.فواد چوہدری کی بھارت کیساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کی تجویز کے بعد اب کیا ہونے جا رہا ہے؟ حامد میر نے اہم ترین بات بتا دی

.فواد چوہدری کی بھارت کیساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کی تجویز کے بعد اب کیا ...
.فواد چوہدری کی بھارت کیساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کی تجویز کے بعد اب کیا ہونے جا رہا ہے؟ حامد میر نے اہم ترین بات بتا دی

  


لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) معروف سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی جانب سے بھارت کیساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کی تجویز کے بعد اب یہ قوی امکان ہے کہ حکومت بھارت میں تعینات اپنے قائم مقام ہائی کمشنر کو بھی واپس بلا لے۔

تفصیلات کے مطابق فواد چوہدری پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس میں تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ فواد چوہدری کی یہ بات بالکل درست ہے کہ کل جب وزیراعظم پارلیمینٹ کے اجلاس میں بار بار اپوزیشن سے تجاویز کے بارے میں پوچھ رہے تھے تو اپوزیشن کے اہم رہنماﺅں نے کوئی تجویز نہیں دی، آج بھی اپوزیشن کے رہنماﺅں نے لمبی لمبی تقریریں کیں مگر تجویز کوئی نہیں دے رہا، سب سے اہم تجویز فواد چوہدری کی جانب سے سامنے آئی ہے جنہوں نے کہا ہے کہ اگر ہندوستان کی حکومت کشمیریوں کا قتل عام کرنے جا رہی ہے تو پھر ہمیں ہندوستان کیساتھ اپنی سفارتی تعلقات ختم کر دینے چاہئیں اور ہندوستان کا ہائی کمشنر اسلام آباد میں کیا کر رہا ہے جبکہ اس تجویز کے بعد پارلیمینٹ کے کئی اراکین بھی آپس میں صلاح مشورہ کر رہے ہیں۔

حامد میر نے کہا کہ یہ تجویز اپوزیشن کی جانب سے سب سے پہلے مسلم لیگ (ن) کے رہنماءمشاہد حسین سید نے دی تھی اور سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف نے ان کیساتھ اتفاق کیا تھا مگر فواد چوہدری کی بات کی اہمیت اس لئے زیادہ ہے کیونکہ وہ وفاقی کابینہ کے رکن ہیں، ہماری اطلاعات کے مطابق حکومت پہلے سے ہی اس معاملے پر سوچ رہی ہے لیکن اپوزیشن کی طرف سے پارلیمینٹ میں اس حوالے سے کھل کر بات نہیں کی گئی۔ فواد چوہدری نے جب یہ تجویز پیش کی تو ڈیسک بجا کر اس کی حمایت کرنے والوں میں اپوزیشن اراکین بھی شامل تھے لہٰذا اب یہ قوی امکان ہے کہ پاکستان کم از کم بھارت میں تعینات قائم مقام ہائی کمشنر کو واپس بلا لیں گے کیونکہ اس وقت بھارت میں پاکستانی ہائی کمشنر نہیں ہیں اور نئے ہائی کمشنر نے 18 اگست کو وہاں جا کر چارج لینا تھا لیکن اگر حکومت نے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا تو قائم مقام ہائی کمشنر بھی پاکستان واپس آ جائیں گے۔ اس وقت کشمیریوں کو پاکستانی پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے ایسا پیغام جانا چاہئے جس سے ان کو پتہ چلے کہ پاکستانی قوم ان کیساتھ کھڑی ہے اور بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے۔

مزید : قومی