آزادی کشمیر کی منزل

 آزادی کشمیر کی منزل

  

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ دُنیا کے ہر فورم پر اٹھائیں گے، مودی کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا متکبرانہ فیصلہ کر کے بری طرح پھنس چکا ہے، کشمیر آزاد ہو کر رہے گا، بھارت نے اِس سے قبل اپنا نقشہ بنایا اور آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کو اپنا حصہ دکھایا یہ متنازع علاقہ ہے،اِس کا ردعمل دینا اور توڑ کرنا ضروری تھا، مودی نے مذہب کے نام پر نفرتیں پھیلا کر مسلمانوں کا قتل ِ عام کروایا، کشمیریوں کو اللہ پاک ایسے دور سے گزار رہا ہے کہ اب کشمیری آزاد ہوں گے۔ 5اگست2019ء کے اقدام کے ذریعے بھارت نے سٹرٹیجک غلطی کی ہے وہ سمجھتا تھا کہ بھارت بڑی مارکیٹ ہے، دُنیا خاموش بیٹھی رہے گی، دُنیا میں بڑی  طاقتیں تکبر میں فیصلے کر کے تباہ ہوئیں، آج مودی ہماری کوششوں سے دُنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے ہم نے کشمیر کا مسئلہ بھرپور انداز میں اٹھایا، جس کی وجہ سے بھارت اپنے منصوبے میں کامیاب نہیں ہو سکا، کشمیر میں اب حالات مزید بگڑتے جائیں گے،ہندوستان بند گلی میں پھنس چکا ہے اور اگر پیچھے ہٹتا ہے تو کشمیر آزاد ہو گا، وہ کتنا عرصہ وہاں رہ سکے گا؟ وزیراعظم نے کہا ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے، وزیراعظم آزاد کشمیر کی باتوں سے مجھے مایوسی محسوس ہوئی،اُن سے لگا کہ وہ اندر سے ہارے ہوئے ہیں تاہم میری سوچ اس سے ہٹ کر ہے۔انہوں نے حریت رہنما سید علی گیلانی کی ثابت قدمی پر اُن کے لئے ”نشانِ پاکستان“ کا اعلان کیا جو انہیں 14اگست کو دیا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے یہ باتیں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔اس موقع پر آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ کشمیری پاکستان سے اب اخلاقی، سیاسی و سفارتی حمایت سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات چاہتے ہیں، اب معاملہ ایسی حمایتوں سے آگے جا چکا ہے، بھارتی اقدامات کو روکا نہ گیا تو خطے کو درپیش خطرہ بڑھ جائے گا۔کشمیریوں کے یوم استحصال کے موقع پر پاکستان اور آزاد کشمیر میں ریلیاں نکالی گئیں، وزیراعظم عمران خان نے مظفر آباد میں ریلی کی قیادت کی اور خطاب کرتے ہوئے بھارتی مظالم کے خلاف سینہ سپر کشمیریوں کے جذبہ ئ  حریت کو  سراہا اور شہدا کی یاد میں بنائی گئی  مزاحمتی دیوار کا افتتاح کیا۔ سینیٹ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر عارف علوی نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کا گُر اسرائیل سے سیکھا، جس طرح اسرائیل غزہ میں آباد کاری کر رہا ہے اور فلسطینیوں پر اُن کی اپنی زمین تنگ کر دی ہے، اسی طرح بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر کا محاصرہ ختم کرانے، بھارتی فوج کو ریاست سے نکالنے اور میڈیا و انٹرنیٹ پر پابندی کے خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔انہوں نے کہا کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے، مجھے کامل یقین ہے کہ کشمیریوں کی قربانیاں رنگ لائیں گی۔ یوم استحصال منانے کا مقصد کشمیریوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ تنازع کشمیر پر ہم سب متحد ہیں۔ سینیٹ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی،غاصبانہ اور یک طرفہ اقدامات کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کی، لاہور میں کشمیریوں کی حمایت میں نکالی گئی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا آج مقبوضہ کشمیر نقشے میں شامل ہوا، کل پاکستان کا حصہ ہو گا۔ اس طرح کی ریلیاں دوسرے صوبوں میں بھی نکالی گئیں، جن میں حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف شانہ بشانہ تھے۔ اسلام آباد کی شاہراہ دستور نے بھی ایسا ہی منظر دیکھا۔

کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے بھارتی فیصلے کا ایک سال مکمل ہونے پر پاکستان میں بھرپور احتجاج کر کے ایک بار پھر دُنیا کو دکھا دیا گیا ہے کہ یہ اقدام قابل ِ قبول نہیں،کشمیر عالمی ادارے کی قراردادوں کے مطابق متنازع علاقہ ہے اور اس کا حل ان کے مطابق ہی نکالا جانا چاہئے۔گزشتہ برس بھارت نے اپنے نقشے میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو جس طرح اپنے ملک کا حصہ دکھایا تھا اور اس کے بعد سرکاری ٹی وی پر ان علاقوں کے موسم کا حال بھی بتانا شروع کر دیا تھا۔ پاکستان نے اس کا جواب اب دیا ہے اور خود وزیراعظم کے اپنے الفاظ میں ردعمل دیا ہے۔ پاکستان کا جو نیا نقشہ جاری ہوا ہے اس میں متنازع علاقے کو اسی حیثیت میں دکھایا گیا ہے،جو زمین پر موجود حقیقت کے قریب ترین ہے،کیونکہ دُنیا بھی اس علاقے کو متنازع علاقہ مانتی ہے اور اقوام متحدہ بھی۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک ورچوئل اجلاس بھی منعقد ہوا جسے رکوانے کی بھارت نے بھرپور کوشش کی تاہم بند کمرے کے اس اجلاس میں کیا ہوا ہے، اس کی کوئی اطلاع تاحال منظرِ عام پر نہیں آئی،ایسا ہی ایک باقاعدہ اجلاس(ورچوئل نہیں) پہلے بھی ہو چکا،لیکن جب تک اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہو جاتی، بند کمرے کے ایسے اجلاس محض علامتی کامیابی ہی کہلائیں گے، ضرورت اس بات کی ہے کہ اب کوئی ایسا اجلاس بھی ہو جس میں بھارت سے کہا جائے کہ وہ اپنا 5اگست کا فیصلہ واپس لے، اور خطے کی قسمت کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کرے، غالباً یہی بات ہے جو ذرا دوسرے انداز میں راجہ فاروق حیدر نے کہی کہ معاملہ اب عملی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے، حُسن ِ اتفاق ہے کہ جب وزیراعظم آزاد کشمیر یہ بات کہہ رہے تھے تو صدرِ مملکت عارف علوی سینیٹ میں ”سیاسی،اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری“ رکھنے کے عزم کا اعادہ کر رہے تھے۔ 

سید علی گیلانی ثابت قدمی کے ساتھ آزاد کشمیر کی جدوجہد میں عملاً شریک  ہیں اور اس کے لئے قید و بند کی صعوبتیں مسلسل برداشت کر رہے ہیں اور اب بھی وہ گھر پر نظر بند ہیں،ان کی عمر نوے سال سے زائد ہے جس کا بیشتر حصہ وہ زندانوں اور نظر بندیوں کی نذر کر چکے، لیکن اپنے موقف سے یک سر مو منحرف نہیں ہوئے ان کی اسی ثابت قدمی کا حکومت نے اعتراف کرتے ہوئے انہیں نشانِ پاکستان کا اعزاز دینے کا اعلان کیا ہے اور اس طرح اس گستاخی کی بڑی حد تک تلافی ہو گئی ہے جو انہیں ”سٹھیا ہوا بڈھا“ قرار دے کر ہمارے ایک ہمہ مقتدر حکمران نے کی تھی، چونکہ اس بُڈھے نے اس حکمران کا وہ منصوبہ رد کر دیا تھا، جس کے ذریعے کشمیر کو مختلف زونز میں تقسیم کر کے مسئلہ ”حل“ کرنے کی راہ نکالی گئی تھی، بھارت نے بھی بعد میں یہ منصوبہ مسترد کر دیا جو سید علی گیلانی پہلے ہی مسترد کر چکے تھے، ویسے بھی اس منصوبے کے ذریعے جو ”حل“ نکالا گیا تھا وہ مجموعی طور پر کشمیریوں کے لئے بھی ناقابل ِ قبول تھا، جبکہ پاکستان کا موقف ہمیشہ یہ رہا ہے کہ مسئلے کا ایسا حل نکالا جائے، جو کشمیریوں کے اطمینان کے مطابق ہو، اب سید علی گیلانی کی خدمات کا اعتراف کر کے انہیں جو اعزاز دیا گیا ہے اس کا نقطہ عروج تو اسی وقت آئے گا جب مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل ہو گا۔

یوم استحصال کے موقع پر خود کشمیر کے اندر ایک بڑی پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ بھارتی حکومت سے اختلاف کی بنیاد پر مقبوضہ کشمیر کے فوجی گورنر گریش چندر نے استعفا دے دیا ہے، انہوں نے کشمیر کے حالات کے متعلق اپنے تحفظات بھارت کو بھیجے تھے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، مسلسل کرفیو اور لاک ڈاؤن کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات کی جانب حکومت کی توجہ دلائی تھی، لیکن مرکزی حکومت نے اِس جانب توجہ نہیں دی،اِس لئے انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کا ایک سال مکمل ہونے پر مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارتی عہدیدار بھی اس صورتِ حال سے خوش نہیں،اعتدال پسند سیاسی رہنما اور انسانی حقوق کے علمبردار بھی کشمیر کے حالات پر آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔ایک سال کے عرصے میں جو  وفود  وقتاً فوقتاً ریاست کے دورے پر جاتے رہے، انہوں نے بھی کوئی ایسی رپورٹ پیش نہیں کی،جس سے مرکزی حکومت خوش ہو۔ یہی حالات ہیں جو بالآخر کشمیر کی سیاست کا رُخ بدل دیں گے اور ایک صدی سے زیادہ عرصے سے ڈوگرہ راج اور پھر اس کے بھارتی جانشینوں کے خلاف جدوجہد کرنے والے کشمیریوں کو کامیابی نصیب ہو گی۔یہ منزل اب  زیادہ دور  دکھائی نہیں دیتی۔

مزید :

رائے -اداریہ -