بیروت میں پھٹنے والا دھماکہ خیز مواد دراصل کس کاروباری کا تھا؟ تفصیلات سامنے آگئیں

بیروت میں پھٹنے والا دھماکہ خیز مواد دراصل کس کاروباری کا تھا؟ تفصیلات سامنے ...
بیروت میں پھٹنے والا دھماکہ خیز مواد دراصل کس کاروباری کا تھا؟ تفصیلات سامنے آگئیں

  

بیروت(مانیٹرنگ ڈیسک) لبنان کے دارالحکومت بیروت کی بندرگاہ پر گزشتہ دنوں ایک خوفناک دھماکہ ہوا جس سے پورا شہر لرز اٹھا اور ہر طرف تباہی پھیل گئی۔ یہ دھماکہ بیروت کی بندرگاہ کے ایک ویئرہاﺅس میں رکھے گئے 2ہزار 750ٹن امونیم نائٹریٹ کے آگ پکڑنے سے ہوا۔ اتنی بڑی مقدار میں وہاں امونیم نائٹریٹ کیوں ذخیرہ کیا گیا تھا اور یہ کس کی ملکیت تھا، اب اس حوالے سے اہم انکشاف سامنے آ گیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق امونیم نائٹریٹ کی یہ کھیپ دراصل ایک روسی کاروباری شخص کی تھی۔ اس شخص کا نام آئیگور گریخشکین ہے۔ 

آئیگور یہ امونیم نائٹریٹ جارجیا سے مشرقی افریقہ کے ملک موزمبیق لیجا رہا تھا کہ بحری جہاز کو لبنان میں روک لیا گیا اور امونیم نائٹریٹ ضبط کر لی گئی۔ یہ واقعہ ستمبر 2013ءکا ہے۔ جہاز سے امونیم نائٹریٹ اتار کر بیروت کی بندرگاہ کے ویئرہاﺅس 12میں سٹور کر دی گئی اور تب سے یہ وہیں انتہائی غیرمحفوظ طریقے سے رکھی جا رہی تھی۔ لبنانی حکومت کے ایماءپر قبرص کے تفتیش کاروں نے آئیگور سے تفتیش بھی کی ہے تاہم وہ بے گناہ ثابت ہوا ہے کیونکہ اگرچہ یہ امونیم نائٹریٹ اس کی ہی ملکیت تھی لیکن لبنانی حکام نے خود اسے ضبط کیا تھا اور اس کے بعد اس کو مناسب طریقے سے سٹور کرنا انہی کی ذمہ داری تھی۔

منگل کی شام ویئرہاﺅس 9میں آگ لگی جو اس امونیم نائٹریٹ تک پہنچ گئی اور دھماکہ ہو گیا، جسے چھوٹے درجے کا ایٹمی دھماکہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس نے جاپان کے شہر ہیروشیما پر گرائے گئے ایٹم بم سے محض 5گنا کم تباہی مچائی ہے۔ لبنانی حکومت نے بندرگاہ کی سکیورٹی کے تمام ذمہ داران کو ان کے گھروں میں نظربند کر دیا ہے اور ان کے خلاف مقدمہ چلانے کا عندیہ دیا ہے تاہم ان کسٹمز اور سکیورٹی افسران کی طرف سے الٹا حکومتی عہدیداروں کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی بار حکومت کو اس امونیم نائٹریٹ کے خطرے سے آگاہ کیا لیکن حکومت کی طرف سے اسے بندرگاہ سے ہٹانے کے لیے کچھ نہیںکیا گیا۔

واضح رہے کہ اس دھماکے سے شہر کی 50فیصد سے زائد عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے اور 3لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ اب تک 150افراد کے ہلاک اور 5ہزار سے زائد زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے اور ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ سینکڑوں لوگ تاحال لاپتہ ہیں۔یہ دھماکہ اس قدر خوفناک تھا کہ جس ویئرہاﺅس میں یہ دھماکہ ہوا اس کا نام و نشان مٹ گیا اور اردگرد کی 50سے زائد بلند و بالا عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔

مزید :

بین الاقوامی -