روحانی وائی فائی

روحانی وائی فائی
روحانی وائی فائی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ٹیکنالوجی انسان کو روحانی طور پر بھی ادراک دے رہی ہے،ایسا روحانی ادراک جسے کوئی بھی روحانی طور پر خود کو مضبوط بنانے کا شائق بھی ایک حقیقت سمجھ کر اس کی جانب سچائی سے متوجہ ہوسکتا ہے ۔سمجھنے کی بات یہ ہے ۔ انسان کی ضروریات زندگی اسکو حیرت میں مبتلا کرسکتی ہیں،ان اشیاء کا مکینکل الیکٹریکل سائبر سسٹم اسکو ورطہ حیرت میں مبتلا کرسکتا ہے تو خود خالق کائنات کی روح کا مظہر ’’حضرت انسان‘‘ خود کیا چیز نہیں ہوگا ۔یہ دنیا جسے انسان مسخر کررہا ہے اور حیرتوں کے جہاں بکھیررہا ہے خود چاہے تو اپنی روح کو مسخر کرنے میں اسکو کوئی ابہام نہیں رہنا چاہئے ۔روح کی تسخیر پر اٹھنے والے سوال انسانوں کے سوال ہیں ،کسی ایک مذہب تک محدود نہیں ۔

روح کی تلاش اور اسکی تسخیر میں سرگرداں انسانوں کی طرح میں بھی دردر بھٹکتا ہوں اورپھر ذہنی الجھنوں کا شکار ہوجاتا ہوں ۔جب وہم ،قیاس ،ابہام کے پھندے میں پھنس جاتا ہوں تو بجائے ناامید ہونے کے ایک روشنی مجھے بھی سائنس کی طرف موڑ دیتی ہے اور میں وقتی طور پر ہی سہی، ایک کمزور تاویل کے طور پر ہی مان لیں ،میں سائنسی ایجادات کے توسّل سے روح کی بیداری اور اسکی تسخیر کا سراغ لگانے کی کوشش کرتا ہوں ۔ایجادات مجھے نامعلوم سے معلوم کی جانب متوجہ کرتی ہیں ۔

روحانیت کو سائنسی بنیادوں پر سمجھنے کا شائق ہونا شاید اتنا برا نہ ہو جتنااسکو یکسر رد کردینا خرابی کا باعث بن سکتا ہے ۔اللہ نے علم اورتفکر کو پسند فرمایا ہے ۔ سوچنا باعث رحمت بھی بن سکتا ہے ۔آپ کے ہاتھ کھوج کاکوئی ایک کونہ ہاتھ لگ سکتا ہے ۔ میرا تجسس مجھے اس جانب دھکیلتا رہتا ہے کہ جسطرح سائنس ہتھیلی پر سرسوں جماتی ہے،دلیل سے اپنا وجود منوالیتی ہے ،دوا کی طرح اپنا اثر دکھاتی ہے تو روحانی تعلق اور وابستگی ایسا کیوں نہیں کرپاتی،اندر کی کھوج ایک خیال تک کیوں محدود رہ جاتی ہے ،اسکو انسانی اوہام وساوس ذہنی الجھنیں کہہ کر کیوں جھٹلادیا جاتا ہے ۔ لیکن دوسری جانب کتابوں کے پہاڑ لگے ہیں جو روحانی حکایات سے بھرے پڑے اورلدے ہوئے ہیں ،ہزارہا سالوں سے انسان کے روحانی مراتب اور اسکے احوال کا ذکر اس پہاڑسے ملتا ہے ۔کوئی انسان کسی دوسرے انسان سے روحانی طور پر کیسے رابطہ کرلیتا ہے،کوئی ہوا میں کیسے اڑ لیتا ہے،کوئی کیسے بھانپ لیتا ہے کہ روحانی طور پر قد آور انسان دوسروں کے دلوں کی باتیں بھانپ لیتا ہے ۔یقینی طور پر آپ نے ایسے واقعات سنے ہوں گے کہ روحانی پرواز رکھنے والا انسان جانوروں اور جناتوں کو بھی اپنے زیر اثر کرلیتا ہے ۔یہ انسان عام ہڈ پیر رکھنے والا ہی ہوتا ہے لیکن اسکی روح اسکے جسم سے زیادہ طاقتور اور بینا ہوجاتی ہے ۔وہ مسلمان ہوتو اسکے دل اور جسم کے ہر عضو میں اللہ ھو نور السموات کا فیض چل رہا ہوتا ہے ۔وہ اللہ کے ذکر سے اپنے اوپر اتنی قدرت پالیتا ہے کہ دنیا کے غم اسکو نہیں چھو پاتے ۔وہ مطمئن ،مسرور اور شاکر ہوتا ہے ۔پس ایک ایسا انسان خود کو بنانے کی کوشش میں بہت سے مسلمان اس را ہ پر چلتے اور دن رات ایسے وظائف و اذکارکرتے، اپنے مرشدوں کی خدمت کرکے راز ہستی پاتے ہیں لیکن ان میں سے بہت سے لوگ اپنے اندر ایسی کوئی روحانی تبدیلی پیدا نہیں کرپاتے اور پھر ان کے دل کا جو حال ہوتا ہے وہ کوئی بھی اس درد سے آشنا اچھی طرح جان لیتا ہے ۔

میں روحانیت کے مکتب میں سب سے نچلے درجہ کا طالب علم ہوں ۔میں ایسے بے شمار مشاہدات سے گزرا ہوں اورہنوزگزررہا ہوں کہ کسی طرح مجھے بھی اپنے وجود کے اندر موجود روح کا کوئی عکس دکھائی دے جاوے۔

جیسا کہ میں نے اپنے ناقص علم سے یہ راز کھوجنے کی کوشش کی ہے کہ انسانوں کے علاوہ بھی ایسے مظاہر موجود ہیں جو روح کے مگینیٹ ہونے کا ثبوت دیتے ہیں ، مشینوں سے روحانیت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے توکوئی سراغ مل جاتا ہے ۔جیسا کہ ۔۔۔بلب کیسے روشن ہوتا ہے؟جب بلب میں کرنٹ دوڑے گا اور کرنٹ خود کیا ہے ،یہ کہاں سے آیا ہے ۔ننگی تاروں میں روشنی کیوں نہیں ہوتی بلکہ وہ ٹکر اجائیں تو دھماکہ کیوں کردیتی ہیں ،یعنی توانائی کا ایک پراسس ہے جو بلب کے اندر روشنی پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے ۔گویا بلب ایک جسم ہے جس کے اندر روح بلب کے اندرونی آلات جیسی ہے جو بھاری اور خطرناک توانائی کو اپنی لطیف تاروں سے گزار کر روشن کرتے ہیں ۔گویا جسم کے اندر ایک میگنیٹک سسٹم ہونا چاہئے جو پاورز کو روشنی میں بدلنے اور اسکو کنٹرول کرنے کا کردار ادا کرسکے۔روح بھی لطیف شے جو اپنے مآخذ اور منبہ قدرت سے توانائی انسان کے جسم تک لاتی اور اسکو روشنی کے نور سے جلا بخشتی ہے،اسکا اندر روشن کرتی ہے ۔علم بتاتا ہے کہ یہ میگنیٹک سسٹم ،پاور کنورٹور یا ریسور اسکے دماغ میں موجود ہوتا ہے جس کی کھوج لگا کر اس تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

وائی فائی کیا ہے ؟ موبائل سے کمپوٹرز تک ،ڈیوائس سے موبائلز اور دیگر الکیٹرانک اشیاء کے ساتھ برقی لہروں کی مدد سے منسلک ہونے کا ایسا پاور فل عمل جو کسی تار کا محتاج نہیں ،ایک وائی فائی سے پاس ورڈ لیکر کتنے ہی موبائیلوں اور کمپیوٹرز کو منسلک کرکے انٹرنیٹ چلایا جاسکتا ہے ۔ریموٹ سے بغیر تار کے ٹی وی اے سی اور نہ جانے کیا کیا کام لیا جاسکتا ہے۔میرا گمان ہے کہ روح سے روح بھی وائی فائی کی طرح منسلک ہوجاتی ہے ۔غور کرنے کی ضرورت ہے ۔پاس ورڈ چاہئے ہوتے ہیں منسلک ہونے کے لئے ۔آپ کا باطنی سافٹ وئیر اپ ڈیٹڈ ہے تو اسکو اپنے ارد گرد وائی فائی کا احساس ہوجاتا ہے ۔اللہ کے نیک بندوں سے انسان قلبی طور پر کیسے جڑ جاتا ہے،روح کے لطیف ریشے اور شعائیں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے میں معاون ہوتی ہیں۔روح کا اپنے خالق سے تعلق اگر چہ کسی درمیانی واسطے کا محتاج نہیں لیکن آپ تھوڑی دیر کے لئے یہ خیال کرلیں کہ اللہ سے تعلق ایک سسٹم کا محتاج ہے جو قدرتی طور پر چلتا رہتا ہے لیکن جب اس سسٹم کے ساتھ مزید قربت پیدا کرنی ہوتو روح کو اپنے خالق سے جڑنے کے لئے ذکر اذکار و تسبیحات و عبادات سے وائی فائی کنکشن پر جانا پڑتا ہے ۔اللہ کی عبادت ایسا عمل ہے جو انسان کے دماغ کے اندر تحریک پیدا کرکے برقی عمل کی جانب بڑھتا ہے تو روحانی بلب روشن ہونے لگتے ہیں ۔بعض لوگ ساری عمر ایسا تجربہ کرتے ہیں مگر انکی روح کا وائی فائی لگ نہیں پاتا ۔جیسے موبائل میں یا کمپوئٹر میں وائرس موجود ہوں تو کنکشن جڑ نہیں پاتا یا پراپر کام نہیں کرتا،انسان کے برے اعمال اور بدعقیدگی بھی وائرس کی طر ح انسان کو روحانی سیٹلائٹ سے منسلک ہونے میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں ۔ اس وائرس سے نجات پالیں تو یقینی طور پر روحانی میکانیزم متحرک ہوجاتا ہے ۔یہ وائرس باطن میں پھیلا ہوا بگڑا ہوا نفس اور بد عقیدگی ہے جسے عبادت و تسبیحات کے اینٹی وائرس سے درست کرنا ہوتا ہے ۔آئیے ہم سب اپنا روحانی و ائی فائی سسٹم بحال کرنے کے لئے اپنا تزکیہ کریں ۔بے شک تزکیہ بہترین اینٹی وائرس ہے جو باطن کو آلائشوں سے پاک کردیتا ہے ۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید : بلاگ