’’ستاروں سے آگے ‘‘وہ تحریر جو آپ کی زندگی بدل دے

’’ستاروں سے آگے ‘‘وہ تحریر جو آپ کی زندگی بدل دے
’’ستاروں سے آگے ‘‘وہ تحریر جو آپ کی زندگی بدل دے

  


سنتے تھے کہ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ۔ جس زمانے کی یہ باتیں ہیں، وہ زمانے نہ رہے  اور ان زمانوں کے ساتھ ساتھ وہ ستارے بھی نہ رہے  اور جب وہ ستارے ہی نہ رہے جن کے آگے اور جہاں آباد تھے تو وہ جہاں بھی نگاہوں سے اوجھل ہوئے جن کو ڈھونڈنے کے لئیے عشق کے بہت سے امتحان دینا پڑتے تھے اور پاس بھی کرنا پڑتے تھے ۔

اب تو ایک ہی جہاں ہے  اور امتحان ہی امتحان ہیں  اور امتحان بھی عشق کے نہیں  بلکہ سوچ و گمان کے ہیں  اور سب سے بڑی سوچ یہ کہ موجودہ امتحان کے بعد نہ جانے اور کون سے مشکل امتحان کا سامنا کرنا پڑے گا  کہ اس جہان میں سانس لینے کی شرط معیشت سے پیوست کردی گئی ہے اور معاشی استحکام کو عام اور ایماندار آدمی کے دائرہ زندگی سے دور کردیا گیا ہے اور اس کے لئیے ایک کے بعد ایک اور رکاوٹ کھڑی کر دی گئی ہے ۔

سائیکولوجیکل وار فئیر ( نفسیاتی جنگ و جدل ) آج کی جنگیں لڑنے اور اپنا کوئی نقصان کئیے بغیر جیتنے کا نیا اور جدید طریقہ ہے  اور اس طریقہ جنگ و جدل کے دو اولین اور مہلک ترین ہتھیار ہیں۔مخالف کی معیشت کا بھٹہ بٹھانا اور اس کے ایمان و یقین کی دیواروں میں دراڑیں ڈالنا  اور یہ ڈبل بیرل گن ایک ساتھ فائر کرتی ہے  اور اپنے دشمن کو اس طرح چوگنی کا ناچ ، ناچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ وہ سارے جہان،سارے آسمان ،سارے ستارے ،سارے سیارے بھول کر اپنے روز کے بڑھتے زخموں کی مرہم پٹی میں لگ جاتا ہے اور ساری چوکڑی فراموش کر کے روز کی روٹی کمانے کی فکر میں لگ جاتا ہے۔

ہمارا ملک،ہمارے لوگ بھی آج اسی دہرے حملے کی زد میں ہیں  اور اپنی جذباتیت اورفطری بیوقوفی کی وجہ سےنہ اپنے حقیقی دشمن  کو پہچان پارہےہیں اورنہ اپنے مسائل کے منطقی حل کو جان پا رہے ہیں اور نہ ہی نادیدہ دشمن کے چنگل سے نکلنے کے حربے سوچ پا رہے ہیں ۔ یہ جنگ روایتی طور طریقوں سے نہ لڑی جا سکتی ہے ، نہ جیتی جا سکتی ہے  اور نہ ہی میں اور آپ اتنے پاک صاف اور نیک و شریف ہیں کہ فرشتے آکر ہماری مدد کریں گے  یا خلائی اور آسمانی مخلوق ہمیں ہمارے عذابوں سے نجات دلائے گی ۔

سائیکولوجیکل وار فئیر میں جذبات ، احساسات اور نظریات کو مسخ کیا جاتا ہے ’ہم ‘ کی جگہ ’میں‘ اور ’ ہمارے ‘ کی بجائے’ میرے اور تمھارے ‘ کی سوچ امپلانٹ کی جاتی ہے ۔ ’ یہ میرا مسئلہ نہیں ، یہ تمھارا اور فلاں فلاں کا مسئلہ ہے ‘ کی فکر کو پروان چڑھایا جاتا ہے ۔ یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں ہوتا  اور نہ ہی یہ سب کچھ ڈائریکٹ کسی باضابطہ سکرپٹ کو اپلائی کرکے کیا جاتا ہے ۔ دس ، بیس ، تیس سالہ منصوبہ بندی کے ذریعے کم از کم دو تین نسلوں کی ذہن سازی کی جاتی ہے اور پھر ان نئے کھلاڑیوں نئے نوجوانوں کے ہاتھوں معاشرتی نظام و اقدار کو تہس نہس کروایا جاتا ہے ۔

آج سے چالیس سال پہلے تک اس طرح کی تمام اسٹریٹجک پلاننگ ، دنیا کی مخصوص اقوام کے مخصوص ذہین ترین افراد ، انتہائی خفیہ جگہوں پر مہینوں کی میٹینگز میں بنایا کرتے تھے ۔

مگر پھر کمپیوٹر کی ایجاد نے دنیا کی خفیہ تنظیموں کے خفیہ کاموں کو آسان سے آسان بنا دیا  اور پھر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی دریافت اور سہولت نے مہینوں کا کام بھی دنوں میں سمیٹ دیا ۔ آج ، سائیکولوجیکل وار فئیر کا سب سے خطرناک ٹول ،

’ آرٹیفیشل سپر انٹیلیجنس ( ASI )

ARTIFICIAL SUPER INTELLIGENCE

ہے ۔ یعنی عظیم مصنوعی ذہانت ۔ دنیا کے ایک فیصد انتہائی ذہین ترین افراد کی مجموعی ذہانت سے بھی کئی ہزار گنا زیادہ مصنوعی ذہانت ،جو محاورے کے مطابق نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں کسی بھی انسان کی رگ رگ سے واقفیت ، منٹوں میں نہ صرف حاصل کرسکتی ہے اور اس کے حساب کتاب سے اس انسان کے خیالات اور احساسات کو اپنے مقاصد کیلئے مینی پلویٹ ( Manipulate ) کر لیتی ہے اور متاثرہ فرد کو پتہ بھی نہیں چلتا پاتا کہ اس کی سوچ کا محور بھی آہستہ آہستہ بدلتا جارہا ہے اور اس کے جذبات میں بھی فرق پڑتا جا رہا ہے اور کچھ ہی عرصے میں اس کی بنیادی نفسیات اور شخصیت کا ڈھانچہ یکسر مختلف ہو جاتا ہے ۔

ماہرین نفسیات انسانی ذہن کو اپنی کسی مخصوص پلاننگ کے مطابق ڈھالنے کی تگ و دو میں گزشتہ اسی نوے سالوں سے جو تجربات کر رہے تھے ، وہ کمپیوٹر اور اب آرٹیفیشل سپر انٹیلیجنس کی ایجاد اور دریافت کے بعد بہت تیزی کے ساتھ دنیا کے مختلف ممالک میں بیک وقت جاری و ساری ہیں ۔ پہلے یہ تجربات اور مشاہدات خاص خاص لیبارٹریز میں جانوروں اور کچی سوچ اور کمزور شخصیت رکھنے والے خاص خاص لوگوں پر کئیے جاتے تھے  مگر اب ابتدائی اور درمیانی مراحل میں کامیابی کے بعد پوری پوری قومیں ، پورے پورے ملک آخری مراحل کے تجربات کی نذر ہو رہے ہیںاور ان تجربات اور مشاہدات کا شکار ہونے والے لاکھوں ، کروڑوں لوگوں کے فرشتوں کو بھی علم نہیں کہ وہ ان دیکھی ، انجانی ، ماورائی طاقتوں کی حامل آرٹیفیشل سپر انٹیلیجنس کی خفیہ ریز کی زد میں ہیں ۔

ستاروں اور سیاروں پر کمندیں ڈالنے کی باتوں کی فلم ظاہری سکرین پر دکھا کر ، اندر ہی اندر انسانوں کی روح اور ذہن پر قابض ہو کر ، ان کو نفسیاتی ، معاشرتی اور معاشی زنجیروں میں جکڑ کر اپنے چھپے ہوئے مقاصد کی تکمیل اور پوری دنیا کو غلام بنانا ، آرٹیفیشل سپر انٹیلیجنس کو لانچ کرنے والوں کا بنیادی گول ہے اور دیگر ملکوں کے شہریوں کی طرح ہم بھی ASI کے شکنجے میں گرفتار ہیں اور ان کی طرح ہم کو بھی نہیں پتہ ، نہیں اندازہ کہ غیر محسوس طریقے سے ہم بھی نئے Venture کرنے کی بجائے ، نئے Venues ڈھونڈنے کی بجائے ، ستاروں پر کمندیں ڈالنے کی کوشش کی بجائے ، نئے جہانوں کو Explore کرنے کی بجائے ، اپنے اپنے کوزوں ، اپنے اپنے کونوں ، اپنے اپنے ڈربوں ، کو بچانے کے چکر میں الجھا دئیے گئے ہیں  اور ہمیں باہر نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا ۔

ہماری حقیقی ذہانت نے مصنوعی ذہانت کے آگے ہتھیار ڈال دئیے ہیں، ہم دو جمع دو برابر چار کے حساب کتاب میں لگ گئے ہیں ۔ جوڑ توڑ اور حساب کتاب نے ہمیں خوابوں اور کتابوں سے دور کر دیا ہے ۔ حقیقی علم ، تگ و دو اور جستجو سے دور کردیا ہے  جبکہ اگر ہم چاہیں تو اپنی فطری اور کھری ذہانت سے اپنے جہاں کے کھوئے ہوئے سکون کو واپس لا سکتے ہیں ۔ اسی جہاں میں رہتے ہوئے ، نئے جہاں آباد کر سکتے ہیں ۔ پھر پرانے زمانے کی ہنسی خوشی کے ساتھ ستاروں سے آگے جہان دیگر کے حصول کی آسان کر سکتے ہیں ’ زہر کا تریاق زہر ہوتا ہے ‘  یہ بات آپ کے علم میں بھی ہوگی ۔ اپنے مخالف پر فتح پانی ہے تو ہم سب کو مخالف کی طرح سوچنا ہوگا ۔ اس کے جوتے پہن کر ، اس کے طور طریقوں کو سمجھ کر ، اس کی چالوں اور چالاکیوں کے مطابق اپنا گیم پلان ترتیب دینا ہوگا  اور یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب ہم کو اس بات ، اس حقیقت کا ادراک ہوگا کہ ہمارے ساتھ ایسا ہو رہا ہے اور اب بہت تیزی سے ہو رہا ہے اور یہ کہ اب بھی اگر ہم نے ہوش کے ناخن نہیں لئیے تو ہم ہمیشہ کے لئیے اپنی ہر طرح کی آزادی کھو دیں گے ۔ ASI کے بچھائے ہوئے جال سے باہر نکلنے اور اسے کاونٹر کرنے کے لئیے ہمیں سب سے پہلے اس کے ALGORITHM کو سمجھنا ہوگا ، اس کو  سٹڈی کرنا ہوگا ۔ اور اس کے بعد خود کو  اَپ ڈیٹ کرنا اور رکھنا ہوگا ۔

یہ کام ہمارے ہونہار اور ہوشیار جوانوں کا ہے ۔ ہم جیسے لوگ تو محض چراغ جلانے کی کوشش کرتے ہیں  لیکن ضروری یہ ہے کہ ہم ذہنی اور دلی طور پر موجودہ صورتحال کی نزاکت کو سمجھیں اور اس سے باہر نکلنے کے لئیے بیرونی سہاروں پر ذرہ برابر بھی انحصار نہ کریں ۔ بیرونی سہاروں پر جینے والے نئے جہانوں اور نئے ستاروں کی سیر تو درکنار ، جلد یا بدیر اپنے اپنے جہان سے بھی بےگھر ہو جاتے ہیں ، بےگھر کر دئیے جاتے ہیں ۔

اپنے اپنے من پسند مشاغل کی قربانی دئیے بنا میں اور آپ کبھی بھی اس طرح کے کیا ، کسی بھی طرح کے نئے کام کے لئیے نہ وقت نکال سکتے ہیں،نہ اپنی توجہ اور توانائی کو یکسوئی کے ساتھ نئے جہانوں ، نئے کاموں کے وقف کر سکتے ہیں ۔

مجھے دیکھیئے ۔ میں نے اپنے تمام دل سے قریب فاونٹین پین اور پیڈز درازوں میں بند کر دئیے ہیں ۔ اپنے دل اور اپنی روح کے من پسند TOPICS کو سائیڈ میں رکھ کر ، ایسے خشک اور تلخ ، مگر حقیقی اور موجودہ حالات کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے مضامین لکھنے شروع کر دئیے ہیں ۔ یا یوں کہہ لیجیئے کہ فون پر انگوٹھے کی مدد سے ٹائپ کرنا شروع کر دئیے ہیں ۔ جب میں اس عمر میں اپنے اندر اس طرح کی تبدیلی لا سکتا ہوں تو آج کے نوجوان تو مجھ سے ہزاروں گنا زیادہ TALENTED اور متحرک اور تروتازہ ہیں ۔ وہ تو لاکھوں گنا زیادہ کام کرنے کے اہل ہیں  اور کر سکتے ہیں ۔

اپنی معیشت کو بہتر سے بہتر بنائیے ۔ یہ آپ کا پہلا کام ہے،اس کے لئیے آپ کو کسی ڈگری ، کسی نوکری کی ضرورت نہیں ۔ اپنا ذاتی کاروبار شروع کیجئے  خواہ وہ کچھ بھی ہو ۔ کسی شرم ، کسی جھجک کے بغیر ۔ یہ پہلا قدم ہے ، ساتھ ساتھ اپنے علم میں اضافہ کرتے رہیئے ۔ یہ دوسرا قدم ہے ۔ اپنی سوچ کو نارمل اور فارمل ڈگریوں کی قید سے آزاد کیجئے ۔ یہ تیسرا قدم ہے ۔ نوکری ڈھونڈنے کی بجائے نوکریاں فراہم کرنے اور کروانے والوں کی صف میں آ کھڑے ہوں ۔ یہ چوتھا قدم ہے  اور پھر صبر ، شکر ، قناعت اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے کام ، اپنے کاروبار کو آگے بڑھانے کی جستجو کرتے رہیئے ۔ یہ پانچواں قدم ہے ۔

جن لوگوں نے کمپیوٹر ایجاد کیا ۔ جن لوگوں نے اس کی لاکھوں کروڑوں APPLICATION بنائیں ۔ لا تعداد SOFTWARE ڈیولپ کئیے ۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور پھر آرٹیفیشل سپر انٹیلیجنس کی خفیہ اور خطرناک پروگرامنگ کی ، ان سب نے بھی انہی پانچوں STEPS کو FOLLOW کیا اور کامیاب ہوئے تو کیا ہم اور آپ بھی ان پانچ کی مدد لے کر اپنے قدموں پر نہیں کھڑے ہو سکتے ؟۔

جی ہاں ! ہو سکتے ہیں  اور پھر سے ایک بار ستاروں سے آگے کے جہاں ڈھونڈ سکتے ہیں،فتح کر سکتے ہیں  اور اپنے جہان کو سکون اور خوشی سے بھر سکتے ہیں،یہ زمانہ آپ کا ہے ،اسے ضائع مت کیجئے ۔ اپنے وقت ، اپنی توجہ ، اپنی توانائی کو اس زمانے پر اپنی فتح کے جھنڈے گاڑنے پر لگانا شروع کر دیجیئے ۔آپ کے ساتھ ساتھ آپ کا ملک بھی اپنے قدموں پر کھڑا ہونے لگے گا ۔

(ڈاکٹر صابر حسین خان شہر قائد میں رہائش پذیر اور ملک کے مشہور ماہر نفسیات ہیں،علم و ادب سے گہرا شغف رکھتے  اور مختلف قومی و عوامی مسائل پراخبارات میں ان کے کالمز شائع ہوتے رہتے ہیں۔ فیڈ بیک اور دیگر مسائل کے  کے لئے وٹس ایپ نمبر  03456680988  اور www.drsabirkhan.blogspot.com    پر ڈاکٹر صابر حسین خان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔ ) 

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ