آج پیار سے کہہ رہا ہوں ،آئندہ پیارنہیں ہوگا،پی آئی اے یونین اپنا قبلہ درست کرلے،چیف جسٹس کے ریمارکس

آج پیار سے کہہ رہا ہوں ،آئندہ پیارنہیں ہوگا،پی آئی اے یونین اپنا قبلہ درست ...
آج پیار سے کہہ رہا ہوں ،آئندہ پیارنہیں ہوگا،پی آئی اے یونین اپنا قبلہ درست کرلے،چیف جسٹس کے ریمارکس

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پی آئی اے یونین کے عہدیدارقومی ایئرلائن کوچلنے دیں،انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت نہ کریں،آج پیار سے کہہ رہا ہوں ،آئندہ پیارنہیں ہوگا،پی آئی اے یونین اپنا قبلہ درست کرلے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں بنچ نے پی آئی اے سربراہ کی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت کی،پی آئی اے کی جانب سے وکیل نعیم بخاری اور پی آئی اے یونین کے عہدیدار عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کابینہ کو مشرف رسول کی تعیناتی کا جائزہ لینے کا کہا تھا،نگران وفاقی کابینہ نے عدالت کو خط لکھا ہے،نگران کابینہ کہتی ہے معاملہ آنے والی حکومت دیکھے گی۔

پی آئی اے کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ عدالت نے نیب کو بھی تعیناتی کا جائزہ لینے کا کہا تھا،مشرف رسول کیخلاف ہائیکورٹس میں بھی 2 مقدمات زیرسماعت ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ مشرف رسول کی تعیناتی میں اقربا پروری کا جائزہ لینا ہے،کیوں نہ ہائیکورٹس کو پہلے فیصلہ کرنے دیں؟ ۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ معاملہ کابینہ اور نیب کو بھجوایا جا چکا ہے،بہتر ہو گا نئی آنے والی کابینہ تعیناتی کا جائزہ لے،مشرف رسول تعیناتی کیس کے پیچھے سیاست نظر آ رہی ہے۔

چیف جسٹس نے پی آئی یونین کے عہدیداروں سے کہا کہ قومی ایئرلائن کوچلنے دیں،انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت نہ کریں،آج پیار سے کہہ رہا ہوں ،آئندہ پیارنہیں ہوگا،پی آئی اے یونین اپنا قبلہ درست کرلے۔یونین عہدیداروں نے کہا کہ ایئرلائن کی بہتری کےلئے عدالت کے ساتھ ہیں۔

پی آئی اے کے وکیل نے کہا کہ پی آئی اے سے لی گئی فیس ڈیم فنڈز میں دوں گا،سول ایویشن حکام نے کہا کہ ائیر لائن نے تاحال ملازمین کی ڈگریوں کا ڈیٹا فراہم نہیں کیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈگریوں کی تصدیق میں کوئی حکم امتناع نہیں چلے گا،ملک کو صرف قانون کی حکمرانی سے چلانا ہو گا،قانون کی حکمرانی کے علاوہ کوئی انداز نہیں چلے گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ طاقت یا بدمعاشی کسی صورت قبول نہیں،پی ائی اے کے آڈٹ کا حکم دیا تھا،پی آئی اے آڈیٹر جنرل کو ریکارڈ کیوں نہیں دے رہا؟۔

عدالت نے پی آئی اے کو ایک ہفتہ میں تمام ریکارڈ آڈیٹر جنرل کوفراہم کرنےکاحکم دے دیا۔وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ عدالت بھرتیوں پر پابندی ختم کرے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ 3ماہ کےلئے بھرتیوں سے پابندی اٹھا رہے ہیں،یونین کے جائز مطالبات منظور ہونے چاہئیں،چیف جسٹس نے کہا کہ یونین نے جعلی ڈگریوں کے معاملے پر حکم امتناع کیوں لیا؟پی آئی اے ملازمین کی ڈگریوں کی تصدیقی رپورٹ دیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جعلی ڈگری لینا اور جمع کروانا جرم ہے،عدالتی حکم پراب تک عمل کیوں نہیں ہوا؟۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد