”مجھے زرداری پر بھروسہ نہیں، وہ مجھے دھوکا دے سکتے ہیں لیکن نواز شریف۔ ۔ ۔“ صحافی نے عمران خان کو مشورہ دیا تو انہوں نے جواباً سابق وزیراعظم کیلئے کن جذبات کا اظہار کیا؟ جان کر کوئی بھی دنگ رہ جائے

”مجھے زرداری پر بھروسہ نہیں، وہ مجھے دھوکا دے سکتے ہیں لیکن نواز شریف۔ ۔ ۔“ ...
”مجھے زرداری پر بھروسہ نہیں، وہ مجھے دھوکا دے سکتے ہیں لیکن نواز شریف۔ ۔ ۔“ صحافی نے عمران خان کو مشورہ دیا تو انہوں نے جواباً سابق وزیراعظم کیلئے کن جذبات کا اظہار کیا؟ جان کر کوئی بھی دنگ رہ جائے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو اپنے مخالفین پر طنز کے نشترچلاتے تو آپ نے بہت سنا ہوگا لیکن ایک ایسا وقت بھی تھاکہ عمران خان کو یہ یقین تھا کہ زرداری دھوکہ دے سکتے ہیں لیکن نوازشریف نہیں، روایتی سیاستدانوں کیخلاف اگر کوئی عمران خان کو مشورہ دیتا تو وہ سننا ہی گوارہ نہیں کرتے تھے ۔

روزنامہ جنگ میں حامد میر نے لکھاکہ ’ 2007ءمیں جب پرویز مشرف نے ایمرجنسی نافذ کی تو انہوں نے بینظیر بھٹو اور نواز شریف سے اتحاد کیا۔ وکلا تحریک میں عمران خان نے بڑا کردار ادا کیا اور میڈیا پر عائد کردہ پابندیوں کی مخالفت کی۔ جب پرویز مشرف نے میرے ٹی وی پر آنے پر پابندی عائد کی تو انہوں نے کئی مرتبہ میرے روڈ شو میں شرکت کی۔ انہیں گرفتار کرکے جیل میں ڈالا گیا لیکن انہوں نے مشرف کیساتھ ڈیل نہیں کی۔ 2007ءمیں بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد انہوں نے پرویز مشرف حکومت کے تحت الیکشن لڑنے سے انکار کر دیا۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی نے پرویز مشرف کے ساتھ ڈیل کر لی اور نواز شریف نے پرویز مشرف حکومت کے تحت الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا جبکہ عمران خان سڑکوں پر چیخ و پکار کر رہے تھے کہ فوجی آمر کے تحت ہونے والے الیکشن کا بائیکاٹ کرو۔

مجھے یاد ہے کہ میں نے جنوری میں سردیوں کی ایک رات عمران خان سے ان کے پارٹی آفس میں ملاقات کی تھی اور انہیں بتایا کہ الیکشن کا بائیکاٹ نہ کریں کیونکہ مسلم لیگ ن بالا?خر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرے گی۔ عمران خان کو میری بات پر یقین نہ آیا۔ انہوں نے اس وعدے کا ذکر کیا جو نواز شریف نے سب کے سامنے ان کے ساتھ کیا تھا۔ انہوں نے مجھے بتایا، ”مجھے زرداری پر بھروسہ نہیں، وہ مجھے دھوکا دے سکتے ہیں لیکن نواز شریف نے نہ صرف میرے ساتھ بلکہ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے ساتھ بھی وعدہ کیا ہے، وہ ہمیں دھوکا نہیں دیں گے۔“ بدقسمتی سے میری بات درست ثابت ہوئی۔ پہلے پیپلز پارٹی اور اس کے بعد مسلم لیگ ن نے مشرف کے تحت الیکشن لڑنےکا فیصلہ کیا۔ عمران خان نے محسوس کیا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے انہیں دھوکا دیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن کے ساتھ مل کر اتحادی حکومت بنائی اور دونوں جماعتیں عمران خان کا ہدف بن گئیں۔

یہ وہ وقت تھا جب پیپلزپارٹی کے ووٹر پنجاب اور خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی طرف مائل ہونا شروع ہوئے۔ یہ وہ دن تھے جب امریکا کے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے بڑھ رہے تھے۔ عمران خان ہی وہ قومی لیڈر تھے جس نے ڈرون حملوں کیخلاف لانگ مارچ کیا۔ ان کی سابقہ اہلیہ جمائمانے ڈرون حملوں پر دستاویزی فلم بنانے میں ان کی مدد کی اور ٹی وی پر آکر ڈرون حملوں پر تنقید کی۔ عمران خان نے سندھ اور پنجاب کے حکمراں اشرافیہ پر تنقید کی اور خطے میں امریکی پالیسیوں پر بھی سخت موقف اختیار کیا۔ امریکا کی مخالفت کی وجہ سے وہ ناراض نوجوانوں کے ہیرو بن گئے اور یہی نوجوان ان کی سب سے بڑی قوت بنے۔ 2013ءکے انتخابات میں وہ تیسری بڑی سیاسی قوت بن کر ابھرے۔ اب عمران خان کی زیر قیادت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی ا?ئی) قومی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی لیکن دیگر تمام بڑی جماعتیں دھاندلی کا شور مچا رہی ہیں۔ ایک مرتبہ پھر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے اتحاد قائم کیا ہے لیکن پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماﺅں آصف زرداری اور بلاول بھٹو کو کئی تحفظا ت ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ماضی میں ان کی مسلم لیگ ن کے ساتھ مفاہمتی پالیسی کی وجہ سے عمران خان کو فائدہ ہوا ہے اور اگر انہوں نے ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ ن والوں کے ساتھ ہاتھ ملایا تو اس مرتبہ سندھ میں بھی ان کی حمایت مزید کم ہو جائے گی‘۔

مزید : قومی