’1988ءاور 1993ءمیں عمران خان کو دو مرتبہ وزارت کی پیشکش کی گئی تھی لیکن اس نے انکار کردیا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ۔ ۔ ۔‘ سینئر صحافی نے وہ بات بتادی جو آپ جاننا چاہتے ہیں

’1988ءاور 1993ءمیں عمران خان کو دو مرتبہ وزارت کی پیشکش کی گئی تھی لیکن اس نے ...
’1988ءاور 1993ءمیں عمران خان کو دو مرتبہ وزارت کی پیشکش کی گئی تھی لیکن اس نے انکار کردیا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ۔ ۔ ۔‘ سینئر صحافی نے وہ بات بتادی جو آپ جاننا چاہتے ہیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (ویب ڈیسک)سیاستدان بیشتراوقات یہ دعوے کرتے ہیں کہ مخالفین نے انہیں اپنے حق میں دستبردار کرانے یا حمایت کیلئے یہ عہدہ دینے کی پیشکش کی لیکن میں نے مسترد کردی لیکن اب سینئر صحافی نے بتایاکہ عمران خان کوپرویزمشرف دور سے قبل ہی ماضی میں دو مرتبہ وزارتوں کی پیشکش ہوچکی ہے لیکن انہوں نے مسترد کردی۔ اس حقیقت کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا کہ عمران خان نے سخت جدوجہد کی اور کبھی مختصر راستے (شارٹ کٹ) کا انتخاب نہیں کیا۔

روزنامہ جنگ میں حامد میر نے لکھاکہ ” 2005ءمیں میرے ہی ایک شو کے دوران، پرویز مشرف حکومت کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے انہیں ان کے سامنے ”دو ٹکے کا کپتان“ قرار دیا تھا لیکن آج یہی شیخ صاحب ان دیگر لوگوں کے ساتھ عمران خان کے اتحادی ہیں جنہوں نے ان کا مذاق اڑایا تھا اور جو کئی جاگیرداروں اور صنعت کاروں کی موجودگی میں وزیراعظم پاکستان بننے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس حقیقت کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا کہ عمران خان نے سخت جدوجہد کی اور کبھی مختصر راستے (شارٹ کٹ) کا انتخاب نہیں کیا۔ محمد خان جونیجو حکومت کی برطرفی کے بعد جنرل ضیا الحق نے 1988ء میں انہیں وزارت کی پیشکش کی تھی۔ عمران نے معذرت کا اظہار کیا۔

1993ء میں ایک مرتبہ پھر انہیں معین قریشی کی نگراں حکومت میں وزارت کی پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے 1996ء میں اپنی سیاسی جماعت قائم کی اور میں ہی وہ شخص تھا جس نے ا س وقت ان کے سیاست میں آنے کے خیال کی توثیق نہیں کی تھی۔ مجھے ان کے کینسر ہسپتال کی فکر تھی جس کا افتتاح 1994ءمیں ہوا تھا اور اسے عمران خان کی بھرپور توجہ کی ضرورت تھی۔ نواز شریف نے انہیں 1997ءکے انتخابات میں قومی اسمبلی کی 20 نشستوں پر اتحادی بننے کی پیشکش کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔

انہوں نے 1997ءمیں اپنا پہلا الیکشن لڑا اور ہر جگہ سے بری طرح ہار گئے۔ 2002ءکے انتخابات سے چند روز قبل، جنرل پرویز مشرف نے انہیں مسلم لیگ ق کے ساتھ اتحاد پر مجبور کرنے کی کوشش کی لیکن عمران نے انکار کیا۔ اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی جنرل احسان نے عمران کو مسلم لیگ ق کی حکومت میں شمولیت اختیار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے اور آخر میں 2002ءکے الیکشن میں پی ٹی آئی کو انتخابات میں صرف ایک نشست پر کامیابی ملی۔ آنے والے سات برسوں میں عمران خان ان افراد میں سے ایک تھے جنہوں نے پوری قوت اوربہادری کے ساتھ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بیٹھ کر پرویز مشرف کی پالیسیوں کی مخالفت کی۔ بینظیر بھٹو اور نواز شریف جلاوطن تھے اور عمران خان ان افراد میں شامل رہے جو میرے ٹی وی شو میں پرویز مشرف پر بار بار تنقید کرتے رہے۔‘

مزید : سیاست