فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر490

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر490
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر490

  

جدید امریکی پس منظر میں بنائی جانے والی فلمیں عام امریکی روز مرہ کی زندگی ، ان کے مسائل ، ان کے جذبات و احساسات جرائم کے طور طریقوں اور رفتار کی حامل ہوتی تھیں۔ امریکی فلموں کی ایک خصوصیت تسلیم کرنی پڑے گی کہ وہ ہماری طرح محض خیالی اور تصوراتی فلمیں بنانے کے کبھی قائل نہیں رہے کہ دراصل معاشرے میں کیا ہو رہا ہے مگر فلم ساز ایک خیالی تصور فلم بینوں کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ امریکی فلمیں بہت حد تک اپنے معاشرے کی عکاسی کرتی رہی ہیں۔ اس اعتباد سے یہ معلوماتی اور تعلیمی کوشش بھی قرار دی جاسکتی ہیں۔ ان میں مبالغہ بہت کم ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم پہلی بار یورپ اور امریکا گئے تو بہت سی چیزیں ہمیں مانوس نظر آئیں۔ لوگوں کا طرزِ عمل، رہن سہن ، طور طریقے ، بول چال کا انداز ہر ایک پہلو سے ہم بہت حد تک واقف تھے۔ مقصد یہ بیان کرتا ہے کہ اس زمانے میں لوگ فلمیں اس لیے دیکھتے تھے کہ کوئی دوسری تفریح اور سماجی سرگرمی میسر نہ تھی لیکن ان فلموں کے ذریعے وہ بہت کچھ حاصل کر لیا کرتے تھے۔

ہندوستانی اور بعد میں پاکستانی فلموں میں عام طور پر خیالی کردار اور ماحول دکھائے جاتے رہے ہیں کیونکہ تھیٹر کے زمانے سے لوگوں کا جو مزاج بن چکا تھا اس میں اچانک تبدیلی لانا تقصان دہ ہوتا لیکن گانوں اور رومانی کہانیوں سے قطع نظر معاشرتی مسائل کے بارے میں بھی فلمیں بنائی جاتی تھیں جن میں دیکھنے والوں کو اپنے مسائل اور اپنی زندگی کا عکس نظر آجاتا تھا۔ رومانی فلموں میں بھی ماحول اور معاشرے کی قدروں کو پیش کر دیا جاتا تھا۔ پھر ایسی فلمیں بھی بنائی گئیں جو حقیقی زندگی کے مسائل اور واقعات پر مشتمل تھیں۔ ان فلموں کو دیکھ کر تفریح کے علاوہ بہت حد تک معلومات بھی حاصل ہوجاتی تھیں۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر489پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اگر کسی فلم میں حقیقی زندگی سے مکمل اغماض کیا گیا تو وہ پنجابی فلمیں ہیں۔ ان میں جاگیردار کے مظالم ، غریب کی بغاوت اور مٹیاروں کے ناچ گانوں کی آج بھی بھرمار ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان فلموں کے ذریعے جاگیرداری نظام کے گھناؤنے پہلو کو اجاگر کیا گیا اور جاگیرداروں کی صحیح تصویر فلم بینوں کو دیکھنے ملی۔ ان فلموں کے ذریعے کچلے ہوئے مظلوم اور غریب مزارع اور عوام کے مسائل بھی سامنے آئے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عام لوگوں کو جاگیرداروں اور امیروں کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنے والا او رانہیں نیچا دکھانے والا ہیرو میسر آگیا جس میں وہ اپنی نا آسودہ خواہشات کی جھلک دیکھ کر خوش ہوجاتے ہیں۔ ان فلموں کے ذریعے لوگوں کو پولیس کے خلاف اپنے دلوں کے غبار نکلانے کا موقع بھی مل گیا۔ ظالم اور متکبر پولیس افسر کو جب وہ فلم میں ہیرو کے ہاتھوں رسوا ہوتے دیکھتے ہیں تو ان کے دلوں کو سکون مل جاتا ہے لیکن وہ نکتہ بدستور اپنی جگہ قائم ہے کہ ان فلموں میں پیش کی جانے والی چیزوں اور معاشرت کا عام زندگی سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔

گانے اردو فلموں میں بھی ضروری سمجھے جاتے ہیں اور اچھی خاصی معقول ہیروئن بھی وقتاً فوقتاً ناچتی گاتی نظر آتی ہے لیکن باقی دوسرے واقعات کا بہت حد تک عمومی اور حقیقی زندگی سے تعلق ہوتا ہے۔

انگریزی ، اردو اور پنجابی کامیڈی فلمیں ایک علیٰحدہ دلچسپی کی حامل ہوتی تھیں۔ انگریزی میں میوزیکل اور مزاحیہ فلمیں بہت پسند کی جاتی تھیں۔ یہ سب کچھ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایک زمانے میں سنیما لوگوں کی آرزوؤں ، امنگوں ، حسرتوں اور خواہشوں کی آماجگاہ کیوں بن گیا تھا اورفلم بین تفریح کے علاوہ وہاں جا کر اور کیا کچھ حاصل کر لیا کرتے تھے۔

کراچی اور لاہور میں قیام پاکستان سے پہلے بھی بعض بہت اچھے سنیما گھر موجود تھے جن کا معیار قیام پاکستان کے بعد بھی کافی عرصے تک بہت اچھا رہا۔ پھر جب فلموں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو نئے سنیما گھروں کی تعمیر بھی شروع ہوگئی۔ شہروں کے بیچو بیچ گنجائش کم تھی پھر نواحی آبادیاں بھی چھوٹے شہروں کی صورت اختیار کر چکی تھیں اس لیے نواحی علاقوں میں بھی بہت اچھے اور معیاری سنیما گھر تعمیر ہوئے۔ اس طرح مقامی آبادی خصوصاً خواتین کو یہ آسانی تھی کہ کچھ عورتیں اکٹھی ہو کر اور بچوں کو سمیٹ کر پیدل ہی سنیما جا سکتی تھیں۔ اس طرح سنیما گھروں کی تعداد میں رفتہ رفتہ اضافہ ہوتا رہا یہاں تک کہ ایک وقت کراچی میں 80 کے لگ بھگ تھی۔ ان میں بیشتر بہت آرام دہ اور معیاری سنیما گھر تھے جہاں بہت اچھا ماحول پایا جاتا تھا ، یہی وجہ ہے کہ خواتین بے خوف و خطر مردوں کے بغیر ہی سنیما دیکھنے چلی جاتی تھیں۔

کراچی میں ایک سنیما ایسا بھی ہے جسے کئی لحاظ سے ایک منفرد اور تاریخی حیثیت حاصل ہے۔ یہ بمبینو سنیما ہے۔ بمبینو سنیماکراچی میں آغا خان سوئم روڈ پر واقع ہے۔ اس کی تعمیر کو لگ بھگ 39 سال (اب پچاس سال)گزر چکے ہیں مگریوں لگتا ہے جیسے کل کی بات ہے۔ بمبینو سنیما کی ایک اہمیت تو یہ ہے کہ یہ جائے وقوع کے اعتبار سے بہت موزوں جگہ ہے۔ بندر روڈ اور آغا خاں روڈ کے سنگم پر اس کی خوبصورت عمارت آج بھی فخر سے سراٹھائے کھڑی ہے۔ جن دنوں اس کی تعمیر عمارت آج بھی فخر سے سراٹھائے کھڑی ہے۔ جن دنوں اس کی تعمیر کا آغاز ہوا، ہم فلمی صنعت سے وابستہ تھے اور کراچی کی آمدورفت کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ کافی طویل عرصے تک بھی ہمیں کراچی میں رہنے کا اتفاق ہوا۔ ایک بار ہم ایک ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصہ کراچی میں مقیم رہے۔ چار پانچ دن کا پھیرا تو معمول کی بات تھی۔ کراچی اس زمانے میں نسبتاً ایک صاف ستھرا اور خوبصورت ماڈرن شہر تھا۔ ہم لاہور والوں کے لیے اس کا یہ پہلو دلکش تھا کیونکہ لاہور اس وقت تک قدیم عہد سے باہر نہیں نکلا تھا او رشہر کی شکل و صورت اور رہن سہن کے طریقوں میں زیادہ تبدیلی نہیں ہوئی تھی۔ لاہور کی کابل ، ست رفتار اور آرام طلب زندگی کے مقابلے میں کراچی کا کاروباری اور تیز رفتار زندگی اور بھاگ دوڑ لاہور والوں کو عجیب سی لگتی تھی۔ چند روز تو ہم کراچی میں اس تبدیلی سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے مگر پھر یہ تیز رفتاری اور بھاگ دوڑ اعصاب پر سوار ہوجاتی تھی اور کراچی کی سڑکوں پر ٹریفک کے ہجوم سے گھراہٹ سی ہونے لگتی تھی چنانچہ ہمیں لاہور کی یاد ستانے لگتی تھی اور ہم کسی نہ کسی طرح لاہور واپس پہنچ جاتے تھے۔

اس زمانے میں کراچی کے اکثر سنیما گھروں کا معیار اور انتظام لاہور کے سنیماؤں کے مقابلے میں بہتر تھا۔ ماحول بھی عموماً اچھا ہوتا تھا۔ نظم و نسق پر خاص توجہ دی جاتی تھی۔ سفید پتلون قمیص اور کالی ٹائی میں ملبوس اسٹاف فلم بینوں کی دیکھ بھال بھی کرتا تھا اور انہیں خلاف تہذیب اور خلاف اخلاق حرکتیں کرنے سے منع بھی کر دیتا تھا۔ لاہور میں عموماً یہ دستور نہیں تھا اس لیے لاہور میں فلم بین ہمیشہ مادرِ پدر آزاد اور ہنگامہ آرائی میں مصروف رہے۔ کراچی کی سنیما گھروں میں خاص طور پر بہت اچھی کافی کا ایک بڑا مگ ملتا تھا جسے پینے کے بعد پیٹ اور دل دونوں بھرجاتے تھے۔

’’ نگار ‘‘ کے الیاس بھائی ہمارا کراچی میں ساتھ ہی رہا کرتا تھا۔ وہی بہت سے لوگوں سے ہمیں ملایا کرتے تھے اور بہت سے لوگوں سے ان کے دفتر میں ملاقات ہوجاتی تھی۔ وہی کراچی کے بارے میں ہمیں ہر قسم کی فلمیں خبریں، اسکینڈلز اور دیگر معلومات فراہم کیا کرتے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ انہیں دفتر میں بیٹھے بٹھائے کراچی اور لاہور کے بے شمار فلم والے ملتے رہتے تھے یا ان سے ٹیلی فون کے ذریعے رابطہ رکھتے تھے اس طرح تمام خبریں خود چل کر ان تک پہنچ جاتی تھیں۔ اللہ بخشے الیاس صاحب بھی کیا خوب آدمی تھے۔ انتہائی بے ضرر، ہر ایک کے کام آنے والے اس حد تک کہ خدائی فوجدار بن کر کھڑے ہوجاتے تھے۔

’’ الیاس بھائی ‘آپ اس میں کیوں ٹانگ اڑاتے ہیں۔ آپ سے اس کا کیا واسطہ؟‘‘

وہ کہتے ’’ ارے میاں ۔ اب وہ کہہ رہے ہیں تو کیا کروں؟ ارگ کسی کا بھلا ہوجائے تو میرا کیا نقصان ہے؟‘‘

کراچی کی سرکردہ فلمی ہیروئنوں سے ہماری پہلی ملاقات اور پھر تعلقات میں وسعت الیاس بھائی کے ذریعے ہی ہوئی تھی۔

پہلے تو شمیم آرا سے انہوں نے ہمیں ان کے گھر لے جا کر ملایا۔ ان کے گھروالوں سے ہماری واقفیت اور پھر ہمیشہ کے لیے گھریلو تعلقات الیاس بھائی کے ذریعے ہی ہوئے تھے۔ وہ ناظم آباد میں رہتی تھیں۔ اس زمانے میں بہت سے فلم والے ناظم آباد میں رہا کرتے تھے۔ الیاس بھائی جس سے ملاتے تھے اس کو یہ تو بھروسا ہوتا تھا کہ جو شخص ان کے ساتھ آیا ہے وہ قابلِ اعتماد ہے۔ پھر ہمارے نام سے بھی لوگ واقف تھے۔ اس پر الیاس بھائی کی تعریفیں۔

’’ ارے بھئی‘ یہ تو لاہور کی فلم انڈسٹری کے بادشاہ ہیں۔ ان کا حکم کوئی نہیں ٹال سکتا۔ صاف کہہ دیتے ہیں کہ میاں لاہور میں رہنا ہے یا نہیں‘‘ گویا ہم لاہور کے غنڈے تھے۔ بھلا بتائیے کسی شریف صحافی کی تعریف کا یہ کون سا انداز ہے؟

پھر وہ ہماری بہت ساری تعریف کر کے کہتے ’’ دیکھو میاں‘ یہ کراچی کی آرٹسٹ ہیں۔ کراچی والوں کا بھی پاکستان فلم انڈسٹری پر حق ہے۔ وہاں ان کی پبلسٹی کرانا اب تمہارا کام ہے۔ تصویریں میں تمہیں دے دوں گا۔ سارے اخباروں کو دے دینا اور دیکھو، ایسا نہ ہو کہ شائع نہ ہوں۔‘‘

گویا ہ لاہور کے تمام اخباروں اور فلمی رسالوں کے مالک تھے۔ خیر‘ ہماری سب سے شناسائی تو تھی۔ پاکستان ٹائمز اور امروز کے فلمی شعبوں کے انچارج ہمارے دوست بھی تھے لیکن الیاس صاحب ، یہ سب اتنے و ثوق سے کہتے تھے کہ ہم پریشان ہوجاتے تھے کہ اگر ان کی فرمائش پوری نہ کی تو لوگ ہمارے بارے میں اور خود الیاس بھائی کے بارے میں کیا سوچیں گے۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ