روٹی، نان کی قیمت پر پھر تنازعہ!

روٹی، نان کی قیمت پر پھر تنازعہ!

پنجاب میں نانبائیوں اور تندور والوں نے حکومت کی طرف سے تجویز کی گئی روٹی اور نان کی قیمت کو مسترد کر دیا اور مطالبہ کیا ہے کہ آٹا، میدہ اور گیس سمیت دوسرے اجزاء کی قیمتوں میں اضافے کی روشنی میں روٹی دس روپے کی ہی دی جا سکتی ہے، متحدہ نان روٹی ایسوسی ایشن نے اس کے ساتھ ہی 29اگست سے پنجاب بھر میں تندور بند کرکے ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق مہنگائی بڑھنے کی وجہ سے چھ روپے کی روٹی بیچنا ممکن نہیں۔روٹی اور نان کی قیمتوں میں اضافے کا یہ تنازعہ دراصل سیلز ٹیکس کے نفاد کی روشنی میں میدے،اور آٹے کے تھوک نرخ بڑھانے سے پیدا ہوا، جس کے بعد حکومت نے بار بار اعلان کیا کہ آٹے، میدے پر سیلز ٹیکس نہیں۔ فلور ملز والوں نے خیر مقدم کیا اور ساتھ ہی عذر پیش کیا کہ جو گندم وہ خریدتے ہیں اس پر ٹیکس تا حال ہے۔ فلور ملز مالکان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سرکاری گوداموں سے مہنگی گندم بیچی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں جو مذاکرات ہوئے ان کی روشنی میں آٹے کے نرخ واپس لینے کا اعلان ہوا،لیکن عملی طور پر ایسا نہ ہوا، اب حکومت نے تنوروں کے لئے گیس میں رعائت کی غرض سے ایک ارب روپے کی سبسڈی بھی منظور کی،لیکن روٹی، نان والے مطمئن نہیں ہیں، اور نہ ہی سبسڈائزڈ گیس ملنا شروع ہوئی ہے، صوبائی وزیر اطلاعات وصنعت میاں اسلم اقبال نے مذاکرات کے بعد روٹی کے نرخ چھ روپے مقرر کرائے تھے،وہ حج پر چلے گئے ہیں۔ یہاں صورت حال تبدیل ہوگئی ہے۔ حکومت کو کوئی بھی قدم اٹھانے سے قبل طویل غور اور مشاورت کرنا چاہیے، تاکہ بار بار کا تعطل نہ ہو، اب بھی مذاکرات حل ہے اور آٹے کے نرخ معمول پر لانا چاہئیں کہ شہری بھی مہنگا خرید رہے ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ