عالم بنیں اور عالم بنائیں!

عالم بنیں اور عالم بنائیں!

  

 مولانا محمد الیاس گھمن 

اللہ تعالیٰ جس شخص کے بارے خیر کا ارادہ فرمائیں، اسے دین میں سمجھ عطا فرماتے ہیں اور دین؛ پڑھنے سیکھنے اور سمجھنے سے آتا ہے۔ مدارس اسلامیہ کا نیا تعلیمی سال شروع ہورہا ہے:طلباء سروں پر پگڑیاں اور ٹوپیاں، چہروں پر داڑھیاں، مسنون  لباس، اسلامی وضع قطع، واجبی سے زادراہ اٹھائے ہوئے علم دین کی طلب میں گھروں کو خیر باد کہہ کر، والدین، بہن بھائیوں، دوستوں اور عزیز واقارب کو چھوڑ کر جوق در جوق دینی اداروں کا رخ کر رہے ہیں۔یہ ایک مقدس مقصد کے حصول کے لیے جمع ہو رہے ہیں، جس کی بدولت ہی دنیا میں ظلم خاتمہ اور امن کا قیام ممکن ہے، جہالت کی تاریکی کا خاتمہ اور شعور وآگہی کی شمعیں روشن ہو سکتی ہیں، حیوانیت کا خاتمہ اورانسانیت کی قدریں محفوظ رہ سکتی ہیں، تنزلی کا خاتمہ اور ترقی کے زینے طے کیے جا سکتے ہیں اور دنیا و آخرت کی رسوائیوں سے حفاظت اورابدی کامیابیاں نصیب ہو سکتی ہیں۔ 

یہ طبقہ شکوۂ ِ ظلمتِ شب کے بجائے اپنے حصے کے چراغ جلانے میں مصروف عمل ہے بلکہ یہاں تو چراغ سے چراغ جل رہا ہے، جہالت کی تاریکیاں کافور ہو رہی ہیں، انسانیت میں شعور آدمیت پیدا ہو رہا ہے، احساس بندگی کا جذبہ بڑھ رہا ہے، ادب اور اطاعت شعاری کی روایت زندہ ہو رہی ہے، دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کو سنوارنے کی فکر پروان پا رہی ہے۔ دنیا والے بھلے ان کو طنز کے نشتر چبھوتے رہیں انہیں اس بات کا کوئی غم نہیں، یہ ان باتوں سے مایوس ہو کر دین کا دامن نہیں چھوڑتے کیوں کہ انہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ملنی والی خوشخبریاں کافی ہیں۔

اس بارے متعدد آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ موجود ہیں جن میں علم اور اہل علم کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ چند احادیث پیش خدمت ہیں جن کو پڑھ کر اہل علم کے مقام و مرتبے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ طبقہ اللہ کے ہاں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں کس قدر عظمت والا ہے؟ اللہ ہمیں بھی انہی اہل حق علماء کرام سے جوڑے رکھے اور ان کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ 

حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا فرماتے ہیں۔ (صحیح البخاری، باب من یرد اللہ بہ خیرا، حدیث نمبر 71)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو طالب علم؛ علم حاصل کرنے کے راستے پر چلے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتے ہیں۔ (جامع ترمذی، باب فضل طلب العلم، حدیث نمبر 2570)

حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: علماء کے لیے زمین و آسمان کی ہر شے یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں بھی اللہ سے مغفرت طلب کرتی ہیں۔ (سنن ابن ماجہ، باب ثواب معلم الناس الخیر، حدیث نمبر 239)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم جنت کے باغوں کے پاس سے گزرو تو ان سے خوب نفع حاصل کرو۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جنت کے باغات کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علم کی مجالس۔(معجم کبیرطبرانی، حدیث نمبر 11158)

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو فرمایا: بیٹے!علماء کے پاس لازمی بیٹھنا اورحکمت والوں کی باتوں کو غور سے سننا کیونکہ اللہ تعالیٰ مردہ دل کوحکمت کے نور سے زندہ فرماتا ہے جس طرح کہ وہ مردہ زمین کو زور دار بارش سے زندگی بخشتا ہے۔ (معجم کبیرطبرانی، حدیث نمبر 7810)

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(دین کا)علم سیکھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ(کو راضی کرنے)کے لیے علم سیکھنا خشیت(اللہ کی ناراضگی اور عذاب سے ڈرنا)ہے، اسے حاصل کرنے کی کوشش کرنا عبادت(اللہ کی بندگی)ہے،اس(علم)کی ایک دوسرے کو یاددہانی کرانا یعنی  پڑھنا پڑھانا تسبیح(اللہ کی پاکی بیان کرنا)ہے،اس  کے مسائل میں سیکھنے کی غرض سے سوال و جواب کرنا  جہاد)جیسی عظیم الشان عبادت کے  ثواب کے برابر(ہے، ناواقف شخص کو  سکھانا صدقہ)اللہ کی راہ میں خرچ کرنا (ہے، اس کی اہلیت رکھنے والوں کو بتانا  باعث ثواب ہے۔ اس لیے کہ اسی کے ذریعے  حلال و حرام کی پہچان ہوتی ہے۔ علم والے اہل جنت کے راستوں کے چراغ ہیں، یہ علم وحشت کے وقت اس کا دل بہلانے والا ہے  اور تنہائی کے وقت کا ساتھی ہے اور اکیلے پن میں (گویا اس سے)  باتیں کرنے والا ہے،خوشی اور غمی میں ثابت قدم رکھنے والا ہے  اور دشمن کے مقابلے میں ہتھیار ہے، اور دوستوں میں مل بیٹھنے کے وقت زینت کا باعث ہے۔ اسی کے ذریعے اللہ تعالیٰ قوموں کو عروج دیتے ہیں،پھر اللہ تعالیٰ ان(اہل علم) کوبھلائی کے بارے میں لوگوں کا راہنما بناتے ہیں، اور ایسا امام بناتے ہیں جن کے نقش قدم پر چلا جاتا ہے، اور ان کے افعال کی پیروی کی جاتی ہے اور ان کی آراء سے  لوگوں کے مسائل ختم ہوتے ہیں، فرشتے ان(اہل علم)سے دوستی کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں، اورازراہ محبت فرشتے  اپنے پروں سے  انہیں چھوتے ہیں، ہر خشک و تر چیز یہاں تک کہ سمندر کی (لاتعداد) مچھلیاں اورپانی میں رہنے والی مخلوقات، خشکی میں بسنے والے جانور اور حشرات الارض اللہ سے ان(اہل علم)کے لیے مغفرت کی طلب گار ہوتے ہیں،یہ سب کچھ اس لیے کہ علم جہالت کی موت سے دلوں کو زندگی عطاء کرتا ہے اورظلم و  ناانصافی سے بچنے اور رکنے کے لیے آنکھوں کی بینائی کی طرح ہے اور بندہ اسی علم کی وجہ سے نیک لوگوں کے مقام و مرتبہ تک پہنچتا ہے، دنیا و آخرت میں بلند درجات پاتا ہے، اس علم میں غور وفکر کرنا روزہ رکھنے کے(ثواب کے)برابر ہے اوراس کی درس و تدریس کرنا رات بھر کی عبادت کے ثواب کے برابر ہے، اسی علم کی وجہ سے صلہ رحمی کی جاتی ہے، اسی کے ذریعے حلال و حرام کی پہچان کی جاتی ہے، یہی علم امام ہے اور عمل اس کا مقتدی ہے، خوش نصیب لوگوں کے حصے میں آتا ہے اور بدبختوں کو نہیں ملتا۔(جامع بیان العلم وفضلہ، باب جامع فی فضل العلم، حدیث نمبر 268)

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”خود عالم بنو، عالم سے سیکھنے والے بنو،ان کی بات ماننے والے بنو اور ان سے محبت کرنے والے بنو!ان چار کے علاوہ پانچویں صورت اختیار نہ کرنا ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے۔“(المجالسۃ وجواہرالعلم)

قحط الرجال کے اس دور میں جب علم اٹھتا جا رہا ہے، علماء کی ہم نشینی مٹتی جارہی ہے، علماء سے مخالفت کی رسم چل نکلی ہے اور علماء کی قدردانی ناپید ہوتی جا رہی ہے اور دنیا ہلاکت کی طرف چل رہی ہے ایسے دور میں ہمیں خود کو اور اپنی اولادوں کو دینی علم اور اہل علم سے وابستہ کرنا چاہیے۔ بچیوں کو نظر انداز کرنا اور انہی دینی تعلیم سے محروم کرنا بہت بڑی معاشرتی ناانصافی ہے۔ دینی مدارس میں جہاں دینی تعلیم و تربیت دی جاتی ہے وہاں پر عصری علوم بھی پڑھانے کا انتظام ہوتا ہے۔ الحمدللہ! دیگر جامعات کی طرح مرکز اھل السنۃ والجماعۃ سرگودھا میں تمام شعبہ جات میں نئے تعلیمی سال کے داخلے جاری ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں علماء کی صف میں شامل فرما کر احکام شریعت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم 

مزید :

ایڈیشن 1 -