امریکی وزیر صحت کا دورہ تائیوان، چین امریکہ تعلقات کو نیا جھٹکا، 41برس بعد امریکہ کا  پہلا جارحانہ اقدام 

امریکی وزیر صحت کا دورہ تائیوان، چین امریکہ تعلقات کو نیا جھٹکا، 41برس بعد ...

  

 صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منتخب ہو کر صدارت کا حلف اٹھانے سے قبل ہی تائیوان کی طرف جھکاؤ کا اظہار کر کے مین لینڈ کمیونسٹ چین پر جو سفارتی جارحیت کی تھی وہ کسی نہ کسی شکل میں وقتاً فوقتاً جاری رہی۔ پہلے تجارتی مسائل تھے پھر کرونا وائرس کے آغاز اور پھیلاؤ کے حوالے سے حقائق کو چھپانے کے امریکی الزامات سے دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے۔ تجارتی سمجھوتہ ہونے سے تجارتی معاملات حل نہیں ہوئے لیکن اس سے کشیدگی خاصی کم ہو گئی۔ تاہم کرونا وائرس کے حوالے سے عدم اعتماد کی فضاء اس وقت برقرار ہے۔ اس پس منظر میں اتوار کے روز امریکی وزیر صحت ایلیکس آذر نے تائیوان کا جو دورہ کیا اسے سیاسی مبصرین دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کے تمام اسباب میں سب سے زیادہ خطرناک قرار دے رہے ہیں اور یہ ایسی چنگاری ہے جو سلگتے سلگتے ایک بڑی جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ ذرا دیکھتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے دور میں امریکہ کے چین کے ساتھ تعلقات میں کیسے کیسے کس مرحلے میں بگا ڑ پیدا ہوا۔ نامزد صدر ٹرمپ نے حلف اٹھانے سے پہلے ہی جنوری 2017ء میں تائیوان کے ساتھ طویل عرصے سے قائم ”سفارتی ضابطوں کی کتاب“ کو ایک طرف پھینکتے ہوئے تائیوان کے صدر کی ٹیلی فون کال وصول کر لی۔ اس طرح امریکہ 1979ء میں چین کے ساتھ تعلقات کے حق میں تائیوان سے تعلق ختم کرنے کی جس پالیسی پر عمل پیرا تھا دس منٹ کی اس ٹیلی فون کال نے چین کے ساتھ تعلق کو کرچی کرچی کر دیا۔ یہیں پر بس نہیں صدر ٹرمپ نے چند دن بعد یہ سوال اٹھایا کہ کیا امریکہ کو ”ایک چین پالیسی“ پر پابند رہنے کی ضرورت بھی ہے یا نہیں؟ تاہم ہمیشہ کی طرح رنگ بدلنے والے صدر ٹرمپ نے بعد میں تائیوان کو نظر انداز کر کے چین کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لے آئے۔ بعد میں تجارتی مسائل اور کرونا وائرس کے آغاز اور پھیلاؤ پر شدید عدم اعتماد سے گزرتے ہوئے اب امریکی وزیر صحت کے تائیوان سے دورے نے چین کو یقینا شدید ناراض کیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اس اقدام نے چین کے ساتھ تعلقات میں خرابی کا جو تازہ سبب فراہم کیا ہے اسے سیاسی مبصرین بلاوجہ خطرناک نہیں قرار دے رہے۔چینی کمیونسٹ پارٹی کے قوم پرست جریدے ”گلوبل ٹائمز“ نے گزشتہ روز اپنے ادارے میں واضح طور پر کہا ہے کہ اب اس پر چین اپنا ”فوجی کارڈ“ کھیل سکتا ہے۔ یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ چین اس نئے امریکی اقدام پر کس طرح کے ردعمل کا اظہار کر سکتا ہے۔ بہرحال تازہ صورتحال کے مطابق امریکہ اور چین کے تعلقات بگاڑ کے اس مرحلے پر پہنچ گئے ہیں جن کے بہتر ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔

مزید :

صفحہ اول -