حکیم الاُمت مولانا اشرف علی تھانوی  ؒ عظیم مصلح و مربی

حکیم الاُمت مولانا اشرف علی تھانوی  ؒ عظیم مصلح و مربی

  

تحریر: مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی

صدر مجلس صیانۃ المسلمین پاکستان

حکیم الامت مجددالملت حضرت مولانا شاہ اشرف علی صاحب تھانویؒ نے جہاں سینکڑوں کتب تصنیف کیں، لاکھوں لوگوں نے آپ کے مواعظ سے اپنی زندگیوں کو بدلاوہاں آپ اپنے وقت کے عظیم مصلح ومربی بھی تھے اپنے وقت کے بڑے بڑے علماء و صلحاء اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے آپ کے دستِ حق پر بیعت کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کو بدلا مولانا اشرف علی تھانویؒ نے زندگی کے ہر شعبہ میں رہنمائی فرمائی اور بدعات و رسومات کا خاتمہ کرتے ہوئے اصلاحِ معاشرہ میں اہم کردار ادا کیا۔

اسی طرح حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اصلاح و تو بہ کا آسان نسخہ ارشاد فرمایا کہ دورکعت نفل نماز پڑھ کر اس طرح دُعا مانگی جائے”اے اللہ! میں آپ کا سخت نافرمان ہوں، میں فرما نبرداری کا ارادہ کرتا ہوں مگر میرے ارادے سے کچھ نہیں ہوتا اور آپ کے ارادے سے سب کچھ ہوسکتا ہے میں چاہتا ہوں کے میری اصلاح ہو مگر ہمت نہیں ہوتی آپ ہی کے اختیار میں ہے میری اصلاح، اے اللہ میں سخت نالائق ہوں، سخت خبیث ہوں، سخت گناہگار ہوں، میں تو عاجز ہو رہا ہوں، آپ ہی میری مدد فرمائیے، میرا قلب ضعیف ہے، گناہوں سے بچنے کی قوت نہیں ہے، آپ ہی قوت دیجئے۔ میرے پاس کوئی سامانِ نجات نہیں آپ ہی غیب سے میری نجات کا سامان پیدا کر دیجیے۔ اے اللہ! جو گناہ میں نے اب تک کیے ہیں، انہیں آپ اپنی رحمت سے معاف فرمائیے، گو میں یہ نہیں کہتا کہ آئندہ ان گناہوں کونہ کروں گا، میں جانتا ہوں کہ آئندہ پھر کروں گا، لیکن پھر معاف کرالوں گا۔

غرض اسی طرح سے روزانہ اپنے گناہوں کی معافی اور عجز کا اقرار اپنی اصلاح کی دعا اور اپنی نالائقی کو خوب اپنی زبان سے کہہ لیا کرو صرف دس منٹ روزنانہ یہ کام کر لیا کرو۔ لوبھائی دوا بھی مت پیو، بدپرہیزی بھی مت چھوڑو، صرف اس تھوڑے سے نمک کا استعمال سوتے وقت کر لیا کرو۔ آپ دیکھیں گے کہ کچھ دن بعد غیب سے ایسا ہو جائے گا کہ ہمت بھی قوی ہو جائے گی، شان میں بٹہ نہ لگے گا، دشواریاں بھی پیش نہ آئیں گی، غرض غیب سے ایسا سامان ہو جائے گا کہ آپ کے ذہن میں بھی نہیں ہے۔

حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اپنے ملفوظاتِ طیبات میں اصلاحِ نفس کے لئے ایک  دستور العمل ترتیب دیا ہے جو دل پر سے پردے اُٹھاتا ہے جس کے چند اجزاء یہ ہیں: آپ ؒ نے فرمایا ایک تو کتابیں دیکھنا یا سننا۔ دوسرے مسائل دریافت کرتے رہنا، تیسرے اہل اللہ کے پاس آنا جانا اور اگر ان کی خدمت میں آمد و روفت نہ ہوسکے تو بجائے ان کی صحبت کے ایسے بزرگوں کی حکایات و ملفوظات ہی کا مطالہ کرو یا سن لیا کرو اور اگر تھوڑی دیر ذکر اللہ بھی کر لیا کرو۔ تو یہ اصلاحِ قلب میں بہت ہی معین ہے اور اسی ذکر کے وقت میں سے کچھ وقت محاسبہ کے لئے نکال لو جس میں اپنے نفس سے اس طرح باتیں کرو کہ ”اے نفس اس دنیا سے جانا ہے، موت بھی آنے والی ہے، اُس وقت یہ سب مال و دولت یہیں رہ جائے گا۔ بیوی بچے سب تجھے چھوڑ دیں گے۔ اوراللہ تعالیٰ سے واسطہ پڑے گا۔ اگر تیرے پاس نیک اعمال زیادہ ہوئے تو بخشا جائے گا اور گناہ زیادہ ہوئے تو جہنم کا عذاب بھگتنا پڑے گا جو برداشت کے قابل نہیں ہے۔ اس لئے تو اپنے انجام کو سوچ اور آخرت کے لیے کچھ سامان کر، عمر بڑی قیمتی دولت ہے، اس کو فضول رائیگاں مت برباد کر، مرنے کے بعدتُو اِس کی تمنّا کرے گا کہ کاش میں کچھ نیک عمل کر لوں، جس سے مغفرت ہو جائے، مگر اس وقت تجھے یہ حسرت  مفید نہ ہوگی، پس زندگی کو غنیمت سمجھ کر اِس وقت اپنی مغفرت کا سامان کر لے“ 

حکیم الامت مولانا شاہ اشرف علی تھانویؒ نے اپنے ملفوظات میں اس بات کی طرف بھی رہنمائی فرمائی کہ ہر مسلمان کو رات دن اس طرح رہنا چاہیے کہ:1۔ضرورت کے موافق دین کا علم حاصل کرے، خواہ کتاب سے پڑھ کر یا علماء سے پوچھ کر۔2۔ سب گناہوں سے بچے۔3۔ اگر کوئی گناہ ہو جائے تو فورًا توبہ کر لے۔4۔ کسی کا حق نہ رکھے، کسی کو زبان سے یا ہاتھ سے تکلیف نہ دے، کسی کی برائی نہ کرے۔5۔ مال کی محبت اور نام کی خواہش نہ رکھے، نہ بہت اچھے کھانے، کپڑے کی فکر میں رہے۔6۔ اگر خطا پر کوئی ٹوکے، اپنی بات نہ بناوے فورًا توبہ کرلے۔7۔  بدُوں (بغیر)سخت ضرورت کے سفر نہ کرے، سفر میں بہت سی باتیں بے احتیاطی کی ہو جاتی ہیں، بہت سے نیک کام چھوٹ جاتے ہیں، وقت پر کوئی کام نہیں ہوتا۔ 8۔ نہ بہت ہنسے، نہ بہت بولے، خاص کر نامحرم سے بے تکلفی کی باتیں نہ کرے۔9۔ کسی سے جھگڑا، تکرار نہ کرے۔ 10۔ شرع کا ہر وقت خیال رکھے۔11۔ عبادت میں سستی نہ کرے۔12۔ زیادہ وقت تنہائی میں رہے۔ 13۔ اگر اوروں سے ملنا جلنا پڑے تو سب سے عاجز ہوکر رہے۔ سب کی خدمت کرے، بڑائی نہ جتلائے۔ 14۔ امیروں سے تو بہت ہی کم ملے۔15۔ بے دین آدمی سے دور بھاگے۔16۔ دوسروں کے عیب نہ ڈھونڈے، کسی پر بدگمانی نہ کرے، اپنے عیبوں کودیکھا کرے اور اُن کی درستی کیا کرے۔17۔ نماز کو اچھی طرح، اچھے وقت پر، دل سے، پابندی کے ساتھ ادا کرنے کا بہت خیال رکھے۔18۔ دل یا زبان سے ہر وقت اللہ کی یاد میں رہے، کسی وقت غافل نہ ہو۔19۔ اگر اللہ کا نام لینے سے مزہ آئے دل خوش ہو تواللہ تعالیٰ کا شکر بجالائے۔20۔ بات نرمی سے کرے۔ 21۔ سب کاموں کے لیے وقت مقرر کرے اور پابندی سے اسے نبھائے۔22۔ جو کچھ رنج و غم نقصان پیش آئے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے جانے، پریشان نہ ہو اور یوں سمجھے کہ اس میں مجھ کو ثواب ملے گا۔23۔ ہر وقت دل میں دنیا کا حساب و کتاب اور دنیا کے کاموں کا ذکر نہ رکھے، بلکہ خیال بھی اللہ ہی کا رکھے۔24۔ جہاں تک ہوسکے، دوسروں کو فائدہ پہنچائے، خواہ دنیا کا ہو یا دین کا۔ 25۔ کھانے پینے میں نہ اتنی کمی کرے کہ کمزور یا بیمار ہو جائے نہ اتنی زیادتی کرے کہ عبادت میں سستی ہونے لگے۔26۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے طمع نہ کرے، نہ کسی طرف خیال دوڑائے کہ فلاں جگہ سے ہم کوفائدہ ہو جائے۔ 27۔ خداتعالیٰ کی تلاش میں بے چین رہے۔28۔ نعمت تھوڑی ہو یا بہت، اس پر شکر بجالائے اور فقروفاقہ سے تنگ دل نہ ہو۔ 29۔ جو اس کی حکومت میں ہیں ان کی خطا و قصور سے درگزر کرے۔30۔ کسی کا عیب معلوم ہو جائے تواس کوچھپائے، البتہ اگر کوئی کسی کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے اور تم کومعلوم ہو جائے تواس شخص سے کہہ دو۔ 31۔ مہمانوں، مسافروں، غریبوں، عالموں اور درویشوں کی خدمت کرے۔32۔ نیک صحبت اختیار کرے۔ 33۔ ہر وقت اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔34۔ موت کویاد رکھے۔35۔ کسی وقت بیٹھ کر روز اپنے دن بھر کے کاموں کو سوچا کرے، جو نیکی یاد آئے، اس پر شکر کرے، گناہ پر توبہ کرے۔36۔ جھوٹ ہرگز نہ بولے۔37۔ جو محفل خلاف شرع ہو، وہاں ہرگز نہ جائے۔38۔ شرم و حیا اور بُرد باری سے رہے۔39۔ ان باتوں پر مغرور نہ ہو کہ میرے اندر ایسی خوبیاں ہیں۔ 40۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کرے کہ نیک راہ پر قائم رکھے۔

انسان کو اصلاح و تذکیہ نفس کے لیے کسی ولی کامل اور شیخ طریقت جو متبع شریعت ہو اس سے بیعت ہونا چاہیے موجودہ پرفتن دور میں ہر ایک کے لیے یہ بہت ضروری ہے جس طرح ظاہری مرض کے علاج کے لیے ایسے طبیب کی ضرورت ہے جو خود بھی صحیح ہو تندرست ہو مریض نہ ہو اور دوسروں کا علاج بھی کر سکے کیونکہ اگر خود مریض ہے تو پھر بیمار کی رائے بھی بیمار ہے۔ اگر وہ خود تندرست ہو مگر علاج کا طریقہ نہیں جانتا تو مریض کے لئے کارآمد نہیں۔ اسی طرح باطنی امراض کے علاج کے لئے ایسے مرشد، پیر اور رہنما کی ضرورت ہے جو خود بھی متقی اور صالح ہو‘ بدعتی اور فاسق نہ ہو کیونکہ بدعقیدہ اور بے عمل سے توقع نہیں کہ وہ خیر خواہی سے تعلیم دے گا بلکہ عقیدہ میں اپنے جیسا بنانے کی کوشش کرے گا لہٰذا یہ خیال رکھنا ہو گا کہ وہ شیخ کامل ہو۔

آج کل اللہ کے ولی کہاں، اور شیخ کامل کہاں نصیب ہوتے ہیں؟ چنانچہ یہی سوچ کر لوگ بیعت سے محروم رہتے ہیں حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ نے شیخ کامل کی خصوصیات مختلف مقامات میں بیان فرمائی ہیں ان کو پیش نظر رکھا جائے تو شیخ کی تلاش میں آسانی ہو جاتی ہے۔ ان خصوصیات کا خلاصہ یہ ہے:

٭……شیخ علم شریعت سے بقدر ضرورت واقف ہو خواہ تحصیل سے یا صحبت علماء سے تاکہ فساد عقائد و اعمال سے محفوظ رہے اور طالبین کو محفوظ رکھ سکے۔

٭……عقائد، اخلاق و اعمال میں شرع کا پابندہو۔

٭تارک دنیا‘ راغب آخرت ہو‘ ظاہری و باطنی طاعت کی پابندی کرتا ہو۔

٭……کمال کا دعویٰ نہ کرتا ہو کہ یہ بھی شعبہ دنیا ہے۔

٭……بزرگوں کی صحبت اٹھائی ہو ان سے فیوض و برکات حاصل کی ہوں۔

٭……تعلیم و تلقین میں اپنے مریدوں کے حال پر شفقت رکھتا ہو اور ان کی کوئی بری بات سنے یا دیکھے تو ان کو روک ٹوک کرتا ہو یہ نہ ہو کہ اس کی مرضی پر چھوڑ دے۔

٭……جو لوگ اس شیخ سے بیعت ہیں ان میں سے اکثر کی حالت باعتبار اتباع شرع شریعت، اور حرص کی کمی کے اچھی ہو۔

٭……اس زمانے کے منصف علماء و مشائخ اس کو اچھا سمجھتے ہوں۔

٭بہ نسبت عوام کے خواص یعنی فہیم دیندار لوگ اس کی طرف زیادہ مائل ہوں۔

٭……اس کی صحبت میں چند بار بیٹھنے سے دنیا کی محبت میں کمی اور حق تعالیٰ کی محبت میں ترقی محسوس ہوتی ہو۔

٭……خود بھی ذاکر و شاغل ہو کیونکہ بدون عمل یا عزم عمل، تعلیم میں برکت نہیں ہوتی۔

٭……مصلح (اصلاح کرنے والا) ہو۔ صرف صالح ہونا کافی نہیں۔ شیخ کے لئے دونوں ضروری ہیں۔

حضرت تھانویؒ قصد السبیل میں فرماتے ہیں کہ ”جس شخص میں یہ علامات ہوں پھر یہ نہ دیکھے کہ اس سے کوئی کرامت بھی صادر ہوتی ہے یا نہیں۔ یا یہ شخص صاحب تصرفات ہے یا نہیں۔ یا اس کو کشف ہوتا ہے یا نہیں یا یہ جو دعاء کرتا ہے وہ قبول ہوتی ہے یا نہیں۔ اس طرح یہ نہ دیکھے کہ اس کی توجہ سے لوگ مرغ بسمل کی طرح تڑپنے لگتے ہیں یا نہیں۔ کیونکہ یہ شیخ کے لوازم میں سے نہیں۔“

حقیقت یہی ہے کہ انسان حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانویؒ کے ان ملفوظاتِ طیبات کی روشنی میں اصلاحِ نفس کرتے ہوئے اپنی زندگی گذارے تو دنیا و آخرت کی کامیابی انشاء اللہ اس کا مقدر ہوگی۔حضرت تھانویؒ کے ملفوظات و تصانیف آج بھی امت مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -