مہمند میں انتظامیہ جعلی لیزوں کو پروان چڑھانے پر تلی ہے: شیخ بابا عوام 

مہمند میں انتظامیہ جعلی لیزوں کو پروان چڑھانے پر تلی ہے: شیخ بابا عوام 

  

  مہمند(نمائندہ پاکستان)انتظامیہ جعلی لیزوں کو پروان چڑھنے پر تلی ہوئی ہے شیخ بابا کے تمام قبیلے جعلی لیز یکسر مسترد کرتے ہیں۔معدنیات معاہدوں  کیلئے تشکیل کردہ قومی دس رکنی کمیٹی کے تصدیق کئے بغیر باقی لیز جعلی تصور ہونگے۔علاقے کے معدنیات کی حصول کیلئے بعض سرکاری اہلکاروں کے ملی بھگت سے دوسرے اضلاع  کے عناصر سرگرم ہیں۔حکومت تعاو ن کر یں ورنہ منرل آفس اورگورنر ہاوٗس کے سامنے دھرنے دینگے۔شیخ بابا عوام کا  پریس کانفرنس،پاک افغان سرحد پر واقع تحصیل صافی شیخ بابا تینوں قبیلوں کے لوگوں،شیخ فقیر،عبدالرحمن اور داوٗدخان ود یگر نے مہمند پریس کلب میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا۔کہ شیخ بابا کے تمام پہاڑ علاقے کے تین بڑے قبیلوں،شیخان،سلیمان خیل،اور مولا خیل کے مشترکہ ملکیت ہیں۔جبکہ یہ تین بڑے قبیلے ذیلی اٹھارہ چھوٹے قبیلوں پر مشتمل ہیں۔جنہوں نے علاقے میں موجود مختلف معد نیات کے معاہدوں کیلئے 2002ء میں باقاعدہ دس رکنی کمیٹی تشکیل دیا ہے۔جوکہ علاقے کے معدنیات کے معاہدے باہمی اتفاق اور سنجیدگی سے ٹھیکداروں کے ساتھ کر رہے ہیں۔جن میں تاحال 23کانوں پرکام مختلف مراحل میں جاری ہیں۔ جس پر شیخ بابا کے تین قبیلے متفق ہیں۔جبکہ اب کچھ مفاد پرست عناصروں نے کمیٹی کے بغیر بعض سرکاری اہلکاروں، عوامی نمائندوں کے ملی بھگت سے جعلی لیز کے کاغذات بناکر علاقے کے معدنیات پر ناکام کوشش کررہے ہیں۔مگر علاقے کے جملہ اقوام دس رکنی کمیٹی کے دستخطوں کے بغیرتمام لیز جعلی تصور کرتے ہیں۔اور کمیٹی سے ہٹ کر باقی تمام لیز یکسر مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے واضح کیا۔کہ جعلی لیزوں میں ایک بندے نے دس دس انگوٹھے چھاپ دی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہمارے مطالبات پر عمل نہ ہوئے تو منرل آفس اور گورنر ہاوٗس کے سامنے دھرنے دینگے۔جبکہ حکومت دس رکنی قومی کمیٹی سے تصدیق شدہ ٹھیکداروں کو لیز فوری جاری کریں۔کہ وہ اپنے کانوں پر جلدکام شروع کریں۔اور انتظامیہ پسماندہ علاقے کے تعمیر وترقی پر توجہ دیں۔کیونکہ دور جدید میں بھی علاقہ تعلیم،صحت اور آبنوشی جیسے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔اور علاقے کے پانچ بڑے گاوٗں تاحال بجلی کی رسد نہیں ہوا ہے۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -