مجھے اپنے قائد پر اعتماد ہے،عاطف خان کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں،عمران  خان نے جو بھی فیصلہ کیا منظور ہو گا :پرویز خٹک

مجھے اپنے قائد پر اعتماد ہے،عاطف خان کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں،عمران  خان نے ...
مجھے اپنے قائد پر اعتماد ہے،عاطف خان کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں،عمران  خان نے جو بھی فیصلہ کیا منظور ہو گا :پرویز خٹک

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نوشہرہ (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خان خٹک نے کہا ہے کہ نامزد وزیر اعظم عمران خان کو قومی اسمبلی میں بھر پور اکثریت حاصل ہوچکی ہے، خیبرپختونخوا ، پنجاب ، سند ھ اور بلوچستان اور وفاقی کابینہ سمیت تمام فیصلوں کا اعلان عمران خان خود کریں گے،پی ٹی آئی کی وفاقی اور صوبائی حکومتیں عمران خان کی قیادت میں میرٹ اور انصاف پر مبنی فیصلے کرے گی،سو دن کے پروگرام کو آخری شکل دی جارہی ہے،یہ وقت مشکل فیصلے کرنے کا ہے،مجھے اپنے پارٹی قائد پر اعتماد ہے، اس نے جو بھی فیصلہ کیا وہ مجھے منظور ہوگا،تمام فیصلے ملک اور صوبوں کے مفاداور میرٹ پر ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق نوشہرہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز  خٹک نے کہا کہ 25 جولائی کے انتخابات کے بعد میڈیا غلط اندازے اور خبریں لگا رہاہے، پارٹی میں تمام عہدوں کے لیے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے اور تمام فیصلے چیئرمین عمران خان خود کریں گے۔انھوں نے کہا کہ اس وقت عمران خان کی تمام تر توجہ اپنے منشور اور سودن کے پروگرام پر ہے اور بنی گالہ میں تما م اجلاس اسی حوالے سے ہورہے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ میرے حوالے سے بھی غلط اندازے لگائے جارہے ہیں،میری عاطف خان کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں ،میری ابھی تک عاطف خان کے ساتھ اس حوالے سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، فیصلوں کااختیار پارٹی  قائد کے پاس ہے۔ پرویز خٹک نے کہا کہ ہمارے سامنے بہت بڑے چیلجنز ہے ،ہم نے قبائل کے انضمام کے بعد غیور قبائل کو ان کاحق دینا ہے، ہم نے دہشت گردی ختم کرکے امن قائم کرناہے، اس ضمن میں ہم سب کوساتھ لیکر چلیں گے، اداروں کے ساتھ محاز آرائی ہر گز نہیں کریں بلکہ اداروں کے  ساتھ ملکر اس ملک کو معاشی بحران سمیت دہشت گردی بدامنی لاقانونیت ناانصافی اقرابا پروری کرپشن سے نجات دلا نا ہے،سپیکر قومی اسمبلی کے انتخاب کے بعد عمران خان صوبوں کے وزیر اعلیٰ سمیت وفاقی کابینہ کے ناموں کااعلان کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ میں نے الیکشن مہم کے دوران کسی بھی پارٹی کوکوئی گالی نہیں دی بلکہ میں ووٹوں کی خرید وفروخت اور سرعام مردوں اور خواتین کی منڈیاں لگاکر ان کے ووٹ اور شناختی کارڈ کے خرید وفروخت کے خلاف آواز اٹھائی لیکن پھر بھی میں نے اپنے الفاظ پر معذر ت مانگ لی اوریہ سبجیکٹ ختم ہوچکا ہے۔ 

مزید : الیکشن /خیبرپختونخوا اسمبلی /علاقائی /خیبرپختون خواہ /پشاور