نواز شریف سے جیل میں چودھری نثار کی ملاقات کروانے کی کوشش ، سابق وزیر داخلہ کو این اے 53 سے الیکشن لڑانے پر غور ، مقامی اخبار نے دعویٰ کردیا

نواز شریف سے جیل میں چودھری نثار کی ملاقات کروانے کی کوشش ، سابق وزیر داخلہ ...
نواز شریف سے جیل میں چودھری نثار کی ملاقات کروانے کی کوشش ، سابق وزیر داخلہ کو این اے 53 سے الیکشن لڑانے پر غور ، مقامی اخبار نے دعویٰ کردیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

راولپنڈی( ویب ڈیسک) مقامی اخبار  نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو حلقہ این اے 60 راولپنڈی اور سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو حلقہ این اے 53 سے الیکشن لڑانے پر غور شروع کر دیا۔

روزنامہ خبریں نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ  مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے عام انتخابات کے بعد نرم گوشہ اختیار کیا ہے اور قیادت ہر حال میں شاہد خاقان عباسی اور چوہدری نثار علی خان کو اسمبلی میں دیکھنا چاہتی ہے، عام انتخابات میں شکست کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مقامی عہدیداروں اور کارکنان کی جانب سے پارٹی قیادت اور سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی میں اختلافات دور کرنے کی کوششیں شروع کردی گئیں اس ضمن میں مسلم لیگ (ن) کے ایک سینئر رہنما نے بتایا کہ راولپنڈی کی مقامی قیادت اور کارکنان پارٹٰ کو دوبارہ متحد دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ اندرونی اختلافات کے باعث راولپنڈی میں مسلم لیگ (ن) کو متعدد نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف اور چوہدری نثار کی اڈیالہ جیل میں ملاقات کروانے کیلئے کوششیں جاری ہیں تاہم اس کے لیے پہلے نواز شریف کی اجازت درکار ہوگی۔

اخباری ذرائع کے مطابق مقامی رہنما اور پارٹی کارکنان چوہدری نثار کو پارٹی میں واپس دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کی قیادت میں مقامی رہنماؤں کو پیچیدہ صورتحال سے نمٹنے میں مدد ملتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی قیادت کی انتخابات 2018ء کے حوالے کوئی منصوبہ بندی نہیں تھی جس کی وجہ سے تمام امیدواروں نے علیحدہ علیحدہ کام کیا اور بھرپور مہم چلائی جا سکی۔

انہوں نے بتایا کہ اگر چوہدری نثار کو آزاد حیثیت سے حاصل ہوے والے ووٹوں اور مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو ملنے والے ووٹ اکھٹا ہوتے تو انتخابات میں اس حلقے سے مسلم لیگ (ن) کو شکست نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 53 یا 59میں سے خالی ہونیوالے کسی ایک حلقے سے اور این اے 60 ضمنی انتخابات سے قبل اندرونی اختلافات کا خاتمہ چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ عوام کی اکثریت یہ چاہتی ہے کہ قمرالاسلام کو ضمنی انتخابات کے لئے نامزد نہ کیا جائے اور اس حوالے سے اعلیٰ سطح مذاکرات کا آغاز ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ راولپنڈی ضلع میں زیادہ تر یونین کونسل چیئرمین سابق وزیر داخلہ سے وفادار ہیں اور مسلم لیگ (ن) میں دوبارہ ان کی شمولیت دیکھنا چاہتے ہیں اس ضمن میں مسلم لیگ (ن) کے ایک اہم مقامی راہنما سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میاں محمد نواز شریف اور شہباز شریف کی قیادت میں متحد ہے اور مقامی رہنما اور کارکنان ان کی ہدایات کے مطابق ہی کام کریں گے تاہم انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے زیادہ تر کارکنان چوہدری نثار اور پارٹی کے مابین اختلافات کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اس سے قبل چوہدری نثار نے ہی ماضی میں بھرپور طریقے سے انتخابی مہم چلائی تھی اور ان میں پوٹھوہار خطے میں پارٹی کو عروج دینے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔

مزید : الیکشن /سیاست /علاقائی /پنجاب /راولپنڈی