کیا واقعی ایرانی سرحد کے قریب پاکستان کو تیل کا ذخیرہ مل گیا؟ بالآخر حقیقت سامنے آ گئی، جان کر ہر پاکستانی آگ بگولہ ہو جائے گا کیونکہ۔۔۔

کیا واقعی ایرانی سرحد کے قریب پاکستان کو تیل کا ذخیرہ مل گیا؟ بالآخر حقیقت ...
کیا واقعی ایرانی سرحد کے قریب پاکستان کو تیل کا ذخیرہ مل گیا؟ بالآخر حقیقت سامنے آ گئی، جان کر ہر پاکستانی آگ بگولہ ہو جائے گا کیونکہ۔۔۔

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نگران وزیرخارجہ و میری ٹائم افیئرز عبداللہ حسین ہارون نے گزشتہ روز کاروباری شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے خوشخبری سنائی تھی کہ ایران کی سرحد کے قریب پاکستانی سمندری حدود میں تیل کا بہت بڑا ذخیرہ ملا ہے۔ ان کے مطابق اس ذخیرے کی دریافت امریکی تیل و گیس کمپنی ایگزون موبل نے کی تھی۔ قوم یہ مژدہ سن کر خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی لیکن چند گھنٹوں بعد ہی وزارت توانائی نے اس کی تردید کر دی اور کہہ دیا کہ ایران سرحد کے قریب تیل کا کوئی ذخیرہ دریافت نہیں ہوا۔ نگران وزیرتوانائی علی ظفر کا کہنا تھا کہ ’’ایگزون موبل کمپنی پاکستان میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے ڈرلنگ ہی نہیں کر رہی، تو اس کی طرف سے تیل کا ذخیرہ دریافت کرنے کا سوال ہی کیا۔‘‘

رپورٹ کے مطابق عبداللہ حسین ہارون نے یہ خبر ممکنہ طور پر تکنیکی تفصیلات پڑھنے میں غلطی ہونے کی وجہ سے دی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کی بتائی ہوئی جگہ پر کوئی بھی کمپنی ڈرلنگ نہیں کر رہی اور ایگزون موبل نے حال ہی میں پاکستان سرمایہ کاری کی ہے اور اس کے پاس آف شور ڈرلنگ کے 25فیصد شیئرز ہیں۔پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے بعد اب تک ایگزون موبل یا اس کی کسی پارٹنر کمپنی نے کسی بھی جگہ ڈرلنگ نہیں کی۔ رپورٹ کے مطابق پی پی ایل، او جی ڈی سی اور ای این آئی تین پارٹنرز ہیں جو مستقبل میں ممکنہ طور پر جنوری 2019ء میں پاک ایران سرحد کے قریب اس سمندری علاقے میں کھدائی کا آغاز کریں گے۔ یہ منصوبہ ماضی میں بھی بنایا گیا تاہم اس پر عملدرآمد بوجوہ تاخیر کا شکار ہوتا رہا۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد