وزیراعظم بننے سے پہلے عمران خان کے لیے بہت بڑا مسئلہ کھڑا ہوگیا، وہ خطرناک ترین کام ہوگیا جس پر آج تک کسی پاکستانی سیاستدان نے ذرا بھی توجہ نہ دی

وزیراعظم بننے سے پہلے عمران خان کے لیے بہت بڑا مسئلہ کھڑا ہوگیا، وہ خطرناک ...
وزیراعظم بننے سے پہلے عمران خان کے لیے بہت بڑا مسئلہ کھڑا ہوگیا، وہ خطرناک ترین کام ہوگیا جس پر آج تک کسی پاکستانی سیاستدان نے ذرا بھی توجہ نہ دی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

گلگت(مانیٹرنگ ڈیسک) نئی حکومت ابھی ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کی تیاری کر رہی ہے مگر مسائل ہیں کہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ سنگین سے سنگین تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ان میں سے بہت سے ایسے مسائل ایسے ہیں جو گزشتہ حکومتوں کی غفلت کا نتیجہ ہیں۔ ایک ایسا ہی خوفناک مسئلہ شمالی علاقہ جات کے بلند ترین پہاڑوں میں بسنے والوں کو درپیش ہیں، جن کی زندگی تیزی سے پگھلتے گلیشئیرز کے باعث موت سے بدتر ہو کر رہ گئی ہے۔

پاکستان کے گلیشیئر غیر متوقع تیزی سے پگھلنے لگے ہیں جس کی وجہ سے بلندی شمالی علاقہ جات میں رہنے والے لوگ مسلسل موت اور زندگی کے درمیان لٹک رہے ہیں۔ گلیشیئر اب پہلے کی نسبت زیادہ تیزی سے پگھل رہے ہیں، لوگ خود کو خطرے میں محسوس کرتے ہیں کہ یہ آفت کسی بھی وقت ان کی زندگی کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔ گلییشئیرز کے پگھلاؤ پر قابو پانا تو کوئی فوری ہونے والا کام نہیں البتہ ان علاقوں میں بسنے والوں کے لئے حفاظی اقدامات کرنا ضرور ایک ایسا کام تھا جو بروقت ہو سکتا تھا مگر نہیں کیا گیا۔

جولائی میں گلگت بلتستان کے علاقے میں ایک گلیشیئر کے پگھلاؤ سے بننے والی جھیل سے سیلابی ریلا بہہ نکلا۔ اس جھیل سے نکلنے والے پانی نے باد سوات گاؤں کو نشانہ بنایا جہاں لوگوں کے گھر اور مال مویشی اچانک آنے والے سیلاب میں بہہ گئے اور حتیٰ کہ سڑکیں اور پل بھی تباہ ہوگئے۔ گاؤں کے باسیوں کا کہنا ہے کہ اُن کا سب کچھ تباہ و برباد ہوگیاہے۔ اگرچہ باد سوات گاؤں کے قریب کئی گلیشیئر ہیں لیکن ان میں سے کسی گلیشیئر میں سے اچانک سیلابی ریلا آنے کا یہ پہلا واقعہ تھا۔

واضح رہے کہ قطبین کے بعد پاکستان دنیا کا وہ واحد علاقہ ہے جہاں اتنی بڑی تعداد میں گلیشیئر پائے جاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق قراقرم ، ہمالیہ اور ہندوکش کے پہاڑی علاقوں میں 7200 سے زائد گلیشیئر ہیں۔ ان گلیشیئرز کے پانی کا بیشتر حصہ متعدد دریاؤں اور ندیوں کی صورت میں دریائے سندھ میں جا گرتا ہے۔

ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران تقریباً 120گلیشئیر معمول سے زیادہ رفتار کے ساتھ پگھلتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ ان گلیشیئرز کے غیر متوقع پگھلاؤ کی وجہ سے بعض اوقات ان میں جمع پانی کی بڑی مقدار ایک بتاہ کن ریلے کی صورت میں باہر نکلتی ہے اور اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو بہا لے جاتی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس