احتساب جج ارشد ملک کی ریٹائرمنٹ کی درخواستیں مسترد، برطرفی کا نوٹیفکیشن جاری 

  احتساب جج ارشد ملک کی ریٹائرمنٹ کی درخواستیں مسترد، برطرفی کا نوٹیفکیشن ...

  

 لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کوالعزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں سزا سنانے والے جج محمدارشد ملک کی برطرفی کاباضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیاہے،نوٹیفکیشن کے مطابق محمد ارشد ملک کی طرف سے اپنی ریٹائرمنٹ کے لئے دی جانے والی درخواستیں بھی مسترد کر دی گئی ہیں،قبل ازوقت ریٹائرمنٹ کے لئے ارشد ملک نے پہلی درخواست 2جون 2020ء کو انکوائری افسر کو پیش کی تھی جبکہ انہوں نے دوسری درخواست لاہورہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی کے سامنے اپنی ذاتی شنوائی کے موقع پر 3جولائی 2020ء کو پیش کی تھی، لاہورہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی نے 3جولائی 2020ء کو محمد ارشد ملک کو قصور وار قراردیتے ہوئے ان کی برطرفی کی منظوری دی تھی جس کا اب باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیاگیاہے،نوٹیفکیشن کے مطابق ملزم جوڈیشل افسر ارشد ملک ویڈیو سکینڈل میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا،محمدارشد ملک کے خلاف مس کنڈکٹ کے الزامات کے تحت قانونی کارروائی کی گئی، انکوائری افسرجسٹس سردار احمد نعیم نے ملزم جوڈیشل افسر کوقصور وارقراردے کر انہیں نوکری سے برخاست کرنے کی سفارش کی، محمدارشد ملک کا انکوائری کے دوران موقف بھی سنا گیا اور رپورٹ انتظامی کمیٹی کو پیش کی گئی، نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ انکوائری رپورٹ کے بعد ملزم جوڈیشل افسر ارشد ملک کو عدالت عالیہ کی انتظامی کمیٹی کے روبرو ذاتی شنوائی کا موقع بھی فراہم کی کیا گیا اور تمام قواعد و ضوابط اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے ارشد ملک کو برطر ف کیا جاتا ہے،انکوائری رپورٹ کے مطابق  میاں نواز شریف کوالعزیزیہ سٹیل ملزریفرنس میں سزا سنانے والے احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد ارشد ملک نے ویڈیو سکینڈل میں اپنے دفاع کیلئے کوئی گواہ پیش نہیں کیا، ارشد ملک نے ایسا کوئی ثبوت نہیں دیا جس سے ظاہر ہو کہ انہیں نواز شریف کے ہمدردوں ناصر وغیرہ کی طرف سے خوفزدہ یا ہراساں کیا گیا تھا، ارشد ملک یہ بھی ثابت نہیں کر سکا کہ اس نے اپنی مرضی کے خلاف تمام متنازع کام کئے، ارشد ملک نے اپنا جرم تسلیم کیا مگر استدعا کی کہ اسے معاف کر دیا جائے اور برطرف کرنے کی بجائے اسے ریٹائرکردیاجائے،لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس سردار احمد نعیم نے انکوائری رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزم ارشد ملک نے ناصر بٹ سمیت دیگر سے ملنے والی دھمکیوں اور بلیک میلنگ سے متعلق کبھی بھی اپنے افسران کو آگاہ نہیں کیا، املزم جوڈیشل افسر کا ایک طرف کہنا کہ اسے بلیک میل کیا گیا اور دوسری طرف نواز شریف کیخلاف فیصلے کا آخری پیرا گراف ملزم کے موقف کی نفی کرتا ہے،رپوٹ کے مطابق ناصر بٹ، ناصر جنجوعہ اور مہر ناصر کی ملزم جوڈیشل افسر سے مسلسل ملاقاتوں سے ثابت ہوتا ہے ارشد ملک تک ان کی رسائی ہمیشہ سے تھی، شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ارشد ملک نے جرائم پیشہ گروہ میں رضا کارانہ طور پر شمولیت اختیار کی، میاں نواز شریف کیخلاف نیب ریفرنسز کا فیصلہ کرنے کے بعد جج ارشد ملک جاتی امراء میں نواز شریف سے ملا، اس نے کیسز کا فیصلہ کرنے کے بعد اس نے دوران عمرہ حسین نواز سے سعودی عر ب میں ملاقات بھی کی، جج ارشد ملک کے بقول وہ اپنے اہلخانہ کے ہمراہ عمرہ کرنے گیا اور ناصر بٹ نے پھر سے ملزم افسر سے رابطہ کیا اور حسین نواز سے ملاقات کروائی، جج ارشد ملک کی مدینہ میں حسین نواز شریف سے ملاقات کو اچانک نہیں قرار دیا جا سکتابلکہ یہ طے شدہ ملاقات تھی، ارشد ملک نے نواز شریف کیخلاف اپنے ہی جاری کئے گئے فیصلے پر تیار کی گئی اپیل کا جائزہ بھی خود لیا، املزم افسر ارشد ملک نے تسلیم کیا کہ 2000ء سے 2003ء میں ملتان تعیناتی کے دوران متنازع ویڈیو بنانے والے میاں محمد طارق سے جان پہچان ہوئی،جج ارشد ملک نے دباؤکے تحت ملاقاتیں کرنے کے بیان کے دفاع میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا،جج ارشد ملک کی نواز شریف، حسین نواز، ناصر بٹ سمیت دیگر کی ملاقاتوں کو اتفاقی قرار نہیں دیا جا سکتا، یہ ملاقاتیں ججوں کے ضابطہ اخلاق کی دفعہ 7، 30 اور 31 کی خلاف ورزی ہے، املزم جج ارشد ملک نے اپنے دفاع میں جتنی بھی دستاویزات پیش کیں وہ تمام غیر مصدقہ فوٹو کاپیاں پیش کیں جنہیں تسلیم نہیں کیا جا سکتا، جج ارشد ملک کیخلاف مس کنڈکٹ کا الزام ہے اور ملزم نے الزامات کی تردید نہیں کی بلکہ کہا کہ اس نے ملاقاتیں دباؤکے تحت کیں، جج ارشد ملک نے کہا ہے کہ وہ ایسا عمل نہیں کرنا چاہتا تھا کہ جو اس کے اہلخانہ کے لئے تکلیف کا باعث بنتا۔انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جج کے لئے اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے اپنی خود مختاری کو برقرار رکھنا لازم ہوتا ہے، ضابطہ اخلاق کی دفعہ 30 کے تحت کسی بھی جج کو کسی بھی فریق سے ملاقات یا رابطہ نہیں کرنا چاہئے، اجج ارشد ملک کا اپنے دفاع میں پریس ریلیز جاری کرنا بھی ضابطہ اخلاق کی دفعہ 7 کی خلاف ورزی ہے، جوڈیشل افسر ارشد ملک نے بیان حلفی میں مہر ناصر اور ناصر جنجوعہ کو اپنی پرانی جان پہچان والا تسلیم کیا ہے، احتساب عدالت میں تعینات کروانے کے حوالے سے ناصر جنجوعہ اور مہر ناصر کے کردار ادا کرنے کا ذکر بھی ملزم افسر کے بیان حلفی میں تحریر ہے،  ارشد ملک نے ناصر بٹ کی جانب سے ہراساں، بلیک میل اور دھمکیاں موصول ہونے کا ذکر کیا ہے لیکن کوئی ثبوت نہیں دیا۔ ملزم جج ارشد ملک کاکہنا ہے کہ استعفیٰ دینے کے لئے 500 ملین روپے کی آفر بھی کی گئی، اسے کہا گیا کہ وہ استعفیٰ دے اور کہے کہ نواز شریف کیخلاف فوج اور عدلیہ کے دباؤ پر ریفرنسز دائر کئے گئے، جج محمد ارشد نے پریس ریلز اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروایا گیا مصدقہ بیان حلفی بطور ثبوت پیش کیااوراپنے اوپر لگائے گئے مس کنڈکٹ کے الزامات ثابت نہ ہونے کا بیان دیا، جج ارشد ملک نے کہا کہ پراسکیوشن کے جبر اور سختی کی وجہ سے انہوں نے بیان حلفی اور پریس ریلیز جاری کیاتاہم اس نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دیئے گئے بیان حلفی اور پریس ریلیز جاری کرنے کے الزام کو کسی بھی سطح پر رد نہیں کیا، ارشد ملک نے پوری انکوائری میں کہیں بھی نہیں کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس سے بیان حلفی مانگا تھا، ارشد ملک نے مریم صفدر کی 6 جولائی 2019ء کی پریس کانفرنس کے بعد اپنی بے گناہی کی پریس ریلیز جاری کی، انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جج ارشد ملک پنجاب سول سرونٹس رولز کی دفعہ 3 بی کے تحت مس کنڈکٹ کے مرتکب پائے گئے، اپنجاب سول سرونٹس رولز کی دفعہ 4 بی کے تحت ارشد ملک کو نوکری سے برخاست کرنے کی سفارش کی جاتی ہے،،یادرہے کہ2018ء میں محمد ارشد ملک کی خدمات تین سال کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سپرد کی گئی تھیں،انہیں فروری 2018ء میں اسلام آباد احتساب عدالت کا جج مقررکیاگیا،انہوں نے احتساب عدالت کے جج کے طور پر 24 دسمبر 2018 ء کو میاں نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں 7سال قید،جائیدادکی ضبطی اورجرمانہ کے علاوہ 10سال کے لئے نااہلی کی سزا سنائی تھی جبکہ میاں نوازشریف کو فلیگ شپ ریفرنس میں بری کردیاتھا،ویڈیو سکینڈل سامنے آنے کے بعد اگست 2019ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی خدمات لاہورہائی کورٹ کو واپس کردی تھیں۔

ارشد ملک برطرف

 ا

مزید :

صفحہ اول -