سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت، ڈرگ ریگو لیٹر ی اتھارٹی ترمیمی بل 2020منظور 

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت، ڈرگ ریگو لیٹر ی اتھارٹی ترمیمی بل 2020منظور 

  

 اسلام آباد(آئی این پی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی بل 2020 منظور کر لیا کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی صحت یابی کی شرح 94 فیصد ہے،ملک بھرکورونا وائرس کے 20 ہزار836 ایکٹوکیسزہیں،ہسپتال نہ پہنچ پانیوالے مریضوں کیلئے ورچوئل ہسپتال پرکام جاری ہے کمیٹی کا اجلاس چئیرپرسن سینیٹر خوش بخت شجاعت کی زیرصدارت ہوا،اجلاس میں کمیٹی ارکان کے علاہ وزارت صحت و متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔کمیٹی اجلاس میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی بل 2020 پر تفصیلی غور کیا گیا،جس کے بعد کمیٹی نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی بل 2020 منظورکرلیا،ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی بل 2020 سنییٹرجاوید عباسی نے پیش کیا،بل میں صحت سے متعلقہ کچھ مصنوعات کیلئے نان ڈرگ کیالفاظ استعمال نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے،ترمیم سے بل میں استعمال کی گئی اصطلاح سے کوئی بھی مطابقت ختم ہوجائے گی،ترمیم اصطلاح کے غلط استعمال میں کمی کا باعث بنے گی،ترمیم ادویات کی مناسب قیمتیں یقینی بنانے میں بھی مددگارہوگی۔کمیٹی کوکورونا وائرس کی موجودہ صورتحال اوروباپرقابوپانے کیلئے مستقبل کی حکمت عملی پربریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ فروری سے اب تک 2 لاکھ 43 ہزار870 ٹیسٹ کیے گئے،کورونا وائرس کیباعث 6 ہزار14 افراد جاں بحق ہوئے،کورونا وائرس سے متاثرہ 2 لاکھ 54 ہزار286 افراد صحت یاب ہوئے،کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی صحت یابی کی شرح 94 فیصد ہے،ملک بھرکورونا وائرس کے 20 ہزار836 ایکٹوکیسزہیں،گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے11 ہزار915 ٹیسٹ اور675 مثبت کیسزرپورٹ ہوئے،گزشتہ 24 گھنٹے میں کورونا وائرس میں مبتلا15 افراد جاں بحق ہوئے،ملک بھرمیں کورونا وائرس مریضوں کیلئے27 ہزار540 بسترپرمشتمل 493 ہسپتال ہیں کورونا وائرس کے مریضوں کیلئے 1 ہزار783 وینٹی لیٹرزوقف ہیں،ہسپتال نہ پہنچ پانیوالے مریضوں کیلئے ورچوئل ہسپتال پرکام جاری ہے کمیٹی کو نیشنل ہیلتھ ایمرجنسی رسپانس ایکٹ، عوامی آگاہی اورصحت عملے کی استعدادکاربڑھانے اورمعاشی وسائل سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی،کمیٹی ارکان نے لیبارٹریزکی غیرمنصفانہ تقسیم، ٹیسٹوں کی سہولیات اورحفاظتی سامان سے متعلق سوالات کئے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ تمام فیصلے اورسامان کی فراہمی صوبوں کی مشاورت سے ہوئی،نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹرمیں تمام سٹیک ہولڈرزشامل ہیں۔

ترمیمی بل 

مزید :

صفحہ آخر -