سردار عثمان بزدار، مریم نوا ز نیب طلب، رمضان شوگر ملز کیس میں شہباز شریف، حمزہ شہباز پرفرد جرم عائد

سردار عثمان بزدار، مریم نوا ز نیب طلب، رمضان شوگر ملز کیس میں شہباز شریف، ...

  

 لاہور (سپیشل رپورٹر،جنرل رپورٹر) نیب لاہور نے پنجاب کی دو اہم شخصیات وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کو مختلف الزامات کے تحت طلب کرلیا۔ نیب لاہور نے مریم نواز کو گیارہ اگست اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو بارہ اگست کیلئے طلبی نوٹس جاری کرد ئیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نیب لاہور نے مریم نواز کو 200 ایکٹر اراضی مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے اپنے نام کروانے کے الزام میں طلب کیا ہے۔ مریم نواز پر الزام عائد ہے کہ انہوں نے 2014ء میں 200 ایکٹر اراضی کو گرین لینڈ ڈکلیئر کروا کر مذکورہ اراضی پر ہر قسم کی تعمیرات پر پابندی عائد کرواتے ہوئے اراضی اپنے نام منتقل کروا لی۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نیب لاہور اس سلسلے میں اُس وقت کے ڈپٹی کمشنر لاہور نور الامین مینگل اور ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کیخلاف بھی انکوائری کر رہا ہے۔ جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزد ار اور وزیراعلیٰ آفس پر الزام عائد ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے من پسند شخص کو ہوٹل کے ذریعے شراب فروخت کرنے کا غیر قانونی لائسنس جار ی کیا تھا۔معلومات کے مطابق سابق ڈی جی محکمہ ایکسائز لاہور نے سوئس رائل فائیو اسٹار ہوٹل ائیرپورٹ لاہور کووزیراعلی پنجاب عثمان بردار کے حکم پر گزشتہ سال شراب پرمٹ لائسنس جاری کیا جس کی بابت نیب نے وزیر اعلی پنجاب عثمان بردار کو 12 اگست کو طلب کیاہے۔ذرائع ایکسائز کے مطابق مذکورہ ہوٹل کی تعمیر ابھی جاری تھی تو محکمہ ایکسائز نے اسے پرمٹ جاری کر دیا حالانکہ محکمہ ایکسائز کے رول کے مطابق ہو ٹل کو 5سال تک پرمٹ جاری نہیں کیا جاتا۔ 5سال گزرنے کے بعد عارضی پرمٹ جاری کیا جاتاہے جبکہ10 سال بعد ریگولر پرمٹ جاری کیا جاتاہے۔ ذرائع کے مطابق اس ہو ٹل کا مالک منڈی بہاؤالدین کا رہائشی ہے جس کے سیاسی جماعتوں سے قریبی تعلقات ہیں۔ سابق ڈی جی ایکسائز  اکرم اشرف گوندل نے 2019 میں پرمٹ کی سمری وزیر اعلی پنجاب عثمان بردار کو بھیجی تھی جو انہوں نے منظورکر لی۔ذرائع کے مطابق ڈی جی اکرم اشرف گوندل نے ہو ٹل مالک سے مبینہ طور پر 5 کروڑ روپے رشوت لی تھی۔ذرائع کا مزید کہنا ہے سابق ڈی جی ایکسائز اکرم اشرف گوندل نے بیرون ملک رفو چکر ہونے کی تیاریاں پکڑ لی ہیں۔ نیب لاہور نے مذکورہ دونوں حکومتی اور اپوزیشن کی شخصیات کو طلب کرتے ہوئے ٹھوکر نیاز بیگ پر واقع نیب آفس کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کی پیشی کے روز کسی غیر متعلقہ شخص کو نیب آفس میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔نیب نے 2 سو کنال اراضی کیس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کیلئے پیشی کے موقع سوال نامہ بھی تیار کرلیا، جس میں زمین کی خرید و فروخت کی تمام تفصیلات طلب کی گئی ہے۔ سوالنامہ کے مطابق زمین کی خریداری کیلئے فنڈز کب اور کہاں سے مینج ہوئے اور مذکورہ اراضی کی خریداری کیلئے ڈیوٹی،ٹیکس کی تفصیلات،اراضی میں سے کوئی حصہ فروخت کیا گیا، اراضی ایگریکلچر یاکمرشل استعمال میں آئی توتفصیلات دی جائیں، ذرائع کے مطابق 2014ء میں رائیونڈ میں مریم نواز کے نام 2 سو ایکٹر زمین منتقل کی گئی،100 کنال زمین شہباز شریف اور 100 کنال زمین نواز شریف کے نام منتقل کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے زمین کی منتقلی میں ایل ڈی اے کے قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیا گیا، شریف فیملی کی اراضی کے ارد گرد تعمیرات کو روکنے کیلئے اراضی کو گرین لینڈ قرار دیا گیا۔نیب کی جانب سے سابق ڈی جی ایل ڈی اے احمد چیمہ اور سابق ڈی سی او لاہور نور امین مینگل سے بھی تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا۔

نیب طلبی

لاہور(نامہ نگار)احتساب عدالت کے جج امجد نذیرچودھری نے رمضان شوگر ملز ریفرنس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور ان کے صا حبزادے حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد کردی،دونوں ملزمان نے صحت جرم سے انکار کر دیا۔ عدالت نے 27 اگست کو وکلاء سے دلائل طلب کرلیے جبکہ گواہوں کو شہادتوں کیلئے بلالیااور کیس کی مزیدسماعت 27 اگست تک ملتوی کردی،کیس کی سماعت شروع ہوئی تو شہباز شر یف کے وکیل کی جانب سے فرد جرم عائد کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے مہلت کی استدعا کی گئی جسے عدالت نے مسترد کر دیا،رمضان شوگر ملز ریفرنس کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز اپنے وکلاء کے ہمراہ عدالت کے روبرو پیش ہوئے اورصحت جرم سے انکارکیا، شہباز شریف نے عدالت کے روبرو بیان قلمبند کرواتے ہوئے کہا اورنج لائن ٹرین میں 100 ارب روپے بچائے تو کیاگندے نالے کی رقم میں جھگ ماروں گا،گنہگار انسان ہوں گا مگر عوام کی خدمت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی، شہباز شریف نے مزید کہا پراسکیوشن جو چاہے بو لیں مگر ان کو اپنے دلوں میں پتہ ہے حقیقت کیا ہے، میں آپ کو کیا کیا مثالیں بتاؤں، ایک طرف میں ٹی اے ڈی اے نہ لوں اور گندے نالے کی رقم میں کرپشن کروں گا؟پنجاب کے عوام کی 10 سال خدمت کی، سرکاری دورے کئے مگر کرورڑوں روپے کے ٹی اے ڈی اے چھوڑے، اپنی گاڑی کیلئے پٹرول کبھی نہیں لیا، اس گندے نالے کی قیمت 20 کروڑ روپے ہے جس کا الزام مجھ پر لگایا جا رہا ہے، عدالت نے آئندہ سماعت پر گواہوں کو بیان قلمبند کروانے کیلئے طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

فرد جرم عائد

مزید :

صفحہ اول -