بھارت کی سفارتی پسپائی، سلامتی کونسل کا اجلاس، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اظہار تشویش 

بھارت کی سفارتی پسپائی، سلامتی کونسل کا اجلاس، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر ...

  

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) عالمی سطح پر بھارت کو ایک اور بڑی سفارتی پسپائی کا سامنا کرنا پڑ گیا، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بند کمرہ اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر غور کیا گیا،پاکستان کی درخواست پر بلائے گئے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کونسل کے ممبران نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا علاقائی امن و استحکام کو مشترکہ طور پر برقرار رکھنے کیلئے متعلقہ فریق روابط برقرار رکھیں گے،کونسل نے باہمی معاملات کو باہمی طور پر حل کرنے پر بھی زور دیا۔جبکہ اقوام متحدہ میں عوامی جمہوریہ چین کے مستقل مشن کے ترجمان نے سلامتی کونسل کی کشمیر سے متعلق بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا مسئلہ کشمیر کی صورتحال میں مزید اضافے کا خطرہ ہے،مسئلہ 7 دہائیوں سے حل طلب تنازع ہے جس کا حل اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور دوطرفہ معاہدے کے مطابق پرامن اور مناسب طریقے سے نکلنا چا ہیے، تفصیلات کے مطابق 5 اگست کو سلامتی کونسل نے کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، اقوام متحدہ کے سیکریٹریٹ کی جانب سے کشمیر کی موجودہ صورتحال، ہندو ستان اور پاکستان میں اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ(UNMOGIP) کے کام کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندہ سفیر جانگ جون نے اجلاس میں چین کا اصولی موقف دہراتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سال5 ا گست کوہندوستان نے یکطرفہ طور پر کشمیر کی جمہوری حیثیت کواقوام متحدہ چارٹر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تبدیل کیا ، جس سے خطے میں تنا ؤکا سامنا کرنا پڑا، ایک سال گزرنے کے بعد اس میں کوئی بنیادی بہتری نہیں آسکی، مسئلہ کشمیر کی صورتحال میں مزید اضافے کے خطرہ ہے، چین کشمیر کی مو جو دہ صورتحال اور متعلقہ فوجی کارروائیوں پر سنجیدہ ہے، چین یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتا ہے جو صورتحال کو پیچیدہ بنادے گی۔ سلامتی کونسل کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تناؤ کو کم کرنے اور متعلقہ امور کو صحیح طریقے سے حل کرنے میں مدد کرے، عالمی برادری مسئلہ کشمیر پر انتہائی تشویش میں مبتلا ہے،سلامتی کونسل کو مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا،  ہندوستان اور پاکستان دونوں چین کے دوست ہمسایہ اور ترقی کے ایک نازک مرحلے پر بڑے ترقی پذیر ممالک ہیں۔ چین دونوں ممالک کیساتھ بڑھتے ہوئے دوستانہ تعلقات کیلئے پرعزم ہے، خطے کے امن و استحکام کو برقرار رکھنے کیلئے تنازع کشمیر کا اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق پائیدار حل ضروری ہے۔

سلامتی کونسل

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،نیوز ایجنسیاں)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سکیورٹی کونسل میں ایک سال میں تیسری بار مسئلہ کشمیر زیربحث آیا، یہ مباحثہ 5 اگست کے اہم دن منعقد ہوا، جو پاکستان کیلئے ایک اورسفارتی کامیابی ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر،سکیورٹی کونسل میں ایک سال میں تیسری بارزیربحث آیا،ا یسا پہلے کبھی نہیں ہوا، بھارت نے کوشش کی کہ یہ مباحثہ نہ ہونے پائے مگراسے ناکامی ہوئی۔ صدرسلامتی کونسل کوخط میں کہا تھا مقبوضہ جموں وکشمیرکی صورتحال بگڑ رہی ہے، بھارت نے پورے خطے کے امن و امان کو داؤ پر لگا دیا ہے، مسئلے کو فوری زیربحث لایاجائے،ہم شکرگزارہیں ہماری درخواست کے 72گھنٹے کے اندراس مسئلہ پر سیر حاصل بحث ہوئی۔شاہ محمود قریشی نے کہا پندرہ میں سے14ممبر ممالک نے بحث میں حصہ لیا، بھارت کے تاثرکی نفی ہوئی کہ یہ دوطرفہ یااندرونی مسئلہ ہے، سلامتی کونسل کے ایجنڈ ے نے اضح کر دیا یہ عالمی نوعیت کا مسئلہ ہے، 55برس کے بعد یہ مسئلہ تیسری مرتبہ سلامتی کونسل میں زیر بحث آیا، دیکھنے کی بات یہ ہے کہ مباحثہ 5 اگست کے اہم دن منعقد ہوا، یہ اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان کیلئے ایک اور سفارتی کامیابی ہے، کشمیر کے معاملے پر پوری قوم نے اتفاق کیا۔ بھارتی جرائم کیخلاف آواز اٹھانے پر پاکستان سلامتی کونسل کے رکن ممالک بالخصوص چین کا شکر گزار ہے۔

شاہ محمود

مزید :

صفحہ اول -