مہران ٹاؤن میں پلاٹوں پر قبضے کیلئے لینڈ مافیا سرگرم

  مہران ٹاؤن میں پلاٹوں پر قبضے کیلئے لینڈ مافیا سرگرم

  

کراچی (نامہ نگار خصوصی)کورنگی کے علاقے میں واقع مہران ٹاون پر ایک عرصے سے لینڈ مافیا اوور سیز پاکستانیوں کو الاٹ کردہ پلاٹوں و دیگر خالی جگہوں کوپر کرنے کے لئے برسر پیکار ہے،تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اوورسیز پاکستانیوں کے لئے اسکیم کا اعلان کیا،اسکیم میں 240گز،400،600اور 1000ہزار گز کے رہائشی اور انڈسٹریل پلاٹ اوور سیز پاکستانیوں کے لئے جبکہ باقی چھوٹے پلاٹ کے ڈی اے اسکیم کا حصہ بنے،ہزاروں کی تعداد میں پلاٹ الاٹ ہوئے،لیکن قبضہ مافیا نے کے ڈی اے افسران کی آشیر باد سے متعدد پلاٹوں پر قبضے کئے،اصل مالکان کوڈرا دھمکا کر بھگایا گیا،بیشتر اراضی پر چائنا کٹنگ کرکے پلاٹ فروخت کردئے گئے،جو بچ گئے ان پر ہاتھ صاف کرنے کے لئے پولیس،کے ڈی اے  کے افسران اور سیاسی شخصیات کا نام استعمال کرکے جرائم پیشہ عناصر سرگرم ہوگئے ہیں۔ڈی جی کے ڈی اے آصف اکرام کو ملنے والی بیشتر شکایات میں مہران ٹاون کے اوورسیز پلاٹوں کو جعلسازی کے ذریعے دوسرے لوگوں کے نام منتقل کرنے،فائلیں غائب کرنے اور قبضوں کا ذکر ہے،کے ڈی اے میں چونکہ سیکیورٹی کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں اسی وجہ سے غیر متعلقہ افرادبے دھڑک مکھیوں کی طرح ڈائریکٹر لینڈ منیجمنٹ کے دفتر کے اندر اور باہر نظر آتے ہیں،یہ بھی شکایت ہے کہ بیشتر لینڈ گریبرز اور اسٹیٹ بروکرز نے سرکاری دفاتر کو ذاتی استعمال میں لانا شروع کردیا ہے،کے ڈی اے کے سی سی ٹی وی کیمرے تمام حرکات کو محفوظ کررہے ہیں،اینٹی کرپشن کی ٹیمیں گزشتہ بیس برسوں درجنوں بار چھاپے مار کر اپنا کام پورا کرچکی ہیں۔ذرائع  کے مطابق اوورسیز پاکستانیوں کے قیمتی پلاٹ ہڑپ کرنے کے لئے پوری مافیا سرگرم ہے۔سرکاری دفاتر میں بروکرز کے کہنے پر پلاٹ منسوخ کرنے اور فائلیں غائب کرنے کا ایک جادوئی سلسلہ جاری ہے۔اوورسیز پاکستانی فاونڈیشن ذمہ داروں نے مہران ٹاون میں اوورسیز پلاٹوں بارے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ جب صوبائی حکومت ہی مافیا کے ساتھ مل جائے جو تواصل حقدارکیا کرسکتا ہے،فاونڈیشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت میں موجود وزرا اور کے ڈی اے کے کرپٹ افسران اب بھی باز نہ آئے اور صراط مستقیم کا راستہ نہ اپنایا تو مجبورا فاونڈیشن صوبائی حکومت کو زمہ دار ٹھراتے ہوئے سپریم کورٹ کا دروازہ ایک بار پھر کھٹکھٹائے گی۔

مزید :

صفحہ آخر -