پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند کرے، قرارداد متفقہ منظور، میو چل لیگل اسسٹنس کریمنل ترمیمی بل بھی پاس

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند کرے، قرارداد ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،نیوز ایجنسیاں)پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی اور بھارتی مظالم کیخلاف کی قرارداد متفقہ طورپر منظورکرلی گئی۔جمعرات کو قرارداد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے پیش کی گئی۔ وزیرخارجہ نے کہاکہ بھارت ایل او سی پر شہری آبادی کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے،کشمیریوں پر مظالم کی شدید مذمت کرتے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ بھارتی اقدامات جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کیلئے بڑا خطرہ بن چکے ہیں،بی جے پی حکومت زہریلے ہندوتوا نظریے پر کاربند ہے۔قرارداد میں کہاگیاکہ جموں و کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے،بھارت غیر قانونی، یک طرفہ طور پرمقبوضہ جموں و کشمیر کی قانونی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔ قرارداد میں کہاگیاکہ پاکستان کی حکومت اور عوام بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ قرار داد میں کہاگیاکہ غاصب بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں ماورائے عدالت ہلاکتیں فوری بند کرے،بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں عالمی مبصرین کو رسائی دے۔قرارداد میں کہاگیاکہ کشمیری عوام کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں فوری روکی جائیں۔قرارداد کے مطابق بھارت فوری  9لاکھ سیزیادہ فوج بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر سے نکالے۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھارتی غیر قانونی اقدامات اور معصوم کشمیریوں پر ظلم وبربریت کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔۔قرارداد میں مزید کہاگیا کہ  بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019کو غیر قانونی قبضہ کر کے  کشمیر یوں کی نسل کشی کر رہا ہے،اقوام متحدہ  مقبوضہ کشمیر  پر کمیشن آف انکوائری مقرر کرئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مودی آر ایس ایس کی پیداوار اور   گجرات  کا قصائی ہے، کشمیر کا فیصلہ دہلی یا اسلام آباد نہیں کشمیر کے عوام کریں گے اور پاکستان کے عوام کشمیریوں کا ساتھ دیں گے عالمی تقاضوں کے مطابق قانون سازی کے حوالے سے حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں تاہم فیٹف کی آڑ میں کچھ اور نہیں کرنے دیں گے دہشتگردی ہو یا مسئلہ کشمیر ہمیں سب سے پہلے اپنا گھر سیدھا کرنا ہوگا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 6 اگست کو شہید بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کو 58 ٹو بی استعمال کرکے گھر بھیج دیا گیا۔ اس کے نتائج ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت آج تک اگر قائم ہے تو یہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان طے پانے والے میثاق جمہوریت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بل منظور ہونے سے پہلے تقریر کا موقع ملتا تو اس کا کچھ فائدہ ہو سکتا تھا۔ دیگر جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز کو بولنے کا موقع ملتا تو اس سے قوم کو اچھا پیغام جاسکتا تھا۔ کشمیر کے حوالے سے پیپلز پارٹی کا موقف ہمیشہ سے ایک جیسا رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان اگر کشمیر پر خود قرارداد پڑھتے تو اس سے مضبوط پیغام جاسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پانچ اگست کے بعد ہم نے سرخ لائن عبور نہیں کی۔ ہمیں مودی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنی چاہیے۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت کے غیر قانونی اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر ایک متنازعہ مسئلہ ہے، اس حوالے سے اسلامی ممالک کی خاموشی سے عالم اسلام میں مایوسی پھیل رہی ہے، اگر ہم مودی سرکاری کی چیرہ دستیوں پر خاموش رہے تو آئندہ ہم پر کوئی اعتبار نہیں کرے گا، کشمیر کے حوالے سے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے،،مسلمانوں کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کیا جارہا ہے کشمیریوں کا جرم بھی یہی ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔  شہباز شریف نے کہا کہ ایوان میں قرارداد کی منظوری کے بعد عثمان کاکڑ امیر جماعت اسلامی سراج الحق بات کرنا چاہتے تھے۔ ان کو بات نہیں کرنے دی گئی۔ فیٹف کے حوالے سے اہم قانون سازی ہوئی ہے۔ اس بل سے شاید کسی کو بھی اختلاف نہ ہوتا مگر پارٹی سربراہوں کو بات کرنے کا موقع نہ دے کر ماحول خراب کیا گیا۔ یہ پارلیمانی روایات کے برعکس ہے۔ پوری اپوزیشن اس پر سراپا احتجاج ہے۔۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہمیں پانچ اگست کو کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور یوم استحصال کے موقع پر اگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی حکومت ساتھ لے کر چلتی تو اس سے اچھا پیغام جاتا۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و وفاقی وزیر  مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کشمیر جس مسئلہ کو ہندوستان اپنا اندرونی معاملہ کہتا تھا عمران خان اس کو دنیا میں لے کر گیا، اقوام متحدہ میں ایک سال کے دوران تین دفعہ کشمیر پر بحث کی گئی،مسلم لیگ ن نے نہ صرف مودی کو شادی پر بلایا بلکہ سجن جندال کو بغیر ویزہ کے بلایا گیا جب وضاحت مانگی گئی تو کہا گیا ان سے ہمارے ذاتی تعلقاات ہیں، اپوزیشن لیڈر سمیت نواز لیگ کے اکثر اراکین  ایوان سے چلے گئے یہ کہتے ہیں  ہم سڑکوں کا نام کشمیر کے نام پررکھتے ہیں  جب راجیو گاندھی  آیا تھا  تو سڑکوں سے کشمیر کے بورڈ کس نے کس کے کہنے پر ہٹائے تھے، وزیراعظم عمران خان نے دو ٹوک الفاظ میں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر کشمیر کے مسائلے کو اٹھایا۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی وجہ سے ہمارا ملک گرے لسٹ میں چلا گیا ہماری حکومت کی بہترین کوششوں اور موثر اقدامات سے انشاء اللہ پاکستاان گرے لسٹ سے نکل آئیگا۔ مراد سعید کی تقریر جاری تھی کہ اپوزیشن نے شور شرابا کرنا شروع کردیا مولانا اسد محمود نے کہا چیئرمین صاحب ہم نے بھی بات کرنی ہے مراد سعید صاحب کشمیر پر نہیں صرف ا پوزیشن پر تنقید کررہے ہیں چیئرمین سینٹ نے مولانا اسد محمود کو بیٹھنے کی ہدایت کردی اس دوران چیئرمین پیپلز پارٹی بھی مراد سعید کی تقریر کے دوران اٹھ کر چلے گئے تو اس پر حکومتی اراکین نے او گیا او گیا کے نعرے لگانے شروع کردیئے مراد سعید نے اپوزیشن کے شور شرابے پر چیئرمین سینٹ کو کہا  میں اپنی تقریر پوری کرونگا اس کے بعد پھر یہ نہیں بول سکیں گے میں بلاول کی طرح بھگوڑا نہیں ہوں یہاں بات کرلوں گا مگر یہ نہیں کرسکیں گے اس بات پر اپوزیشن اراکین کی جانب سے گالم گلوچ کا سلسلہ شروع ہوگیا جس پر چیئرمین سینٹ نے بدمزگی پر اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا۔

متفقہ قرار داد

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) پارلیمنٹ نے میوچل لیگل اسسٹنس کریمنل میٹرزترمیمی بل2020ء کثرت رائے سے منظور کرلیا، میوچل لیگل اسسٹنس بل سیاسی نوعیت کے معاملات پر لاگو نہیں ہوگا، ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے ترامیم شامل کرنے پر بل کی حمایت جبکہ جے یوآئی ف، میپ، نیشنل پارٹی نے مخالفت کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرکی زیر صدارت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیرداخلہ اعجاز شاہ نے میوچل لیگل اسسٹنس کریمنل میٹرزترمیمی بل2020ء کا مسودہ پیش کیا۔ میوچل لیگل اسسٹنس کریمنل میٹرزترمیمی بل2020ء کی شق وار ترامیم کی منظوری دی گئی۔پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی ترامیم بل میں شامل کرنے پر دونوں جماعتوں نے بل کی حمایت کی۔جبکہ جے یوآئی ف، جماعت اسلامی، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی،نیشنل پارٹی، آزاد ارکان، محسن داوڑاور علی وزیر نے بل کی مخالفت کی۔وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن سے اتفاق ہوچکا ہے، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی ترامیم بھی بل میں شامل کرلی گئی ہیں۔پیپلزپارٹی کے آغا رفیع اور مسلم لیگ ن کے محسن شاہنواز رانجھا نے ترامیم شامل ہونے پر اپنی تجاویز واپس لے لیں۔ میوچل لیگل اسسٹنس بل سیاسی نوعیت کے معاملات پر لاگو نہیں ہوگا۔ پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر عمل کرنا پاکستان کی مجبوری ہے،ترامیم کے لئے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے کردار کا اعتراف کرتا ہوں، کاش دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی ایسا ہی رویہ دکھاتیں جو دو بڑی جماعتوں نے دکھایا۔،بھارت پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلنا چاہتا تھا۔ انہوں نے کہاکہ ایف اے ٹی ایف کے آخری اجلاس میں عالمی برادری نے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا لیکن انہیں پاکستان سے کچھ مزید ترامیم درکار تھیں،ترامیم کے لئے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے کردار کا اعتراف کرتا ہوں،آپ نے یہ حکومت کے لئے نہیں پاکستان کے لئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ کاش دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی ایسا ہی رویہ دکھاتیں جو دو بڑی جماعتوں نے دکھایا،حکومتیں مسئلہ کشمیر پہ ہمیشہ یکسوئی دکھاتی رہی ہیں،متفقہ قرارداد کی منظوری کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کے لئے خاص پیغام تھا،اظہار پہ کوئی پابندی نہیں ہے ان دو معاملات پہ کاروائی پہ ہم آہنگی تھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی تقریر کو طویل قرار دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ جمعرات کو اجلاس کے دور ان اپوزیشن ارکان نے شاہ محمود قریشی کی طویل تقریر پر احتجاج کیا،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی تقریر کے دوران اپوزیشن اراکین نے لقمہ دیا۔ اراکین نے کہاکہ اتنی لمبی تقریر کر رہے ہیں باقی ممبرز نے بھی بات کرنی ہے،چیئرمین سینیٹ نے سینیٹر مشاہداللہ خان کو خاموش کرا دیا۔

ترمیمی بل

مزید :

صفحہ اول -