راجن پور:محکمہ تعلیم میں تبادلے، معاملے کی انکوائری شروع 

  راجن پور:محکمہ تعلیم میں تبادلے، معاملے کی انکوائری شروع 

  

 جام پور (نامہ نگار ) عید سے ایک روز ضلع راجن پور میں کئی سالوں سے ایک ہی سیٹ پر تعینات 70کلرکوں کے تبادلے سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں  کیے گئے۔(بقیہ نمبر27صفحہ6پر)

 ڈپٹی کمشنر راجن پور کے حکم پر تبادلے روکے جانے کے بعد ڈیڈ لاک برقرار۔ اپیکاء ایجوکیشن کے صدر اور ضلع صدر محمد اسلم چانڈیہ کی سربرائی میں وفد نے ڈپٹی کمشنر راجن پور کو تمام تر صورت حال سے اگاہ کرتے ہوئے درخواست میں موقف اپنایا کہ تبادلوں میں ڈی ڈی او پاور کو اعتماد میں لیے بغیر۔ اور قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے من پسند کلرکوں کو نوازہ گیا۔ ایسے کلرک جن پر کرپشن کے الزامات تھے ان کو تبدیل کرنے کی بجائے ان کو تحفظ دیا گیا۔۔ ڈپٹی کمشنر راجن پور نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راجن پور ظہور حسین بھٹہ۔ ڈی ایم او راجن پور کو انکوری افسر مقرر کرکے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ دوسری طرف اپیکاء نے اپنے موقف میں بتایا کہ وکلاء سے قانونی مشاور ت مکمل کرلی۔ رپورٹ کے بعد ہڑتال تحریک یاعدالت سے رجوع کرنے سمیت دیگر اپشن موجود ہیں۔ تاہم کسی بھی افسر کو قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیں گے۔ سی ای او تعلیم ثناء اللہ سہرانی نے موقف میں بتایا کہ میرٹ پر قانون اور قواعد کو مدنظر رکھ کرکے تبادلے کیے گئے تاہم کسی کے ساتھ کوئی عداوت نہ ہے بلکہ میرا کام کلرکوں کو سہولیات باہم پہنچانا ہے۔ انکوری رپورٹ کے بعد دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔ دوسری طرف کلرکوں نے سیاستدانوں کو شامل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ہے۔ دوسری طرف سنجیدہ حلقے حکومتی رٹ کو بحا ل رکھتے ہوئے تبادلوں پر عمل درامد کا مطالبہ کیا ہے۔ اگر مافیاء کو منطقی انجام تک نہ پہنچایا گیاتو کوئی افسرکام نہیں کر سکے گا۔حکومتی رٹ بحال کرنا مشکل ہو جائے گی۔  

انکوائری شروع

مزید :

ملتان صفحہ آخر -