ایک مندر سے اگلی ہندتوائی منزل 428 مندر؟  (1)

ایک مندر سے اگلی ہندتوائی منزل 428 مندر؟  (1)
ایک مندر سے اگلی ہندتوائی منزل 428 مندر؟  (1)

  

21جون اقوام متحدہ کا یوم یوگا ہے۔یہی دن راشٹریہ سیوک سنگھ کے بانی کیشوا بلیرام ہیڑگیوار کا یوم وفات ہے۔ نریندر مودی کی کوششوں سے ہندو انتہا پسند تنظیم کے اس بانی رہنما کے یوم وفات کو اقوام متحدہ نے یوم یوگا قرار دیا ہے۔ ان دونوں ایام کا گہرا تعلق احیائے ہندومت تحریک ہندوتوا سے ہے جس کے مہیب سائے اسلامی جمہوریہ کے وجود پر گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ماضی بعید میں جانا تو بے مقصد ہے، ہندتوا کی موجودہ لہر نے پاکستان آرمی کے جنرل پرویز مشرف کے دور میں پاکستان کا رخ کیا. یوگا کے دیوتا مبلغ شری شری روی شنکر نے 2004 میں اسلام آباد اور کراچی کا خاموش دورہ کرکے اپنے مطلب کے خواتین و حضرات بحسن وخوبی تلاش کرلیے۔

اس دورے پر ٹائمز آف انڈیا کی23 جولائی 2004 کی رپورٹ کے چند جملے آپ کو بخوبی بتا دیں گے کہ یہاں اس شخص کی کس قدر پزیرائی ہوئی تھی: "تقدس مآب(His Holiness) نے فرمایا, 'وہاں کے لوگ اس بارے میں بے انتہا پرجوش تھے. یہ ایک خیرسگالی دورہ تھا. وہاں کے لوگوں میں ہمارے مذہب کے بارے میں غلط فہمیاں ہیں. کچھ لوگ تو کشادہ دل تھے۔ بہت سے لوگ بتدریج کھلتے گئے۔ جب آپ اپنی بات پہنچاتے ہیں تو محبت ظاہر ہوکر رہتی ہے'۔" ٹائمز آف انڈیا جیسا چوٹی کا اخبار پورے ایک فیچر میں شری شری روی شنکر کے دورے کے نتائج پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کرتا ہے۔ پاکستان میں اس دورے کی بابت عوام کو معلوم تک نہیں ہوتا، کیوں؟ اس لئے کہ محبان وطن کی حکومت کے زیر سایہ یہ خاموش دورہ متعین اہداف کے حصول کی خاطر اثرورسوخ رکھنے والے چند خاندانوں تک محدود تھا حالانکہ روی شنکر کو ہندوستان میں دیوتا کا سا تقدس حاصل ہے۔ فوربزکی 2009 کی رپورٹ کے مطابق روی شنکر بھارت کا پانچواں طاقتور ترین شخص ہے۔

یہ وہ عہد تھا کہ جب پاکستان میں  دہشت گردی کے سبب روزانہ درجنوں افراد ہلاک ہوتے تھے۔ پاکستان کا مسخ تشخص دنیا میں پھیلا دیا گیا تھا۔ اس عالم میں اس "محبت بھرے" دورے نے پاکستانی اشرافیہ کے بند بنگلوں میں سے نوعمر لڑکے لڑکیوں کو ہدف بنا کر تھوڑے ہی عرصے میں یوگا کا گرویدہ بنا لیا۔ لیکن اس دورے کی تھوڑی تفصیلات کے بغیر بات واضح نہیں ہو سکتی۔روی شنکر کی بین الاقوامی ہندتوائی تنظیم آرٹ آف لونگ فاؤنڈیشن (AOLF) دنیا کے 156 ممالک میں کام کر رہی ہے. دنیا بھر میں اس کے دس ہزار سنٹر قائم ہیں۔ صرف امریکہ میں اس کے دو سو سینٹر ہیں۔ نعیم نامی ایک پاکستانی نے سان فرانسسکو کے آرٹ آف لونگ سینٹر سے یوگا، مراقبہ، انسانیت، ذہنی سکون، روحانیت اور ایسے کئی ہندتوائی کورس کئے۔

وہاں نعیم کی ملاقات ایک پاکستانی راولپنڈی کی رہائشی شہناز من اللہ سے ہوئی تو مس من اللہ نے 2002 میں سان فرانسیسکو سینٹر سے ایڈوانس کورس کیا۔ مس من اللہ کے بقول اس کورس نے ان کا "سب کچھ بدل کر رکھ دیا". نعیم اور شہناز دونوں پاکستان آئے اور آتے ہی اس بھارتی ہندتوائی تنظیم کے سربراہ کے دورے کا اہتمام کرنے لگ گئے۔ تب کسی بھارتی شہری کو ویزہ لینے میں کم از کم چھ ہفتے لگتے تھے لیکن شہناز من اللہ کے اثرورسوخ کااندازہ کیجئے کہ انہوں نے یہ کام صرف چھ دنوں میں کرالیا۔ 2004 میں وہ بنی گالا اسلام آباد میں ہندو مت کی تعلیمات پر مبنی آرٹ آف لونگ سینٹر قائم کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔

محب وطن پرویز مشرف کے اگلے تین سالہ اقتدار میں اس سینٹر کو نہ صرف چھیڑا نہیں گیا بلکہ باخبر ذرائع کے بقول سینٹر اور اس کی مالک منتظم شہناز من اللہ کو ہرممکن سہولت دی گئی۔ 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت بننے اور2014 میں خاتمے تک اس تنظیم کی متعدد شاخیں ملک کے دیگر شہروں میں خاموشی سے قائم ہو چکی تھیں۔ 2012 میں روی شنکر نے پاکستان کا دوسرا کامیاب اور خاموش دورہ کیا۔ تب تک اسلام آباد اور کراچی سمیت کئی شہروں میں متعدد سنٹر قائم ہو چکے تھے۔ ان سینٹروں کا ہدف وہ خالی الذہن نوجوان لڑکے لڑکیاں ہوتے تھے جنہیں اپنی روایات اور مذہب کا  اتنا ہی علم ہوتا ہے جتنا مجھے آپ کو بدھ مت کا علم ہے۔ یہ سنٹر ملک کے کئی شہروں میں خاموشی سے پھیلتے گئے۔

2014 کے انتخابات کی گہماگہمی میں ایک رات بنی گالا میں شہناز من اللہ کا یہ سینٹر 'نامعلوم افراد' نے جلا ڈالا۔ نیوزویک کی 10 جون 2014 کی ٹائم لائن کے مطابق آٹھ نومسلح افراد نے سینٹر کے ملازمین کو باندھا، پھر اپنے ساتھ لائے پٹرول سے سینٹر کو جلا ڈالا۔ تفتیش کا نتیجہ وہی نکلا جو نامعلوم افراد کے خلاف نکلا کرتا ہے۔چند دن بعد "مودی کے یار" نواز شریف کی حکومت آئی تو اس نے اپنے دور اقتدار میں اس ہندتوائی تنظیم کے گرد شکنجہ ایسا کس کر رکھا کہ ابھی تک اس کی بحالی کا بظاہر کوئی امکان پیدا نہیں ہو سکا۔

 چھوٹی سی یہ خبر سامنے آنے پر میں نے اپنے طور پر تحقیق کی تو مندرجہ بالا حقائق سامنے آئے۔ یہ کوشش بھی کی کہ ان سینٹروں میں سے کسی سے رابطہ ہو تاکہ جا کر میں خود مشاہدہ کروں لیکن ایک سینٹر کے جلنے پر باقی سینٹر خاموشی سے بند ہوگئے۔کون نہیں جانتا کہ ملک میں وہ لابی موجود ہے کہ ایران کے پاؤں میں ننھا سا کانٹا چبھ جائے تو اس کے یہاں صف ماتم بچھ جاتی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ خلیجی اورعرب ملک میں معمولی سا بحران پیدا ہو تو پاکستان میں ایک حلقہ وہ ہے جس کا واویلا تھمنے میں نہیں آتا۔ یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ ملک میں مغربی ممالک نے این جی او کے روپ میں ہزاروں سے متجاوز، بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں۔ لیکن کیا کسی کو یہ بھی معلوم ہے،  کہ ان سب سے بڑھ کر یا کم از کم عرب و عجم سے کہیں بڑھ کر ہندوتوا ئی شکنجہ پاکستانی معاشرت کو بری طرح جکڑے ہوئے ہے۔ چنانچہ 2014 میں بنی گالہ آرٹ آف لونگ سینٹر جلنے پر میں نے  مسئلہ کی تہ تک جانے کا فیصلہ کیا۔

معلوم ہوا کہ ملک بھر میں آرٹ آف لونگ کے نام سے ایسے متعدد سینٹر موجود ہیں۔ ان سینٹروں میں وہ لوگ تو جانے سے رہے جو معاش کی الجھنوں کا شکار ہوں گے۔ ان  میں اشرافیہ کے لڑکے لڑکیاں، خواتین و حضرات اور حد تو یہ ہے کہ بھولے بھالے نمازی، پرہیزگار اور دین دار افراد بھی ورزش کے نام پر شریک ہوتے تھے۔پھر سنٹر کے عیار لوگ ان میں سے اپنے مطلب کے مخصوص خواتین و حضرات کو چھانٹ لیتے۔آج کل کا تو پتا نہیں لیکن ان دنوں راولپنڈی کے ایوب پارک میں  یوگا کے نام پر کھلے عام ذہنی سکون اور عالمگیر انسانی قدروں کو فروغ دینے والی ورزشیں کی جاتی تھیں۔  (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -