کیا سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہیں؟شاہ زیب خانزادہ کے سوال پر شاہ محمود قریشی نے جواب دے دیا ،اپنے بیان کی بھی وضاحت کردی 

کیا سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہیں؟شاہ زیب خانزادہ کے سوال پر ...
کیا سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہیں؟شاہ زیب خانزادہ کے سوال پر شاہ محمود قریشی نے جواب دے دیا ،اپنے بیان کی بھی وضاحت کردی 

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سعودی عرب ہمارا محسن ہے ،ہر مشکل وقت میں ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ،ہم سعودی سر زمین کے دفاع کے لیے اپنی جان دینے کو تیار ہیں،سعودی عرب کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں ،اس بنیاد پر یہ بات کی تھی ۔نجی نیوز چینل جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم سعودی عرب کے لیے کل بھی حاضر تھے ،آج بھی حاضر ہیں ،سعودی عرب کے ساتھ کوئی کشیدگی نہیں ،دونوں ممالک کے درمیان عمدہ اور ٹھوس تعلق ہے ۔شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں ،کشمیر میں بھارتی قابض فوج مظالم ڈھا رہی ہے ،جن ممالک سے تعلقات اچھے ہوں ،تقاضا ان ہی سے کیا جا تا ہے ،اس بنیاد پر میں نے یہ بات کی تھی ۔

واضح رہے کہ شاہ محمود قریشی نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے ایک پروگرام میں کہا تھاکہ میں آج اسی دوست کو کہہ رہا ہوں کہ پاکستان کا مسلمان اور پاکستانی جو آپ کی سالمیت اور خود مختاری کے لیے لڑ مرنے کے لیے تیار ہیں آج وہ آپ سے تقاضا کر رہے ہیں کہ آپ وہ قائدانہ صلاحیت اور کردار ادا کریں جس کی امت مسلمہ آپ سے توقع کر رہی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ او آئی سی آنکھ مچولی اور بچ بچاو کی پالیسی نہ کھیلے۔ انہوں نے کہا تھا کہ کانفرنس کی وزرائے خارجہ کا اجلاس بلایا جائے اگر یہ نہیں بلایا جاتا تو میں خود وزیر اعظم سے کہوں گا کہ پاکستان ایسے ممالک کا اجلاس خود بلائے جو کشمیر پر پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ان کے مطابق یہ اجلاس او آئی سی کے پلیٹ فارم یا اس سے ہٹ کر بلایا جائے۔شاہ محمود قریشی نے اپنے ایک جملے میں لفظ ’ورنہ‘ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ میرا نکتہ نظر ہے، اگر نا کیا تو میں عمران خان صاحب سے کہوں گا کہ سفیرِ کشمیر اب مزید انتظار نہیں ہو سکتا، ہمیں آگے بڑھنا ہو گا ود اور ود آوٹ۔جب میزبان نے سوال پوچھا کہ پاکستان ’وِد اور ودآوٹ` سعودی عرب کے اس کانفرنس میں شریک ہو گا تو شاہ محمود قریشی نے ایک توقف سے جواب دیا کہ ’ود اور ود آوٹ‘۔

مزید :

قومی -