عمران خان کس مقام کو بطور وزیراعظم کیمپ آفس بنانے جارہے ہیں اور وہ بنی گالہ منتقل ہونے سے پہلے کہاں مقیم تھے ؟ وہ باتیں جو شاید آپ کو معلوم نہیں

عمران خان کس مقام کو بطور وزیراعظم کیمپ آفس بنانے جارہے ہیں اور وہ بنی گالہ ...
عمران خان کس مقام کو بطور وزیراعظم کیمپ آفس بنانے جارہے ہیں اور وہ بنی گالہ منتقل ہونے سے پہلے کہاں مقیم تھے ؟ وہ باتیں جو شاید آپ کو معلوم نہیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی چیئرمین عمران خان کو وزیراعظم کا امیدوار نامزد کردیا ہے اور انہوں نے وزیراعظم ہاﺅس میں نہ رہنے کا فیصلہ سنادیا تاہم امکان ہے کہ وہ پنجاب ہاو¿س میں قیام کریں گے لیکن ہفتے کے آخری دنوں کیلئے بنی گالہ کو کیمپ آفس بنائیں گے جبکہ بنی گالہ میں گھر کی تعمیر سے قبل وہ اسلام آباد کے سیکٹرای سیون میں قیام پذیر تھے ۔

سینئر صحافی حامد میر نے روزنامہ جنگ میں لکھا کہ ” انتخابات میں کامیابی کے کئی دن بعد ہونے والی حالیہ ملاقات کے آغاز میں عمران خان نے مجھ سے سوال پوچھا، ”کیا آپ کو یاد ہے کہ میں نے اپنی سیاسی جماعت کیسے بنائی تھی اور کیا آپ کو میری جدوجہد کے دن یاد ہیں؟“ یہ رسمی انٹرویو نہیں تھا۔ یہ کافی کے کپ پر ان کے بنی گالا کے دفتر میں ہونے والی ملاقات تھی، ان کی تقریب حلف برداری سے چند روز قبل یہاں بڑی تبدیلی نمایاں نظر آ رہی تھی۔ مجھ سے ان کے دفتر کے باہر اپنا موبائل فون جمع کرانے کیلئے کہا گیا۔ جب سے وہ اسلام آباد میں ای سیون کے پوش علاقے سے پہاڑی پر قائم بنی گالا میں منتقل ہوئے ہیں اس وقت سے چند برسوں کے دوران ایسا میرے ساتھ کبھی نہیں ہوا۔ اچانک مجھے احساس ہوا کہ میں پاکستان کےنئے وزیراعظم سے ملنے جا رہا ہوں۔

ملاقات سے قبل مجھے خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک، ان کے پرانے ساتھی ڈاکٹر عارف علوی اور منیزہ حسن نظر آئے جو عمران خان کے دفتر کے ساتھ ہی قائم نفاست سے سجائی گئی انتظار گاہ میں بیٹھے تھے۔ ہفتے کے آخری دنوں میں یہ نئے وزیراعظم کا کیمپ آفس ہوگا کیونکہ عمران خان ہفتے کے آخری دن وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ میں قیام نہیں کریں گے۔ عمران خان مجھ سے مسکراتے ہوئے اور ٹینشن سے عاری چہرے کے ساتھ ملے۔

ہماری بات چیت کے دوران وہ مسکراتے ہوئے ان بڑے چیلنجز کا ذکر کر رہے تھے جو ان کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس مرتبہ وہ نواز شریف یا آصف زرداری کے بارے میں بات نہیں کر رہے تھے۔ وہ توانائی کے بحران، پانی کی قلت او رقرضوں کے مسئلے پر بات کر رہے تھے“۔

مزید : قومی