے مخلص نہیں ہے ،وہ کبھی بھی آپ کے لیے مخلص نہیں ہو گا ، شہنشاہ لاڑکانہ اور شہنشاہ لاہور اتنا عرصہ ایک دوسرے سے لڑتے رہے ایک دوسرے پر الزامات کی بارش کرتے رہے آج سب گول مال ہے۔ اور عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے اپنے نام نہاد نظریات اور کھوکھلے نعروں کو ایک بار پھر اقتدار کی ہوس کی خاطر بیچا جا رہا ہے۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید : بلاگ