عدالتی حکم سے روگردانی، چیف ہوم، سیکرٹری قانون کو توہین عدالت پر شوکاز نوٹس جاری 

عدالتی حکم سے روگردانی، چیف ہوم، سیکرٹری قانون کو توہین عدالت پر شوکاز نوٹس ...

  

 لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے کمشنروں، ڈپٹی کمشنروں اور اسسٹنٹ کمشنروں کو مجسٹریٹس کے اختیارات دینے کا حکومتی نوٹیفکیشن معطل کرنے کے عدالتی حکم سے روگردانی پر پنجاب کے چیف سیکرٹری اورہوم سیکرٹری کے بعدسیکرٹری قانون کوبھی توہین عدالت کے تحت شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 26اگست تک جواب سمیت طلب کرلیاہے،عدالت نے معمولی جرائم کے ان تمام مقدمات کاریکارڈ بھی طلب کرلیاہے جن میں مختلف افراد کو نوٹیفیکیشن کی معطلی کے بعد کمشنروں،ڈپٹی کمشنروں یااسسٹنٹ کمشنروں کی طرف سے سزائیں سنائی گئیں،عدالت نے متعلقہ افسروں سے وضاحت طلب کی ہے کہ کیوں نہ انہیں توہین عدالت پرسزا دی جائے؟عدالت نے گزشتہ تاریخ سماعت پر 21جولائی کو چیف سیکرٹری،ہوم سیکرٹری،کمشنر لاہورڈویژن،ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ اور اسسٹنٹ کمشنر مریدکے کو توہین عدالت کے تحت اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کئے تھے،اب سیکرٹری قانون کو بھی شوکاز نوٹس جاری کردیاگیاہے،دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جس طرح کے نوٹیفکیشن یہ حکومت جاری کر رہی ہے، میں نے آج تک ایسے نوٹیفکیشن نہیں دیکھے،چیف جسٹس نے قراردیا کہ پنجاب حکومت نے 17جون2020ء کو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے مذکورہ انتظامی افسروں کومجسٹریٹس کے عدالتی اختیارات تفویض کئے،عدالت نے 9جولائی 2020ء کویہ نوٹیفکیشن معطل کیا لیکن عدالت کے اس حکم پر عمل درآمد نہیں ہوا،چیف جسٹس نے قراردیا کہ پتہ نہیں حکومت کے لیگل امور پر کون مشیر ہیں جو حکومت کوغلط مشورے دیتے ہیں، عدالت نے سرکاری وکیل کی موجودگی میں زیرنظر نوٹیفکیشن معطل کرنے کاآرڈر جاری کیا مگر اس کی دانستہ تعمیل نہ کی گئی، سیکرٹری قانون سمیت محکمہ قانون کی کارکردگی صفر ہے،سیکرٹری قانون کی مشاورت کے بغیر کوئی جواب عدالت میں داخل نہیں ہو سکتا، اس سلسلے میں سیکرٹری قانون کی کیاکارکردگی ہے؟فاضل جج نے استفسار کیا کہ عدالت نے حکومتی نوٹیفکیشن پر عمل درآمد معطل کیا، اس پر چیف سیکرٹری نے کیسے تعمیل کروائی؟ سرکاری وکیل نے کہا کہ چیف سیکرٹری نے زبانی طور ٹیلی فون پر صوبہ بھر کے ڈی سی اور اے سی صاحبان کو عدالتی حکم سے آگاہ کیا تھا، چیف جسٹس نے کہا کہ سرکاری نوٹیفیکیشن کی معطلی کے میرے حکم کے بعد پرائس کنٹرول کے قانون کے تحت انتظامی افسروں نے لوگوں کوکیسے سزائیں دے دیں؟آئی جی جیل خانہ جات کی طرف سے عدالت میں رپورٹ پیش کی گئی کہ پرائس کنٹرول ایکٹ کے تحت سزاپانے والے 17 افرادجیلوں میں اب بھی موجود ہیں، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم کے بعدپنجاب حکومت نے اپنا نوٹیفکیشن واپس لے لیا تھا،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ دیکھنا ہے کہ نوٹیفکیشن کی معطلی کے بعد یہ سزائیں کیسے ہوگئیں؟عدالت نے مذکورہ کارروائی کے بعد کیس کی مزید سماعت26اگست تک ملتوی کردی۔عبداللہ تنویر نامی شہری نے کمشنروں،ڈپٹی کمشنروں اور اسسٹنٹ کمشنروں کو عدالتی اختیارات دینے کے حکومتی اقدام کو چیلنج کررکھاہے،درخواست گزار کا موقف ہے کہ انتظامی افسروں کو عدالتی اختیارات تفویض کرنا آئین کے منافی ہے۔

شوکاز نوٹس 

مزید :

علاقائی -