”عمران خان اس جماعت کے 3 ووٹوں کے بغیر بھی وزیراعظم بن سکتے ہیں لیکن رابطے دراصل ان لوگوں کیلئے پیغام ہے جو ۔ ۔ ۔“ سینئر صحافی حامد میر نے ایسی بات بتادی کہ ہنگامہ برپا ہوگیا

”عمران خان اس جماعت کے 3 ووٹوں کے بغیر بھی وزیراعظم بن سکتے ہیں لیکن رابطے ...
”عمران خان اس جماعت کے 3 ووٹوں کے بغیر بھی وزیراعظم بن سکتے ہیں لیکن رابطے دراصل ان لوگوں کیلئے پیغام ہے جو ۔ ۔ ۔“ سینئر صحافی حامد میر نے ایسی بات بتادی کہ ہنگامہ برپا ہوگیا

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) 2018ءکے عام انتخابات میں کامیابی کے کئی دن بعد بھی حکومتوں کے بارے میں واضح نہیں ہوسکا اور تاحال جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے ، حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی مختلف پارٹیوں اور آزادامیدواروں کیساتھ رابطے میں ہیں اورانہیں اپنے ساتھ ملانے کیلئے کوشاں ہیں۔

سینئرصحافی حامدمیرنے روزنامہ جنگ میں لکھاکہ ”عمران خان نے یہ کہتے ہوئے مجھے حیران کر دیا کہ وہ بلوچ لیڈر اختر مینگل سے ملاقات کیلئے تیار ہیں اور ان کے 6 مطالبات کی حمایت کریں گے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ کا پہلا مطالبہ گمشدہ افراد کے حوالے سے ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ تمام گمشدہ افراد کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ ان کے پاس قومی اسمبلی میں صرف تین نشستیں ہیں لیکن عمران خان ان کے مطالبات کی حمایت صرف تین نشستوں کیلئے نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا، ”میں نے 2012ءمیں اختر مینگل کے 6 نکات کی حمایت کی تھی اور میں 2018ء میں بطور وزیراعظم ان کے 6 مطالبات پر بات کرنے کی کوشش کروں گا کیونکہ مجھے ان کے مطالبات میں کچھ غلط نہیں لگ رہا۔“

حامد میر نے مزید لکھاکہ ’ اختر مینگل ایسے افراد میں سے ایک ہیں جو کھل کر 2018ءکے انتخابات سے قبل اور بعد میں ہونے والی دھاندلی کی بات کر رہے ہیں۔ وہ طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے پرانے نقاد ہیں۔ عمران خان ان کے تین ووٹوں کے بغیر بھی وزیراعظم بن سکتے ہیں لیکن ان کی بی این پی کے ساتھ ان کے رابطے ا±ن لوگوں کیلئے پیغام ہے جو سمجھتے ہیں کہ وہ ا ن طاقتور قوتوں کی کٹھ پتلی ہیں جو اختر مینگل جیسے لوگوں کو پارلیمنٹ میں نہیں دیکھنا چاہتیں۔ عمران خان گمشدہ لوگوں کا مسئلہ فوج اور متعلقہ ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر حل کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔ یہ عمران خان ہی تھے جنہوں نے سب سے پہلے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گمشدگی کی بات کراچی سے جیو نیوزپر میرے ٹی وی شو کیپٹل ٹاک پر 2003ءمیں بتائی تھی۔ اس وقت کے وزیر داخلہ فیصل صالح حیات پروگرام میں موجود تھے۔ ڈاکٹر عافیہ آج امریکی جیل میں اپنی زندگی گزار رہی ہیں اور عمران خان ان کے معاملے میں خاموش رہنے کے متحمل نہیں ہو سکیں گے۔

عمران خان ان افراد میں سے ایک تھے جو ببانگ دہل یہ کہتے تھے کہ ”یہ ہماری نہیں بلکہ امریکا کی جنگ ہے، ہمیں اپنے لوگوں کے خلاف یہ جنگ نہیں لڑنا چاہئے، اور ہمیں تمام گمشدہ افراد کو عدالتوں میں پیش کرنا چاہئے۔“ کئی ناقدوں نے انہیں طالبان خان کہا۔ 2005ءمیں میرے ہی ایک شو کے دوران، پرویز مشرف حکومت کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے انہیں ان کے سامنے ”دو ٹکے کا کپتان“ قرار دیا تھا لیکن آج یہی شیخ صاحب ان دیگر لوگوں کے ساتھ عمران خان کے اتحادی ہیں جنہوں نے ان کا مذاق اڑایا تھا‘۔

مزید : قومی