سندھ میں بارشیں: وزیراعلی نے وزراء کی ڈیوٹی لگا دی 

سندھ میں بارشیں: وزیراعلی نے وزراء کی ڈیوٹی لگا دی 

  

 کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے پاکستان میٹرولوجیکل سینٹر کی جانب  سے بارشوں کے حوالے سے  کی گئی پیش گوئی کے پیش نظر  مختلف اضلاع میں مانیٹرنگ / نگرانی اور امدادی سرگرمیاں انجام دینے کے لئے صوبائی وزرا، مشیران، خصوصی معاونین اور ایم پی ایز کو  ہدایت کی ہے  کہ وہ مختلف اضلاع میں ریلیف کے لیے  اقدامات کریں۔محکمہ موسمیات  کی پیش گوئی کے مطابق 6 اگست 2020 کو مون سون کی تیز بارشوں کا سلسلہ سندھ میں داخل ہوجائے گا۔ موسمی صورتحال کے مطابق کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، سجاول، بدین، تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص، سانگھڑ، ٹنڈو الہ یار، مٹیاری، ٹنڈو محمد خان، جامشورو، دادو اور شہید بینظیر آباد میں 6 سے 8 اگست 2020  تک بارشیں  ہوں گی، سکھر، لاڑکانہ اور قمبر شہدادکوٹ میں بھی گرج چمک کے ساتھ  بارش  کا امکان ہے۔ 7 سے 8 اگست تک جیکب آباد، کشمور، گھوٹکی میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ وزیراعلی سندھ نے میٹ آفس ایڈوائزری کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی وزرا، مشیران، خصوصی معاونین اور ایم پی ایز کو 6 سے 8 اگست تک اپنے  اضلاع میں امدادی سرگرمیوں کی نگرانی اور ریلیف کے کام کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔  وزیر اعلی سندھ نے وزیر بلدیات سید ناصر شاہ کو صوبائی سطح پر انچارج مقرر کیاہے۔ وزرا، مشیران، خصوصی معاونین اور ایم پی ایز جن کو اضلاع میں بارش کی ہنگامی صورتحال کی نگرانی اور امدادی سرگرمیاں انجام دینے کے لئے ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں وہ اس طرح سے ہیں: سعید غنی کراچی ضلع شرقی، راشد ربانی ضلع غربی، مرتضی  وہاب ضلع جنوبی، شہلا رضا  ضلع وسطی، مکیش چاولہ کورنگی، وقار مہدی ملیر، شبیر باعرانی حیدرآباد، ملک اسد سکندر جامشورو، فیاض بٹ دادو، مخدوم محمود زمان مٹیاری، قاسم نویدٹنڈو محمد خان، امداد پتافی ٹنڈوالہ یار، اعجاز شاہ شیرازی  سجاول، اسماعیل را بدین، اشفاق میمن ٹھٹھہ، ڈاکٹر عذرا پیچو  بینظیرآباد، فراز ڈیرو سانگھڑ، ممتاز چانڈیو نوشہروفیروز، ہری رام  میرپورخاص، تیمور تالپورعمرکوٹ، سید سردار شاہ تھرپارکر، اویس قادر شاہ سکھر، نواب وسان  خیر پور، جام اکرام گھوٹکی، سہیل انور سیال قمبر / شہدادکوٹ  اور لاڑکانہ، اعجاز جھکرانی جیکب آباد  اور کشمور، امتیاز شیخ شکار پور میں اپنے فرائض انجام دیں گے۔ وزیراعلی سندھ نے حکومتی نمائندوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے متعلقہ اضلاع میں چلے جائیں جہاں انہیں امدادی سرگرمیوں کا کام سونپا گیا ہے اور انہیں مسلسل صورتحال سے آگاہ رکھیں۔

مزید :

صفحہ اول -