مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمہ کے بعد؟

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمہ کے بعد؟

پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کا بھارت کا یک طرفہ اقدام مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ متنازعہ علاقے کی حیثیت تبدیل نہیں کی جا سکتی۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے یہ اقدام کر کے خطے کو تباہی کی طرف دھکیل دیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے ملائشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد اور ترکی کے صدررجب طیب اردوان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیاہے اور کہا ہے کہ بھارت کے اس اقدام کے خطے کے امن اور سیکیورٹی پر سنگین نتائج مرتب ہوں گے، ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے کہا کہ معاملے پر پاکستان کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔صدر اردوان نے یقین دہانی کرائی کہ ترکی اس معاملے پر پاکستان کے موقف کا حامی ہے اور پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔بھارتی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر شدید احتجاج کیا گیا، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں بھی بھارت کے اِس اقدام کو چیلنج کر دیا گیا ہے، راولپنڈی میں کور کمانڈرز کانفرنس میں بھارت کے فیصلے سے پیدا شدہ صورتِ حال پر غور کیا گیا۔ پارلیمینٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں بھارتی اقدام کے خلاف قرارداد مذمت منظور کی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ روز جو کچھ کیا اب دُنیا کے کچھ کرنے کا وقت آ گیا ہے،کیونکہ اب اگر کچھ نہ کیا تو سب کا نقصان ہو گا۔ بھارت نے حملہ کیا تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ پاکستان جواب نہ دے، بات روایتی جنگ کی طرف گئی تو ٹیپو سلطان کی طرح خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے۔

خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد کشمیر کا درجہ بھارت کی باقی ریاستوں سے بھی نیچے چلا گیا اور اسے مرکز کے زیراہتمام علاقہ قرار دے دیا گیا ہے،حالانکہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلوں کی رو سے کشمیر میں صدر راج کا نفاذ بھی بعض شرائط سے مشروط کیا گیا ہے،اِس لئے اگر تازہ فیصلے کو بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تو اس کے مخالف فیصلہ بھی آ سکتا ہے۔عدالتی جنگ کے ساتھ ساتھ دوسری جنگ وہ ہے،جو کشمیر کے گلی کوچوں میں پہلے کی طرح ہی لڑی جاتی رہے گی،جو نوجوان یہ جنگ لڑ رہے ہیں انہیں اِس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ کشمیر اب مرکز کے ماتحت علاقہ بن گیا ہے اور اس کا خصوصی درجہ ختم ہو گیا، وہ تو جان ہتھیلی پر رکھ کر نہ صرف آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں،بلکہ آئندہ بھی لڑتے رہیں گے۔نریندر مودی کشمیر کے لئے خصوصی درجہ ختم کرنے کی سیاسی جدوجہد بھی کرتے رہے ہیں اور انہوں نے اپنے ایامِ جوانی میں اِس مقصد کے لئے احتجاج کا راستہ بھی اپنایا تھا، اِس لئے اب اگر انہیں موقع ملا ہے تو انہوں نے اس سے فائدہ اُٹھا کر اپنے خواب کی تعبیر کر ڈالی ہے اور اس کے لئے وقت وہ منتخب کیا ہے جب ثالثی کا سراب دکھایا جارہا ہے، تاہم پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ضرور حیرت ہوئی ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ اندازہ نہیں تھا کہ بھارت چوبیس گھنٹے میں یہ اقدام کرے گا، غالباً وہ ابھی تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ثالثی کے فسوں کا شکار تھے ورنہ اگر وہ زمینی حقائق کو ذرا گہری نظر سے دیکھتے تو اُنہیں ضرور اندازہ ہو جاتا کہ بھارت کچھ نہ کچھ ضرور کر رہا ہے، کیونکہ اِس بارے میں تو کئی دن سے اخبارات اور میڈیا میں قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں،چونکہ شاہ محمود قریشی تازہ تازہ امریکہ کے دورے سے آئے تھے اِس لئے غالباً انہوں نے صدر ٹرمپ کی یقین دہانی پر کچھ زیادہ ہی انحصار کر لیا تھا،حالانکہ جونہی ٹرمپ کی ثالثی کی تجویز سامنے آئی تھی بھارت نے اسے اسی وقت مسترد کر دیا تھا،لیکن نہ جانے کیوں پاکستان میں اس تجویز کے گرد خوش فہمی کے حصار کھڑے کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی اور یہ تاثر دیا گیا کہ اب تو ٹرمپ نے ثالثی کا کہہ دیا ہے، تو مسئلہ حل ہوا کہ ہوا،حالانکہ کوئی بھی ثالثی اُس وقت تک شروع ہی نہیں ہوتی جب تک دونوں فریق کسی کو ثالث نہ مان لیں، جب بھارت ثالثی کی تجویز مسترد کر چکا تھا تو پھر اس پر اصرار کئے جانے کی منطق تو سمجھ سے بالاتر تھی۔ اب تو ”ثالث“ خود بھی خاموش ہیں۔

بھارتی الیکشن سے پہلے ہی وزیراعظم عمران خان کا خیال تھا کہ اگر مودی الیکشن جیت گئے تو اُن کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کی بات چیت میں آسانی رہے گی،لیکن یہ توقع بھی نقش برآب ثابت ہوئی،مودی نے مسئلہ کشمیر تو اپنے دیرینہ خوابوں کی روشنی میں اپنے تئیں ”حل“ کر دیا ہے اور جہاں تک بات چیت کا تعلق ہے اس پر وہ اب تک آمادہ نہیں ہوئے، اس سے یہ اندازہ لگانے میں دِقت محسوس نہیں ہوتی کہ ہمارے حکمرانوں نے مودی کو سمجھنے میں غلطی کی اور اُن کی سیاست کے بارے میں غلط اندازے لگائے یا پھر بلاوجہ ایسی خوش گمانیوں کا شکار ہو گئے،جس کی معروضی حالات قطعاً اجازت نہیں دیتے تھے۔

اب جبکہ بھارتی حکومت نے ایک اقدام اُٹھا لیا ہے یہ خود بھارتی آئین کی خلاف ورزی اور اس کی سیکولر روح کے بھی منافی ہے توممکن ہے بھارت کے قانون پسند حلقے اس معاملے کو سپریم کورٹ میں لے جائیں اور وہاں سے کسی ایسے فیصلے کی امید رکھیں،جو بھارت کی مرکزی حکومت کو اس کے عزائم سے باز رکھے،امید کی دوسری کرن البتہ کشمیری عوام کی اپنی جدوجہد ہے،جس پر وہ انحصار کر سکتے ہیں، دو عشروں سے جاری اس جدوجد میں کشمیریوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ نہتے ہو کر بھی اپنی جدوجہد کو جاری رکھ سکتے ہیں اور بندوقوں اور سنگینوں سے خوفزدہ نہیں ہیں، باہر سے ملنے والی کسی جدوجہد پر اب انہیں بھروسہ نہیں رہا، کیونکہ اگر کوئی اخلاقی اور سفارتی مدد اُنہیں دُنیا کے ممالک سے مل رہی تھی تو وہ بھی آہستہ آہستہ اس معاملے میں یا تو غیر جانبدار ہو گئے ہیں یا پھر کسی وجہ سے بھارتی موقف کے قائل ہو گئے ہیں،کئی اسلامی ملک توکشمیر کے اس مسئلے کو اس نظر سے نہیں دیکھتے جس طرح پاکستان دیکھتا ہے،اِس لئے پاکستان کو ان کی امداد پر بھی زیادہ انحصار نہیں کرنا چاہتے،مسلمان ممالک کی تنظیم او آئی سی ویسے ہی ایک غیر متحرک اور غیر فعال تنظیم ہے، جو دُنیا کو کردار ادا کرنے کی اپیل تو کر سکتی ہے خود شاید کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں، ایسے میں وزیراعظم عمران خان نے اسلامی دُنیا سے اگر کوئی توقع باندھی ہے تو دیکھنا چاہئے اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ البتہ پاکستان کے اندر ہماری صفوں میں اتحاد ہونا چاہئے۔

بھارتی اقدام کے بعد یہ تنازعہ پھر سے دنیا کی نگاہوں میں آ گیا، حتی کہ دنیا اس خدشے سے بھی دوچار ہو گئی کہ دو ایٹمی ممالک کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کرکے کسی المناک حادثے کی صورت نہ اختیار کر جائے۔ پاکستان میں تمام طبقات ہر نوع کے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک نقطے پر آ گئے اور بھارت کے عمل کو مسترد کر دیا۔ بھارتی وزیراعظم مودی نے مقبوضہ کشمیر کی جنت نظیر وادی کو جہنم بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور ظلم و وحشت کی بھی نئی تاریخ رقم کی۔ پاکستان اور پاکستانی عوام بہرحال مقبوضہ کشمیر کے اپنے بھائیوں کی ساتھ ہیں اور بھارت کے حالیہ اقدام نے ایک بار پھر 1965ء کی یاد دلا دی جب حزب اختلاف نے تمام تر اختلافات کے باوجود اس وقت کے صدر ایوب کے پاس خود جا کر حمائت کا یقین دلایا تھا۔ اب بھی حزب اختلاف نے پہل کی اور اس تنازعہ کی روشنی میں مکمل حمائت اور یکجہتی کا اعلان کیا اور ثبوت دیا، قومی اسمبلی، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں منظور قراردادوں کے ذریعے بھارتی اقدام کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ بھارت کے اس غیر آئینی اور غیر اصولی اور غیر اخلاقی فعل نے قوم کو پھر سے اکٹھے ہونے اور قومی مسائل پر اتفاق رائے کا پیغام دیا، یقین کرنا چاہیے کہ جس جذبے کے ساتھ لبیک کہا گیا اسی جذبے کے ساتھ اگلے اقدامات بھی ہوں گے اور سیاسی اختلافات دیرینہ دشمن کی ریشہ دوانیوں کے سامنے پس پشت رہیں گے۔ اتفاق میں برکت اور اللہ مدد کرتا ہے، پاکستان کی مسلح افواج اور قوم ایک صفحہ پر ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ