بیرون ملک جائیداداوربینک اکاؤنٹس کیس ،مجھے معلومات ہیں لوگوں نے باہر پیسے چھپارکھے ہیں،میرے اندازے کے مطابق ہمیں 600 ارب ڈالرمل سکتے ہیں،چیف جسٹس کے ریمارکس

بیرون ملک جائیداداوربینک اکاؤنٹس کیس ،مجھے معلومات ہیں لوگوں نے باہر پیسے ...
بیرون ملک جائیداداوربینک اکاؤنٹس کیس ،مجھے معلومات ہیں لوگوں نے باہر پیسے چھپارکھے ہیں،میرے اندازے کے مطابق ہمیں 600 ارب ڈالرمل سکتے ہیں،چیف جسٹس کے ریمارکس

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ مجھے خودمعلومات ہیں لوگوں نے باہر پیسے چھپارکھے ہیں،ہم نے ایف بی آرکو بلاوجہ تنقید کا نشانہ نہیں بنانا،میرے اندازے کے مطابق ہمیں 600 ارب ڈالرمل سکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے سپریم کورٹ میں بیرون ملک جائیداد اور بینک اکاﺅنٹس کیس کی سماعت کی

احمر بلال صوفی نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس کی 2 کیٹگریزہیں،ایک غیرمعروف اوردوسراسیاسی لوگ ہیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ بہت زیادہ پیسہ پاکستان سے باہر چلاگیا،دبئی،سوئٹزرلینڈمیں اکاو¿نٹ کھلے ہیں،بیرون ملک جائیدادیں خریدی جارہی ہیں،اورہم بےچارگی کاشکارہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایف بی آر اور سٹیٹ بینک کی اپنی مجبوریاں ہیں،یہاں سے پیسہ چوری کرکے باہرجارہا ہے،ہم ایک ہزار افراد کی شناخت کر لیتے ہیں،پیسہ باہراس لیے رکھتے ہیں تاکہ ظاہرنہ کرناپڑے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم محتاج ہوگئے ہیں،مجھے خودمعلومات ہیں لوگوں نے باہر پیسے چھپائے،ہم نے ایف بی آرکو بلاوجہ تنقید کا نشانہ نہیں بنانا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میرے اندازے کے مطابق ہمیں 600 ارب ڈالرمل سکتے ہیں،گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ نے کہا کہ اس معاملہ کی چھان بین کیلئے کمیٹی بنائی گئی تھی،کمیٹی میں وزارت خارجہ،خزانہ،ایف آئی اے،نیب کے افسران تھے۔

طارق باجوہ نے کہا کہ ایف آئی اے نے بیرون ممالک کئی جائیداداوراثاثوں کاسراغ لگایا،تحقیقات کو فی الحال خفیہ رکھا جارہا ہے۔

گورنر سٹیٹ بنک طارق باجوہ نے عدالت سے 2 ماہ کاوقت مانگ لیا،عدالت نے کیس کی سماعت3 ستمبر تک ملتوی کردی۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد