پٹرولیم مصنوعات میں ملاوٹ روکنے کا معاملہ؟

پٹرولیم مصنوعات میں ملاوٹ روکنے کا معاملہ؟

  

پٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے ایک پرانی سکیم نئے لیبل  کے ساتھ سامنے آئی ہے، جس کے مطابق پٹرولیم مصنوعات  میں ملاوٹ کی اطلاعات کی وجہ سے غور کیا جا رہا ہے کہ  لائٹ ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمت ہائی سپیڈ ڈیزل کے نرخوں کے برابر کر دی جائے۔  پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کے موجودہ نرخوں کے مقابلے میں مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کے نرخ قریباً42 روپے فی لیٹر کم ہیں۔ یوں پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل میں ملاوٹ فائدہ مند ہے۔ یہ عمل ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ مشینری کے لئے نقصان دہ ہے، اس اضافے کی تجویز کے حق میں یہ دلیل بھی دی گئی کہ عوام کی سطح پر تو مٹی کا تیل150 سے 160روپے فی لیٹر ہی بکتا ہے، اِس لئے نرخوں میں اضافہ ان کو متاثر نہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ اب یورو  فائیو پٹرول متعارف کرایا جانا ہے۔ اس سے ملاوٹ کرنے والوں کو منافع خوری کے اور مواقع بھی ملیں گے، اس لئے یہ بہتر عمل ہو گا،ایک دور میں ماحولیاتی آلودگی کے پیش  ِ نظر ڈیزل کے نرخ پٹرول سے زیادہ کئے گئے، تب فرق زیادہ تھا اور کاریں بھی ڈیزل والی متعارف کرا دی گئی تھیں۔ بعدازاں مٹی کے تیل کی ملاوٹ کا انکشاف ہوا تو یہ نرخ بھی بڑھا کر پٹرول کے برابر کئے گئے تھے۔ بہرحال ملاوٹ بہت نقصان دہ ہے۔ اس کا روکنا ضروری ہے لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ کیا اس کے سوا کوئی اور طریقہ موجود نہیں ہے، جس سے ملاوٹ روکی جا سکے۔ اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو پھر یہ کڑوا گھونٹ پینا ہی پڑے گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -